قدیر خان معاملہ‘نیشنل مینارٹی کمیشن کی پولیس پر سخت برہمی
کیس کو خراب کرنے کی سازش‘ ایس پی خود کو قانون سے بالاتر سمجھ رہی ہیں
ضلع حکام کو دہلی طلب کرنے کا اعلان‘ اہلیہ کو ملازمت‘50 لاکھ ایکس گریشا اور مکان دینے کا مطالبہ
حیدرآباد:۔ 27؍فروری
(زین نیوزبیورو)
نیشنل میناریٹی کمیشن ممبر سیدہ شہزادی نے آج میدک کا دورہ کرتے ہوئے پولیس ظلم کا شکار محمد قدیر خان مرحوم کے مکان پہنچ کر ان کی اہلیہ اور ان کا خاندان سے بات چیت کرکے تمام تفصیلات سے واقفیت حاصل کی۔ بعدازاں ٓاراینڈ بی گیسٹ ہاوز میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے
انہوں نے پولیس ضلع میدک پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محمد قدیر خان کی پولیس کی حراست میں طرح مارپیٹ سے ہی موت واقع ہوئی ہے۔
ضلع ایس پی کو دودن قبل ہی یہ ہدایت دی گئی تھی کہ قدیر خان کیس سے متعلق تمام دستاویزات کے ساتھ رپورٹ پیش کی جائے لیکن ضلع ایس پی نے دستاویزات تو دور ایف آئی آر تک ساتھ نہیں لائی اور اس معاملے میں کیا کاروائی کی گئی ہے یہ بتانے سے خاموشی اختیار کی ہے
جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محمد قدیر خان کے معاملے میں پولیس کا رویہ مشکوک ہے اس لیے وہ کیس کے اہم دستا ویزات کو پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی ارکان خاندان کے حوالے نہیں کی گئی ۔
انہوں نے سوال کیا کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے اگر پولیس بے قصور ہے توکیوں ان تمام شواہد کو چھپانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔سید شہزادی نے سوال کیا کہ کیا ایک مسلمان ہونے پر اس طرح کا ظلم کیا گیا ہے۔
کیا پولیس دوسرے ملزمو ں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتی ہے۔غریب بے سہارا نوجوان کو مارپیٹ کے ذریعہ ہلاک کرنے کی کیا ضلع ایس پی ذمہ داری عائد نہیں ۔انہوں نے انتباہ دیاکہ اگر ضلع اس پی شفاف طور پر اس کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ہے تو نیشنل مینارٹی انہیں دہلی کو طلب کریگا۔جہاں انہیں تمام سوالوں کے جواب دینا پڑے گا۔
قدیر خان کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے اخباری بیانات دینے کے لیے وہ یہاں نہیں آئی ہے بلکہ قدیر خان کے ارکان خاندان کو انصاف دلانے کیلئے آئی ہیں
انہوں نے یقین دلایا کہ قدیر خان کی اہلیہ کو ضرور انصاف ملے گا ریاستی حکومت سے بھی وہ نمائندگی کریںگی مرحوم خان کی اہلیہ کو سرکاری ملازمت دینے 50 لاکھ روپے ایکس گریشا دینے ایک مکان فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان مطالبات کی عدم منظوری پر وہ نیشنل کمیشن کے ذریعہ قانونی طور پر انصاف دلانے کے لیے لڑائی لڑیگی۔انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا مرحوم قدیر خان کی اہلیہ کو اٹینڈ ر کی ملازمت نہیں مل سکتی۔
ایسے معاملات میں ریاستی حکومت تلنگانہ ہی نہیں بلکہ دیگر ریاستوں کے عوام کو انصاف دلانے کے لیے ایکس گریشا کا اعلان کرتی ہے تو کیا قدیر تلنگانہ کا باشندہ نہیں یا پھر مسلمان ہونے پر تعصب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر پولیس ذمہ داران کو برطرف نہیں کیا جائے گا اور ان پر قتل کے مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے تو نیشنل کمیشن ضرور اس کے خلاف کارروائی کرے گا۔ضلع ایس پی کے رویہ پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سید شہزادی نے صاف طور پر کہا کہ تمام چیزوں کو پوشیدہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ پولیس اس کی ذمہ دار ہے۔
اسلئے وہ مقدمہ کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے تمام چیزوں کا نوٹ لیتے ہوئے قدیر خان کے معاملے میں سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے ایس پی خود کو قانون سے بالاتر سمجھ رہی ہیں۔
اس موقع پر ضلع کلکٹر میدک راجا شری شاہ‘ ضلع ایس پی روہنی پریادرشنی‘ڈی ایس پی سیدولو۔ مینارٹی کمیشن کے اراکین ڈاکٹر کرن کمار ‘صدر تلنگانہ آقلیتی مورچہ محمد افسر پاشاہ‘محمد مخدوم‘ہدایت علی وائس پریسڈ نٹ‘محمد مجیب جنرل سکریٹری‘میر یعقوب علی جنرل سکریٹری آمنہ بیگم رکن کمیشن‘سیف اللہ خان‘سعید اللہ‘توصیف عباس‘میدک ضلع صدر گڈم سرینو کے علاوہمدھو‘مسلم قائدین محمد افضل‘محمد خالد‘شیخ محمد سلیم‘ محمد حفیظ الدین دیگر موجود تھے۔
