پہلے دہشت گرد ناتھو رام گوڈ سے کی حامی بی جے پی سے مفاہمت کی ضرورت نہیں
آر ایس ایس شاکھا پرموکھ اے ریونت ریڈی کانگریس کے صدر
پارٹی کے پاس کوئی وارنٹی نہیں تو 6 گیارنٹی کا کیا فائدہم
جگتیال جلسہ سے کے ٹی راما راؤ کی مخاطبت
جگتیال :۔3؍اکتوبر
( عمران زین)
ریاستی وزیر برائے آئی ٹی و بلدی نظم نسق کے ٹی راما راونے واضح کیا کہ بی آر ایس کو بی جے پی کے ساتھ انتخابی اتحاد میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو ملک کے پہلے دہشت گرد ناتھورام گوڈسے کی پوجا اور اس کی پیروی کرتی ہے جس نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا قتل کیا تھا۔
و ہ آج جگتیال کے منی اسٹیڈیم میں منعقد بی آر ایس پارٹی کے ایک جلسہ عام کو مخاطب کررہے تھے۔قبل ازیں انھوں نے ریاستی برائے داخلہ الحاج محمد محمود علی اور ریاستی وزیر برائے عمارت و شوراع ویمولہ
پرشانت ریڈی کے ہمراہ 3.4کروڑ کے صرفہ تعمیر کردہ مربوط ضلعی پولیس دفتر کی عمارت ‘ اور4.50کروڑ کے صرفہ سے تعمیر کردہ ویج اور نان ویج مارکٹ کا افتتاح 280کروڑکی لاگت سے تعمیرکرد ہ پہلے مرحلہ میں 3722استفادہ کنندگان میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تقسیم کے پروگرام میں حصہ لیا ۔
بعد ازاں ایک جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کانگریس اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔انھوں نے کہاکہ آج افواہیں پھیلائی جارہی ہیں بدنام کرنے کیلئے بی آر ایس کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے کی منظم شازش کی جارہی ہیںیہ غلط پروپیگنڈہ پھیلا کر عوام میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بی آر ایس کا بی جے پی کے ساتھ مفاہمت ہے
کے ٹی آر نے واضح کیا کہ بی آر ایس کو بی جے پی کے ساتھ انتخابی اتحاد میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو ملک کے پہلے دہشت گرد ناتھورام گوڈسے کی پوجا اور اس کی پیروی کرتی ہے جس نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا قتل کیا تھاانھوں نے بی جے پی کو ہندو بنیاد پرست جماعت قرار دیتے ہوئے کہاکہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی کو نظام آباد میٹنگ میں عوام سے یہ بتانے کی ہمت کی کہ وہ گاندھی کی پیرو ی کرتے ہیں کریں گے یا گوڈسے کے پیرو کار ہیں
انہوں نے کہاکہ بی جے پی ایک شریر سیاسی بدترین جماعت ہے جو گوڈسے کی پوجا کرتی ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کو اکسانے کے علاوہ، بی جے پی عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے بارے میں نہیں سوچے گی ۔
بی جے پی کے پاس صر ف ایک ایجنڈہ ہے کہ وہ ہندو مسلم جھگڑے ( پنچایتیں ) پیدا کرے۔ لہذا بی آر ایس کو ایسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے انھوں نے کہاکہ ملک میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیڈر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤسے زیادہ وزیر اعظم نریندر مودی کی غلطیوں پر تنقید کرنے اور ان کی نشاندہی کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔
کے ٹی آر انے وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مودی کا طرز عمل اسطرح ہے کہ ’’ بات کروڑوں میں ۔۔کام پکڑوں میں‘‘ مودی نے سالانہ دو کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جب ان سے پوچھا گیا کہ ملازمتوں کا کیا ہو تو مودی جی کا جوا ب تھا کہ پکوڑ ے بیچنا بھی ملازمت ہے‘
مودی نے لوگوں کہاکہ جن دھن کھالو میں دھن دھن پندرہ لاکھ اکاونٹ میں ڈالوں گاکیا کسی کے اکاونٹ میں پندرہ لاکھ آئے۔
انھوںنے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ و سابق صدر تلنگانہ بنڈی سنجے کے بیان مودی بھگوان ہے پرشدید طنز کرتے ہوئے کہاکہ مودی کس کے لئے بھگوان ہے۔
چار سو روپئے کا پکوان سلنڈر 12سور روپئے کرنے والا بھگوان نریندر مودی ہے ‘ 70روپئے کا پیٹرول 110کرنے والا بھگوان نریندر مودی ہے اشیائے روزضروریہ کی قیمتوں کا آسمان پر پہنچانے والا بھگوان نریندر مودی ہے ایسے بھگوان کی کیا ہمیں ضررورت ہے کیاایسے وزیر اعظم کی ہمیںضرورت ہے
کے ٹی آر نے دوسر ی طرف کانگریس پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس پارٹی مذہب کے نام پر سیاست کررہی ہے اس نے آر ایس ایس لیڈرشاکھا پرموک اے ریونت ریڈی کوتلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر بنادیا۔
یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں یہ بات کانگریس کے رہنما اور پنجاب کے سابق وزیر اعلی امریندر سنگھ نے سونیا گاندھی کو خط لکھا تھاجس میں انھوں نے ریونت ریڈی کے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر بنانے پر سوال اٹھائے ہیں ۔
کیا ریونت ریڈی میں اتنی ہمت ہے کہ وہ کہیں کہ آ ر ایس ایس عدم وابستگی کی دہائی دینے جرأت کریں گےاور کہیں کہ مجھے مسلمانوں سے نفرت نہیں ہے ۔ ا
ور یہی ریونت ریڈی کسانوں کو مفت برقی سربراہی کے خلاف ہے اگر کانگریس کوووٹ دینگے تو کسانو ں کو صرف تین گھنٹے برقی اورکھاد اور تخم بیج کے لئے دوبارہ قطاروں میں ٹھہرنا پڑئیگا۔پینے کا پانی، جو مشن بھگیر تھا کے ذریعے ہر گھر کو فراہم کیا جار ہا ہے ، پانی کے لیے سڑکوں پر پانی کے ٹینکروں کے سامنے خواتین کو لڑنے چھوڑ دیا جائے گا
کانگریس پارٹی کی جانب سے دئیے گئے چھ6ضمانتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ جب خود پارٹی کے پاس کوئی وارنٹی نہیں ہے کانگریس پارٹی 150سالہ پارٹی ہے یعنی کی اس کی وارنٹی ختم ہوچکی ہے تو اسکی دی گئی گیارنٹی کا کیا بھروسہ.
کانگریس کی زیر قیادت والی ریاستوں وہاں کی حکومتین 4؍ہزار روپئے پنشن نہیں دے سکی لیکن انہوں نے تلنگانہ میں 4000 روپے پنشن دینے کا وعدہ کیا ہے۔
وہ یہ وعدے صرف ووٹ کے لیے کرتے ہیں انہوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ کانگریس کے جھانسے میں نہ آئیں بلکہ انہیں ترقی کا حصہ بننا چاہئے۔
کے ٹی آر نے کہاکہ شہرجگتیال کی ترقی رکن اسمبلی ڈاکٹر سنجے کمار کی مرہون منت ہے سنجے کمار جگتیال کے مستقبل ہیں اور جیون ریڈی ماضی ہیں انھوں نے تیقن دیا کہ اگر دوبارہ سنجے کما ر کو رکن اسمبلی منتخب کیا گیا تو جگتیال میں انڈر گروانڈ ڈرین کی تعمیر‘ اور میانگو مارکٹ میں پیپسی ‘ یا کوکلولا جیسی بڑی کمپنیوں کولاکر سرکایہ کاری کی جائیگی۔
اس موقع پر ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی‘ ریاستی وزیر کوپولی ایشور‘ریاستی وزیر یمولا پرشانت ریڈی‘ ایم ایل سی ایم رمنا ‘رکن اسمبلی جگتیال ڈاکٹر ایم سنجے کمار‘ اقلیتی قائدین محمد عبدالقاد ر مجالد ‘ امین الحسن‘ اور دیگر موجودتھے
