سپریم کورٹ نے چیف منسٹر تلنگانہ کے خلاف ہتک عزت کیس کی درخواست خارج کر دی
آپ سیاست دان ہیں تو آپ کی کھال موٹی ہونی چاہیے۔سپریم کورٹ
حیدرآباد: ۔8؍ستمبر
(زین نیوز)
سپریم کورٹ نے تلنگانہ بی جے پی کی ہتک عزت کیس کی درخواست مسترد کر دیسپریم کورٹ نے پیر کو بی جے پی تلنگانہ یونٹ کی جانب سے دائر اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں ریاست کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ ریونت ریڈی کی انتخابی مہم کے دوران کی گئی تقریر پر درج کیا گیا تھا۔چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی، جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس اتل ایس چندورکر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے قرار دیا کہ عدالت کو سیاسی تنازعات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
بنچ نے ریمارکس دیےکہ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس عدالت کو سیاسی لڑائیوں کے لیے استعمال نہ کریں۔ اگر آپ سیاست دان ہیں تو آپ کی کھال موٹی ہونی چاہیے۔ہائی کورٹ کا فیصلہ اور پس منظریاد رہے کہ یکم اگست کو تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریڈی کی درخواست منظور کرتے ہوئے حیدرآباد کی ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت کیس کو خارج کر دیا تھا۔
اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے گزشتہ سال اگست میں قرار دیا تھا کہ ریڈی کے خلاف سابقہ تعزیرات ہند (IPC) اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125 کے تحت ہتک عزت کا مقدمہ پہلی نظر میں قابلِ سماعت ہے۔بی جے پی کی ریاستی اکائی، جس کی نمائندگی جنرل سکریٹری نے کی تھی، نے مئی 2024 میں ریونت ریڈی کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔
الزام لگایا گیا کہ ریونت ریڈی نے بی جے پی کے خلاف اشتعال انگیز اور ہتک آمیز تقریر کی، جس سے جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔قانونی نکات ریونت ریڈی نے ہائی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی تقاریر کے معاملے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 199 کے تحت ہتک عزت کا مقدمہ درج کرنے کی حد بہت زیادہ رکھی گئی ہے تاکہ معمولی سیاسی بیانات کو قانونی کارروائی میں نہ گھسیٹا جائے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بی جے پی تلنگانہ یونٹ یا اس کے جنرل سکریٹری کو قومی سطح پر پارٹی کی جانب سے شکایت درج کرانے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ سیاسی تقاریر میں اکثر مبالغہ آرائی کی جاتی ہے۔ یہ الزام لگانا کہ ایسی تقاریر ہتک آمیز ہیں، بذاتِ خود ایک مبالغہ آرائی ہے۔”
اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ ختم کر دیا۔سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ بی جے پی کی ریاستی اکائی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم سپریم کورٹ نے بھی درخواست کو خارج کر دیا اور ہائی کورٹ کے مؤقف سے اتفاق کیا۔
