قطر نے سابق ہندوستانی بحریہ کے عہدیداروں کی سزائے موت کو قید میں تبدیل کر دیا
نئی دہلی:۔28؍ڈسمبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
قطر میں مبینہ جاسوسی کے الزام میں 8 سابق ہندوستانی بحریہ کے عہدیداروں کی سزائے موت پر وہاں کی عدالت نے روک لگا دی ہے۔ اب سزائے موت کے بجائے ان ہندوستانیوں کو جیل میں رہنا پڑے گا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس کی تصدیق کی ہے۔
قطر کی اپیل کورٹ نے جمعرات کو اپنا فیصلہ سنایا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ فیصلے کی تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس کے بعد ہی اگلے مرحلے پر غور کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران ہندوستانی سفیر عدالت میں موجود تھے۔ تمام 8 خاندانوں کے افراد بھی ان کے ساتھ تھے۔ ہندوستان نے اس کے لیے ایک خصوصی کونسل مقرر کی تھی۔ تاہم ابھی تک اس فیصلے کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہاکہ فیصلے کی تفصیلات کا انتظار ہے۔اس حوالے سے ہندوستانی وزارت خارجہ کی جانب سے تحریری بیان جاری کیا گیا ہے۔
اس میں موت کی سزا کو قید میں تبدیل کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ بیان کے مطابق قطر کی اپیل کورٹ نے ‘دہرہ گلوبل کیس’ میں 8 سابق ہندوستانی بحریہ کی سزا کو کم کر دیا ہے
بیان کے مطابق قطر میں ہمارے سفیر اور دیگر افسران آج عدالت میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ تمام ملاحوں کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔
ہم شروع سے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں اور مستقبل میں بھی قونصلر رسائی سمیت تمام مدد فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم اس معاملے پر قطر انتظامیہ سے بات چیت جاری رکھیں گے۔
اس معاملے میں جاری عدالتی کارروائی کو بہت آسان طریقے سے سمجھتے ہیں۔ قطر کی عدالت نے ان ہندوستانیوں کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ یہ نچلی عدالت ہے۔ فیصلے کو بھی صیغہ راز میں رکھا گیا اسے صرف ملزم کی قانونی ٹیم کے ساتھ شیئر کیا گیا۔
اس کے بعد حکومت ہند اور ان بحریہ کے عہدیداروں کے اہل خانہ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو کورٹ آف اپیل (ہائی کورٹ) میں چیلنج کیا۔ جمعرات کو اس نے سزائے موت کو محض سزا میں بدل دیا۔ تاہم سزا کی مدت کیا ہوگی اس بارے میں ابھی تک معلومات نہیں مل سکیں۔
اب اگلا مرحلہ کورٹ آف کنسیشن ہے، جو قطر کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ آپ اسے سپریم کورٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس میں جیل کی سزا کو بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے یہ عدالت پوری سزا معاف کر دے۔
تاہم اس کے علاوہ قطر کے قومی دن (18 دسمبر) پر یہاں کے امیر بہت سے ملزمان کی سزا معاف کر دیتے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ سزا کو معاف نہیں کرتی ہے تو بھی قطر کے امیر یعنی چیف حکمران شیخ تمیم بن حمد الثانی ایسا کر سکتے ہی