مدھیہ پردیش: بجرنگ دل کے کارکنوں پر پولیس کا لاٹھی چارج
تعزیرات ہندکی دفعہ 151 کے تحت11 گرفتار
اندور:۔16؍جون
(زین نیوز ڈیسک)
مدھیہ پردیش پولیس نے بجرنگ دل کے کارکنوں کے ایک گروپ پر لاٹھی چارج کیا اور ان میں سے 11 کو اندور میں اس وقت گرفتار کیا جب وہ دھرنا دے رہے تھے۔
پی ٹی آئی کے حوالے سے ایک عہدیدار نے جمعہ کو بتایا کہ یہ احتجاج تنظیم کے ارکان کے خلاف منشیات کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف ” مقدمات کے اندراج پر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی دیر رات پیش آیا
بجرنگ دل کے کارکنان پلاسیا چوک پر دھرنا دے رہے تھے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہو گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے الزام لگایا کہ لاٹھی چارج میں بجرنگ دل کے کچھ ارکان کو بھی چوٹیں آئیں۔
بھگوا پارٹی کی زیرقیادت ریاستی حکومت نے کہا کہ اس نے احتجاج اور پولیس کی کارروائی کا نوٹس لیا ہے اور پورے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) دھرمیندر سنگھ بھدوریا نے پی ٹی آئی کے حوالے سے بتایاکہ”بجرنگ دل کے کارکنوں کا ایک گروپ بغیر کسی اجازت کے اچانک مصروف چوراہے پر جمع ہو گیا اور دھرنا دیا،
جس سے چاروں سڑکوں پر ٹریفک جام ہو گیا، جب پولیس کی طرف سے بار بار کی اپیل کے باوجود مظاہرین نے جھکنے سے انکار کیا تو” ہلکی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے موقع سے انہیں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گیارہ مظاہرین کو ضابطہ فوجداری پروسیجرتعزیرات ہندکی دفعہ 151 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں کو قابو کرنے کی کوشش میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ‘چکا جام’ احتجاج کے دوران کچھ لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مناسب قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
इंदौर में मामा की सरकार ने बजरंग दल वालो पर जमकर लाठियाँ चलवाई। pic.twitter.com/OoVZNQOSEz
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) June 15, 2023
پی ٹی آئی نے اطلاع دی کہ عینی شاہدین نے بتایا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں کے ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے دھرنے نے ٹریفک کی نقل و حرکت میں خلل ڈالا جس کی وجہ سے پالسیا چوراہے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ پولیس کے لاٹھی چارج میں بجرنگ دل کے 11 کارکن زخمی ہوئے۔
بی جے پی کی اندور یونٹ کے صدر گورو رندیو نے پی ٹی آئی کو بتایا، "بجرنگ دل کے کارکنوں پر پولیس نے بے دردی سے لاٹھی چارج کیا، جس کی وجہ سے 11 افراد زخمی ہوئے۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی تحقیقات کے بعد قصوروار پولیس عہدیداروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔
واقعہ پر بھوپال میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ریاست کے وزیر داخلہ اور حکومت کے ترجمان نروتم مشرا نے کہا کہ انہوں نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔
"ہم نے مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی کا بھی نوٹس لیا ہے اور اس سے متعلق تمام مسائل کی تحقیقات کے لیے ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ADGP) سطح کے افسر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے انچارج متعلقہ لائن سے منسلک (فیلڈ ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا)
