مختار انصاری کو دس سال قید، پانچ لاکھ جرمانہ، ایم پی۔ ایم ایل اے عدالت نے سنائی سزا

تازہ خبر قومی
26 سال بعد عدالت نے فیصلہ سنایا
غازی پور :۔15؍دسمبر
(زیڈ این ایم ایس)
غازی پور ضلع میں 1996 کے مشہور  گینگسٹر کیس میں کورٹ نے مافیا مختار انصاری اور بھیم سنگھ کو مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں مختار انصار اور بھیم سنگھ کو 10 سال کی سزا سنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ایم پی-ایم ایل اے عدالت کے جج درگیش نے یہ سزا سنائی۔
مختار انصاری کے خلاف درج گینگسٹر کیس کا فیصلہ 25 نومبر کو سنایا جانا تھا۔ لیکن، متعلقہ عدالت کے جج کے تبادلے کے باعث فیصلے کے لیے 15 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔ فیصلے کے موقع پر عدالت کے احاطے میں سیکوریٹی کے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے تھے۔
گینگسٹر ایکٹ کا یہ مقدمہ مختار انصاری اور اس کے ساتھی بھیم سنگھ کے خلاف غازی پور کے صدر کوتوالی میں 1996 میں درج کیا گیا تھا۔ اب 26 سال بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ مختار کے وکیل لیاقت علی کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی بات کی گئی ہے۔
مختار انصاری کے خلاف غازی پور صدر کوتوالی میں سال 1996 میں درج گینگسٹر کیس میں حال ہی میں جرح اور گواہی مکمل ہوئی تھی۔ آج مختار انصاری اور اس کے ساتھی بھیم سنگھ کو مجرم ٹھہرایا گیا۔ اس کیس میں کل 11 لوگوں نے گواہی دی۔
سرکاری وکیل نیرج سریواستو نے بتایا کہ غازی پور میں سال 1996 میں مختار انصاری اور مختار کے ساتھی بھیم سنگھ کے خلاف صدر کوتوالی میں گینگسٹر کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ غازی پور کے ایم پی ایم ایل اے کورٹ میں چل رہا تھا۔
 اس کیس میں گزشتہ دنوں جرح اور شہادتیں مکمل ہوئیں جس کے بعد عدالت نے کاغذات پر فیصلہ سنانے کے لیے 15 دسمبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔ جس کے بعد آج فیصلہ سنایا گیا۔