سیما حیدر کو دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے
پاکستانی سم بھی توڑ کر پھینک دی تھی۔پانچویں پاس انگلش روانی سے بولتی ہے
آئی بی کے سرخ جھنڈے کے بعد اے ٹی ایس متحرک
نئی دہلی:۔19؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
پاکستان سے آنے والی سیما حیدر کی کہانی اور اس کے پاس سے ملنے والا مواد اسے دوبارہ گرفتار کر سکتا ہے۔ یوپی اے ٹی ایس ذرائع کے مطابق سیما کو اگلے دو تین دنوں میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ سیما کے پاس سے مختلف ناموں کے دو پاسپورٹ مختلف تاریخ پیدائش کے دستاویزات اور ایک ٹوٹا ہوا فون ملا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیما نے اپنی پاکستان سم بھی توڑ کر پھینک دی تھی۔ اس فون اور سم کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا۔ بھارت جاتے ہوئے اس نے شارجہ اور کھٹمنڈو میں سمیں بھی خریدیں۔ سیما کے پاس اپنا ایکٹیو فون تھا، لیکن وہ سچن کو پاکستان سے کسی نامعلوم شخص کے ہاٹ اسپاٹ کے ذریعے کال کرتی تھی۔ سچن کو بھی ٹوٹا ہوا فون ملا ہے۔
18 جولائی کومسلسل دوسرے دن یوپی اے ٹی ایس سیما سچن کو اپنے ساتھ ایک مبینہ سیف ہاؤس لے گئی۔ یہاں دونوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ یوپی اے ٹی ایس کو سیما حیدر سے 4 موبائل فون کام کی حالت میں ملے اور ایک ٹوٹا ہوا فون بھی برآمد ہوا۔ سیما حیدر کے پاکستانی نمبر والے فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ ان تینوں فونز کا ڈیٹا ریکور کیا جا رہا ہے۔
اے ٹی ایس ذرائع نےمیڈیا کو بتایا کہ سیما حیدر کے پس منظر کے حوالے سے ہندوستانی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو یعنی آئی بی سے سرخ جھنڈا ملا ہے۔ آئی بی کو یہ سرخ جھنڈا ہندوستانی خفیہ ایجنسی را یعنی ریسرچ اینڈ اینالائسز ونگ سے ملا ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سیما کے بھائی اور چچا پاکستانی فوج میں ہیں۔ آئی بی سے ملنے والے ان پٹ کے بعد ہی یوپی اے ٹی ایس سرگرم ہوئی اور سیما۔سچن سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
سیما پر سب سے بڑا شک یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کی جاسوس ہےجو محبت کے بہانے ہندوستان میں خفیہ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے آئی ہے۔ یوپی اے ٹی ایس کی توجہ اس کی تحقیقات پر ہے۔ پاکستانی نمبر والے فون سے ڈیٹا ڈیلیٹ ہونے اور مختلف دستاویزات میں مختلف تاریخ پیدائش کی وجہ سے یہ شک مزید بڑھتا جا رہا ہے۔
سیما حیدر نے 17 جولائی کو اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ میں اعتراف کیا ہے کہ سچن کے علاوہ وہ دوسرے ہندوستانی مردوں سے بھی رابطے میں تھی۔ سیما نے PUBG گیم کھیلتے ہوئے ان لوگوں سے واقفیت بھی کر لی تھی۔
سیما نے جن لوگوں سے رابطہ کیا ان میں سے زیادہ تر دہلی۔این سی آر سے تھے۔ جن لوگوں سے سیما نے PUBG کے ذریعے بات کی تھی ان کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔
اے ٹی ایس ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق اے ٹی ایس نے پیر کو سیما حیدر سے انگریزی کی کچھ سطریں پڑھی تھیں۔ سیما نے نہ صرف انہیں اچھی طرح پڑھا بلکہ اس کے پڑھنے کا انداز بھی اچھا تھا۔
خود سیما نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے صرف پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے باوجود اس کی انگریزی پڑھنے کی صلاحیت شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔
یوپی اے ٹی ایس نے سیما حیدر سے پوچھ گچھ کرنے سے پہلے دو دن تک تیاری کی تھی۔ سب سے پہلے گریٹر نوئیڈا پولیس سے سیما اور سچن دونوں کے بیانات کی کاپی طلب کی گئی۔ اس کے بعد سوالات تیار کیے گئے۔ یوپی پولس اور آئی بی کی جانچ میں سامنے آنے والے نکات کی بنیاد پر اے ٹی ایس سیما سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔