پولیس دستہ کی سلامی‘ارکان شاہی خاندان‘حکام اعلیٰ سمیت سینکڑوں افراد شریک
‘چو محلہ پیالیس میں لاکھوں افراد نے آخری دیدار کیا
حیدرآباد:۔18/جنوری
(زین نیوز بیورو)
سابق ریاست حیدرآباد دکن کے آخری فرمانرواآصف سابع نواب میر عثمان علی خان بہادر کے پوتے اور پرنس آف برار میر حمایت علی خان اعظم جاہ بہادر و شہزادی درشہوار کے فرزند آصف جاہ ثامن نواب میر برکت علی خان صدیقی
والاشان مکرم جاہ بہادر کو آج بادیدہ نم لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں شہرحیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں واقع مقابر آصفیہ میں ان کے والد پرنس آف برار نواب میرحمایت علی خان اعظم جاہ بہادر کے پہلو میں سپرد لحد کردیاگیا۔
ان کی نماز جنازہ مکہ مسجد میں ہی بعد عصراداکی گئی جس میں لاکھوں عوام کے ساتھ ساتھ آصف جاہی خاندان کے افراد‘مختلف ٹرسٹوں کے ذمہ داروں اور اہم شخصیات نے شرکت کی اوران کی خدمات کو خراج پیش کیا۔حافظ و قاری جناب رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد نے نماز جنازہ پڑھائی اور رقت آمیز دعاء کی۔
قبل ازیں مکرم جاہ بہادرکی میت کو عوام کے آخری دیدار کیلئے چہارشنبہ کی صبح رکھاگیاجبکہ کل شام اہم شخصیات نے چومحلہ پیالیس پہنچ کر ان کی میت کاآخری دیدار کیا اور انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔

دربار ہال کے ایک حصہ میں آصف جاہ ثامن کی مغفرت کیلئے مسلسل قرآن خوانی کا اہتمام کیاگیا جہاں پر مرد و خواتین قرآن خوانی میں مصروف تھے۔ بعدنماز ظہر غسل اور تجہیز و تکفین انجام دی گئی۔
دربار ہال کے بازو کھلی جگہ پر غسل اور تجہیز و تکفین کے انتظامات کئے گئے تھے۔ میت پر بصد احترام پرچم آصفیہ رکھاگیا تھا۔
حکومت تلنگانہ نے پرنس مکرم جاہ بہادر کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے اعلیٰ ترین سرکاری اعزازات کے ساتھ انتظامات کئے تھے اور انکے جنازہ کو پولیس کے دستہ نے سلامی بھی دی۔3.30بجے سہ پہر چومحلہ پیالیس سے جلوس جنازہ کی روانگی عمل میں آئی۔ ان کا جنازہ مکہ مسجد لے جایاگیا۔
ہزاروں افراد کے ہجوم کے پیش نظر نماز جنازہ مکہ مسجد کے اندرونی حصہ میں منبر کے قریب ادا کی گئی۔شام چار بجے تک مکہ مسجد کی ابتدائی پانچ صفیں مکمل ہوگئی تھیں۔
مکہ مسجد کے فانوس جو ہر سال اہم راتوں جیسے شب معراج، شب برات اور شب قدر کے علاوہ عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر کھولے جاتے ہیں، بطور خاص آج کھولے گئے تھے۔
پرانا شہر کے کئی علاقوں میں آج سیاہ جھنڈیاں بطور سوگ لگائی گئی تھیں۔پرانا شہر کے کئی مقامات پر دکانات اور تجارتی ادارے رضاکارانہ طورپر بند رہے۔کئی دکانات پر فلکسی لگاتے ہوئے مکرم جاہ کو بھرپورخراج پیش کیاگیا۔یاد رہے کہ
آصف جاہ ثامن مکرم جاہ بہادر کے جسد خاکی کو کل ہی ترکی کے استنبول شہر سے خصوصی چارٹرطیارہ کے ذریعہ حیدرآباد منتقل کیا گیا تھا اور چومحلہ پیالیس خلوت مبارک میں شاہی خاندان اور نظام ٹرسٹ کے ذمہ داروں کے دیدار کیلئے رکھا گیا۔
واضح رہے کہ پرنس مکرم جاہ بہادر نے ترکی میں 14جنوری کو داعی اجل کو لبیک کہا تھا اور انکی وصیت کے مطابق ان کی جسد خاکی کو حیدرآباد منتقل کیاگیا تھا تاکہ سلاطین دکن کے مقبرہ واقع تاریخی مکہ مسجد میں سپرد لحد کیا جاسکے۔
قبل ازیں چومحلہ پیالیس میں زبردست سکیورٹی کے دوران لاکھوں افراد نے آخری تاجدار دکن کا دیدار کیا اور بعد نماز ظہر چومحلہ پیالیس میں غسل اور تجہیز و تکفین کی تیاری کی گئی۔
اس موقع پر سلاطین دکن کا شاہی خاندان ایک بار پھر حیدرآباد میں جمع ہوا جن میں نویں نظام حیدرآباد عظمت جاہ بہادر‘ پرنسس شاہکار‘پرنسس نیلوفر‘پرنس میر کرامت علی مفخم جاہ بہادر کے علاوہ نظام ٹرسٹ‘مکرم جاہ ٹرسٹ فار ایجوکیشن اینڈ لرننگ کے افسران قابل ذکر ہیں۔
آصف جاہ ثامن کی سابق اہلیہ پرنسس اسریٰ ان کے آخری سفر اور آخری رسومات کے تمام انتظامات میں پیش پیش رہیں۔حیدرآباد میں جہاں گزشتہ دو دن سے فضاء سوگوار ہے وہیں عرب و چاؤش برادری نے بھی آصف جاہ ثامن کی رحلت پر سوگ منایا۔
گزشتہ دو دنوں سے کنگ کوٹھی اور بارکسکے علاقے اداسی میں ڈوبے ہوئے ہیں جہاں عرب برادری خاص کر چاؤش رہائش پذیر ہیں اور وہ آصف جاہ ثامن نظام ہشتم کے ساتھ ایک خاص لگاؤرکھتے تھے۔
آصف جاہ ثامنمکرم جاہ بہادر جب بھی حیدرآباد تشریف لاتے تو عرب برادری کی جانب سے روایتی عربی بینڈ مرفہ کے ساتھ ان کا استقبال کیا جاتا تھا۔عرب برادری حیدرآباد میں دو صدی سے زیادہ عرصے سے مقیم ہے اور وہ آصف
جاہی خاندان کے وفادار متصور کئے جاتے ہیں کیونکہ آصف جاہ ثامن مکرم جاہ بہادر کے پردادا نواب میر محبوب علی خان نظام ششم نے یمن کے عربوں کو لا کر اپنی فوج میں بھرتی کیا تھا۔
عرب کے کئی علماء‘ اسکالرس اور دانشوروں کو حیدرآباد کے مدرسوں میں بطور اساتذہ و پروفیسر شامل ہونے کا موقع دیا گیا۔شہزادہ نواب مکرم جاہ بہادر نظام ثامن کی رحلت پر جہاں حیدرآباد سوگ میں ڈوب گیا وہیں تلنگانہ‘ کرناٹک اور مرہٹواڑہ کے وہ علاقے جہاں سلاطین دکن کا پرچم لہراتا تھا‘بلا تفریق و مذہب ملت ہر کوئی اشکبار‘ غمزد ہوگیا۔
اپنے عروج کے دور میں سلطنت آصفیہ 80,000 مربع کیلو میٹر پرقائم تھی جو 1724 ء میں قائم ہوئی تھی۔نظام دکن الحاق کے بعد بھی تمام شاہی اعزازات و اکرام کے ساتھ تقریبا سات سال تک ”راج پرمکھ“ رہے۔
آصف سابع نے اپنے دونوں شہزادوں آعظم جاہ اور معظم جاہ کے بجائے اپنے پوترے‘پرنس آف برار میر حمایت علی خان اعظم جاہ بہادر و شہزادی درشہوار کے فرزند آصف جاہ ثامن نواب میر برکت علی خان صدیقی والاشان مکرم جاہ بہادر کو ترجیح دی اور 14 جون 1954 ء میں جانشین مقرر کیا اور حکومت نے بھی 1971 ء میں اس جانشینی کو مسلمہ قرار دیا اور تمام شاہی مراعات کو برقرار رکھا۔