بی جے پی اپوزیشن اتحاد انڈیا سے خوفزدہ ہے اسی لیے وہ ملک کا نام بدلنا چاہتی ہے
بی جے پی جو کرتی ہے اس کا ہندوازم سے کوئی تعلق نہیں ہے
ہندوستان میں کروڑوں لوگ بے چینی محسوس کر رہے ہیں: پیرس میں راہول گاندھی کا خطاب
بی جے پی جو کرتی ہے اس کا ہندوازم سے کوئی تعلق نہیں ہے
ہندوستان میں کروڑوں لوگ بے چینی محسوس کر رہے ہیں: پیرس میں راہول گاندھی کا خطاب
اوسلو:۔10؍ستمبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے اپنے دورہ یورپ کے تیسرے دن پیرس کی سائنسز پو یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کیا۔ راہول نے کہا کہ حکومت ہمارے اپوزیشن اتحاد انڈیا کے نام سے پریشان ہے۔ اس وجہ سے وہ ملک کا نام بدلنا چاہتی ہے۔
میں نے گیتا پڑھی ہے۔ اپنشد پڑھ چکے ہیں اور کئی ہندو کتابیں بھی پڑھ چکے ہیں۔ اس بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ بی جے پی جو کچھ کرتی ہے اس میں ہندو نہیں ہے۔
راہول آج ناروے کی راجدھانی اوسلو جائیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ وہاں مہاجرین کے ایک پروگرام سے خطاب کریں گے۔ وہ G20 سربراہی اجلاس کے اختتام کے 2 دن بعد 13 ستمبر کو ہندوستان واپس آئیں گے۔
راہول نے ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوستان کی نچلی ذات، پسماندہ ذات اور دیگر اقلیتوں کے اظہار کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں ایسا ہندوستان نہیں چاہتا جہاں لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک ہو۔
بی جے پی کے نظریے پر راہو؛ نے کہا کہ میں نے کبھی کسی ہندو کتاب میں نہیں پڑھا اور نہ ہی کسی ہندو اسکالر سے سنا ہے کہ آپ ان لوگوں کو نقصان پہنچائیں جو آپ سے کمزور ہیں۔ یہ بی جے پی والے ہندو قوم پرست نہیں ہیں۔ ان کا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کرتے ہیں۔
ہندوستان میں کروڑوں لوگ بے چینی محسوس کر رہے ہیں ہندوستان میں سکھ برادری سمیت 20 کروڑ لوگ بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔ اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ایسی اقلیتیں بھی ہیں جو بے چینی محسوس کرتی ہیں۔ ایسی خواتین بھی ہیں جو خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں۔
راہول گاندھی نے جمعہ کو برسلز کے پریس کلب میں کہا کہ ہم روس۔یوکرین جنگ پر ملک کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ روس کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اپوزیشن بھی اس معاملے پر وہی موقف اختیار کرے گی جو حکومت نے اختیار کیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران روس اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات سے متعلق ایک سوال پرراہول گاند نے کہا کہ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔ ہمارے بہت سے ممالک کے ساتھ تعلقات اور شراکت داریاں ہیں۔ بھارت کو حق ہے کہ وہ جس سے چاہے تعلقات برقرار رکھے
