سچن تنڈولکر نے مسجد اقصیٰ کو اسرائیل کا حصہ بتایا۔ لکھا یروشلم اسرائیل کا قدیم شہر

تازہ خبر عالمی
سچن تنڈولکر نے مسجد اقصیٰ کو اسرائیل کا حصہ بتایا۔تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا یروشلم سے سلام
مسلمانوں کی جانب سے ناراضگی اوربرہمی کا اظہار
نئی دہلی:۔31؍مارچ
(زین نیوز ڈیسک)
، سچن ٹنڈولکر کا شمار ہندوستان کے عظیم کرکٹروں میں ہوتا ہے کچھ مداحوں کی جانب سےانھیں کرکٹ کا خدا کہا جاتا ہے۔اورسچن ٹنڈولکر مشہور شخصیت ہیںاب کی سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین ناراض اور برہم ہیں۔
 دراصل کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر نے ایک ہفتہ قبل فلسطین کا دورہ کیا تھا اس دوران انہوں نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں کھڑے ہوکر تصویر کھنچوائی تھی ۔ سچن ٹنڈولکر کی سر پر جیکٹ اور ٹوپی پہنے تصویر پہلے ہی وائرل ہو چکی ہے۔ پس منظر میں، دوسروں کو الاقصیٰ کے ساتھ گروپ سیلفی لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
 سچن نے 3 مختلف زاویوں سے الاقصیٰ کی تصاویر لیں اور اپنے انسٹاگرام پیج پر ے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’یروشلم سے میرا سلام‘‘۔سچن نے یہ بھی لکھا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا قدیم شہر ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Sachin Tendulkar (@sachintendulkar)

جس کے بعد بہت سارے صارفین نے لکھا کہ مسجد اقصیٰ اور مسجد قبۃ الصخرہ فلسطین کے بیت المقدس شہر میں واقع ہے۔ انہیں یاد دہانی کرائی ہے کہ یہ اسرائیل نہیں فلسطین ہے اور سچن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ٹویٹ میں ترمیم کریں ۔  اور نوٹ کریں کہ فلسطین، اسرائیل نہیں۔
ایک صارف نے کہا کہ میں ان کا بہت بڑا مداح تھا لیکن اب نہیں ہوں۔ آپ کو اسرائیل کی جگہ فلسطین لکھنا چاہیے تھا۔ پھر بھی، یہ ٹھیک ہے کیونکہ آپ لوگوں سے اس سے بہتر کسی چیز کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ابراہیم نامی کسی نے ‘آزاد فلسطین’ کے ساتھ تبصرہ کیا، "یہ اسرائیل نہیں ہے۔”
ایک اور نے ان سے پوچھا کہ وہ کیسے نہ جان سکے کہ یہ فلسطین ہے؟ سرنام محمد نے اسے درست کیا اور لکھا، "یہ فلسطین ہے، پیارے دوست۔”
ایک مسلمان ٹریول بلاگر نے سابق ہندوستانی کرکٹ کپتان کو ‘اطلاع دی’ کہ وہ فلسطین میں ہیں نہ کہ اسرائیل میں۔ ایک اور نے بتایا کہ ‘شہر فلسطین کا حصہ ہے