منی پور جل رہا ہے اور پی ایم مودی ہنس رہے ہیں،لطیفے سنا رہے ہیں
اگرکوئی وزیر اعظم اور حکومت سے سوال کرتا ہےتو اسے ایوان سے معطل کر دیا جاتا ہے
راہول گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید حملہ
نئی دہلی:۔11؍اگست
(زین نیوزڈیسک)
کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے منی پور معاملے کو لے کر ایک پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید حملہ کیا۔ وزیر اعظم پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منی پور مہینوں سے جل رہا ہے، لیکن پی ایم مودی اس سے غافل ہیں۔
انھوںنے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا۔ راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ منی پور میں بھارت ماتا کا قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ایم مودی منی پور کو لے کر سنجیدہ ہوتے تو وہ ریاست کے حالات کو سنبھالنے کی ذمہ داری فوج کو دیتے۔ فوج دو تین دن میں حالات کو معمول پر لا سکتی تھی لیکن پی ایم مودی ایسا نہیں کر رہے ہیں۔
راہول گاندھی نے کہا کہ منی پور پچھلے کچھ مہینوں سے جل رہا ہے۔ خواتین کی عصمت دری ہو رہی ہے۔ بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں، لیکن پی ایم مودی نے اپنی دو گھنٹے کی تقریر میں چند منٹ کے لیے منی پور کا ذکر کیا۔ وہ اپنی تقریر کے دوران ہنس رہے تھے ، لطیفے بنا رہے ہیںاور ان کے وزیر ان کی تقریر پر خوشی سے تالیاں بجا رہے تھے۔
منی پور میں بھارت ماتا کا قتل
راہول گاندھی نے کہا کہ ان کے 19 سال کے تجربے میں میں نے منی پور میں جو دیکھا اور سنا وہ کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے بھارت ماتا کو مارا ہے، منی پور میں ہندوستان تباہ ہو گیا ہے۔ یہ کھوکھلے الفاظ نہیں تھے
راہول گاندھی نے کہاکہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ منی پور میں بھارت ماتا کا قتل کیا گیا ہے۔ پہلی بار پارلیمنٹ سے بھارت ماتا کے الفاظ کو خارج کیا گیا ہے۔ یہ ان الفاظ کی توہین ہے۔ میں نے جو کہا ہے وہ کیا غلط ہے؟ میں نے کہا ہے کہ بھارت ماتا جو ہندوستان کا نظریہ ہے، جہاں ہر کوئی امن، ہم آہنگی اور پیار سے رہتا ہے، منی پور میں مارا گیا یہ ایک حقیقت ہے
منی پور میں جب ہم نے میتی کے علاقے کا دورہ کیا، تو ہمیں واضح طور پر کہا گیا کہ اگر ہماری سیکوریٹی میں کوئی کوکیز ہے تو انہیں یہاں نہ لایا جائے کیونکہ وہ اس شخص کو مار ڈالیں گے۔ جب ہم کوکی کے علاقے میں گئے تو ہمیں بتایا گیا کہ اگر ہمارے ساتھ کوئی میتی شخص ہے تو وہ اسے گولی مار دیں گے۔. تو یہ ایک ریاست نہیں دو ریاستیں ہیں۔
راہول گاندھی نے کہا کہ اگر وزیر اعظم منی پور نہیں جا سکتے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن کیا وہ منی پور کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے؟ مجھے بہت افسوس ہے کہ جب منی پور جل رہا ہے، ہمارے وزیر اعظم ہنس رہے ہیں، لطیفے بنا رہے ہیں اور منی پور پر کچھ نہیں کہہ رہے ہیں۔
یہ کسی وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا۔ وہ پورے ملک کے وزیراعظم ہیں انہیں سب کا سوچنا چاہیے۔۔ لیکن مودی اپنی ہندو قوم پرست جماعت کے زیر کنٹرول ریاست میں گزشتہ ماہ تک تشدد کو عوامی سطح پر حل کرنے میں ناکام رہے۔
تحریک عدم اعتماد پر بحث کا موضوع منی پور تھا میں نہیں۔
راہول گاندھی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر بحث میں نہ میں ہوں اور نہ ہی کانگریس پارٹی۔ تحریک عدم اعتماد پر بحث کا موضوع منی پور تھا۔ لیکن پی ایم نے منی پور پر توجہ نہیں دی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ایم منی پور میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے روکنا نہیں چاہتے۔ وہ نہیں چاہتے کہ منی پور میں تشدد بند ہو۔ وہ منی پور کو جلانا چاہتے ہیں۔
جب راہول گاندھی سے یہ پوچھا گیا کہ بحث کے دوران انہیں ٹی وی پر بہت کم وقت دکھایا گیا تو ان کا اس بارے میں کیا کہنا تھا؟ اس پر راہول گاندھی نے کہا کہ شاید پی ایم مودی کو میرا چہرہ پسند نہیں ہے اسی لیے مجھے کافی عرصہ سے ٹی وی پر نہیں دکھایا جاتا۔
لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے بحث میں جو کچھ بھی اٹھانا چاہا اٹھایا۔ مستقبل میں بھی میں ایسا ہی کروں گا، جہاں بھی بھارت ماتا کا قتل ہوگا اور عام آدمی کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، میں اپنی آواز اٹھاؤں گا۔
راہول گاندھی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آج صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ پارلیمنٹ میں اگر کوئی وزیر اعظم اور حکومت سے سوال کرتا ہے اور مخالفت کرتا ہے تو اسے ایوان سے معطل کر دیا جاتا ہے۔
یہ عام آدمی کی آواز کو دبانے کا ایک طریقہ ہے۔ وزیر اعظم نے منی پور کے وزیر اعلیٰ کو تبدیل نہیں کیا، جبکہ وہ ریاست میں امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔