قطر نے بحریہ کے 8 سابق عہدیداروں کی درخواست منظورکر لی
سزائے موت کے خلاف سماعت جلد ہوگی
نئی دہلی:۔24؍نومبر
(زین نیوز ڈیسک)
قطر کی عدالت نے 8 سابق ہندوستانی بحریہ کےعہدیداروں کی سزائے موت کے خلاف درخواست منظور کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کیس کی سماعت کی تاریخ کا بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا۔
ہندوستانی حکومت نےسابق بحریہ کےعہدیداروں کی سزا کے خلاف 15 روز قبل اپیل کی تھی۔ تاہم اس معاملے میں قطر یا ہندوستانی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے 9 نومبر کو اپیل دائر کرنے کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے کہا تھاکہ ہندوستان کو ان فوجیوں سے ملنے کے لیے دوسری قونصلر رسائی بھی ملی ہے۔ ہندوستانی حکومت قطر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔
ارندم باغچی کے مطابق سابق بحریہ (میرینز) کے اہل خانہ کی جانب سے سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔ قطر میں جن 8 سابق بحریہ افسران کو موت کی سزا سنائی گئی ہے
ان میں کیپٹن نوتیج سنگھ گل، کیپٹن سوربھ وشیشتھا، کیپٹن بیرندر کمار ورما، کمانڈر پورنیندو تیواری، کمانڈر سوگناکر پکالا، کمانڈر سنجیو گپتا، کمانڈر امیت ناگپال اور سیلر راگیش شامل ہیں۔
26 اکتوبر کو قطر کی ایک عدالت نے 8 سابق ہندوستانی بحریہ کے عہدیداروں( میرینز) کو موت کی سزا سنائی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق آٹھ ہندوستانیوں پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان آٹھوں پر قطر کی آبدوز کے منصوبے سے متعلق معلومات اسرائیل کو دینے کا الزام ہے۔
تاہم قطر نے ابھی تک ان الزامات کو منظر عام پر نہیں لایا ہے۔ 30 اکتوبر کو آٹھ سابق بحریہ کے عہدیداروں کے اہل خانہ نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ہندوستان قطر کو راضی کرنے کے لیے ترکی کی مدد لے رہا ہے۔
ترکئی کے قطر کے شاہی خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اس لیےہندوستانی حکومت نے ثالثی کے لیے اس سے رابطہ کیا ہے۔ ہندوستانی حکومت نے مدد کے لیے امریکہ سے بھی بات کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قطر پر امریکہ کی مضبوط اسٹریٹجک گرفت ہے۔
حکومت کو گرفتاری کا علم تک نہیں تھا۔قطرکی انٹیلی جنس ایجنسی کے اسٹیٹ سیکوریٹی بیورو نے 30 اگست 2022 کو ہندوستانی بحریہ کے 8 سابق افسران کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم، ستمبر کے وسط میں ان کی گرفتاری کے بارے میں ہندوستانی سفارت خانے کو سب سے پہلے مطلع کیا گیا تھا۔
30 ستمبر کو ان ہندوستانیوں کو اپنے اہل خانہ سے مختصر وقت کے لیے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد 3 اکتوبر کو پہلی بار قونصلر رسائی دی گئی۔ اس دوران ہندوستانی سفارت خانے کے ایک عہدیدار کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی۔
کانگریس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان آٹھ افراد کی جلد از جلد رہائی کو یقینی بنائے اور کانگریس کے رہنما جیرام رمیش نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کو توقع ہے کہ حکومت قطر حکومت کے ساتھ اپنا سفارتی اور سیاسی فائدہ زیادہ سے زیادہ استعمال کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ افسران کو رہا کیا جائے۔ اپیلوں کا مکمل سہارا لیں اور ان کو جلد از جلد رہا کروانے کی بھرپور کوشش کریں۔