میدک پولیس کی بربریت کا شکار شہید محمد قدیر خان سپرد لحد ۔۔
رکن اسمبلی کاروان کوثر محی الدین جلوس جنازہ میں شرکت ضلع کلکٹر ضلع ایس پی سے نمائندگی..۔ ایم بی ٹی ترجمان امجد اللہ خان کا شدید احتجاج
ملوث پولیس ملا زمین کو برطرف کرنے بیوہ کا مطالبہ…!
ڈی جی پی نے دیا تحقیقات کا حکم..! انکواری کمیٹی کی تشکیل…!!
میدک:۔ 18؍فروری
(زین نیوز)
میدک ٹاون میں چند دن قبل شبہ کی بنیاد پر میدک مستقر سے تعلق رکھنے والے محمد قدیر کو حیدرآباد ان کی بہن کے مکان سے حراست میں لیتے ہوے تفتیش کے نام پر شدید ذدوکوب کیا گیا اور اتنا مارا گیا کے محمد قدیر کے دونوں گردے بھی فیل ہوچکے تھے۔
میدک پولیس کی بربریت سے متاثر ہو کر محمد قدیر سرکاری دواخانہ میں علاج کی غرض سے شریک ہو گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی شدید زخمی ہونے اور گردے متاثر ہونے کی انکشاف کرتے ہوئے حیدرآباد علاج کے لیے منتقل کرنے کی ہدایت دی جس پر انھیں ایک خانگی ہسپتال میں منتقل کیا گیا
جہاں سے کچھ دن بعد انہیں گاندھی ہاسپٹل شفٹ کر دیا گیا جمعرات کی رات بتایا جا رہا ہے کہ محمد قدیر خان نے گاندھی ہاسپٹل میں اپنی زندگی کے آخری سانس لی۔جمعہ کے پیش نظر پولیس نے نعش کو میدک منتقل کرنے میں ٹال مٹول کیا ۔
اس واقعے کی اطلاع پر مجلس بچا تحریک ترجمان جناب امجد اللہ خان نے گاندھی ہاسپٹل پہنچ کر شدید احتجاج کیا اورمیدک پولس کے رویہ کے خلاف سخت برہمی ظاہر کی اور پوسٹ مارٹم کرکے فوری لاش کو ورثا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔
لیکن پولیس اپنے منصوبے کے مطابق رات دیر گئے گاندھی ہاسپٹل پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد میدک لایا گیا اور 11:00 دن نماز جنازہ کا اعلان کر دیا گیا اور مسجد رواھل میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور قدیم قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔اس دوران بعض نوجوانوں نے عجلت میں نماز جنازہ اور تدفین پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔
لیکن بعض مقامی قائدین نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید محمد قدیر کی آخری رسومات ادا کردی ۔رکن اسمبلی کا روان جناب کوثر محی ایدین نے حیدرآباد سے میدک پہنچ کر نماز جنازہ میں شرکت کی اور جلوس جنازہ میں شریک رہے۔
بعد ازاں انہوں نے ضلع ایس پی اور ضلع کلکٹر سے ملاقات کرتے ہوئے پولیس ظلم کا شکار محمد قدیر کے ساتھ انصاف کرنے ملوث پولیس ملازمین کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریر یاداشت پیش کی۔
بتایا جا رہا ہے کہ ڈی جی پی نے بیوی کی درخواست پرتحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے اور پولیس کے اعلی عہدیدار آئی جی راج شیکھر کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔جلوس جنازہ میں بعض سیاسی لیڈر۔مسلم نوجوانوں کے علاوہ صدر نشین بلدیہ ٹی۔چندرا پال زرعی مارکیٹ کمیٹی چیئرمین بٹی جگوپتی نے شرکت کی۔
ڈی ایس پی سا یدولو کی نگرانی میں پولیس کے بندوبست کے گئے تھے۔سابق رکن اسمبلی میدک پی ششی دھر ریڈی نے اپنے ایک بیان میں مظلوم محمد قدیر خان کے ساتھ انصاف کرنے ملوث پولیس ملازمین کو برطرف کرنے۔ریاستی حکومت قدیر خان کے ارکان خاندان کو25 لاکھ روپے ایکس گریشا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سپریٹنڈنٹ اف پولیس میدک روہنی پریادرشنی نے 10 دن کے بعد اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے بالآخر ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔ میدک ضلع پولیس ہیڈکوارٹر سے ضلع ایس پی شریمتی پی روہنی پریہ درشنی آئی پی ایس نے پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ قادر خان کی موت کے سلسلے میں محکمہ جاتی کارروائی کی گئی ہے
اور میدک ٹان انسپکٹر، سی راج شیکھر اور دو کانسٹیبلس کو فوری اثر کے ساتھ آئی جی کے دفتر کو آٹچ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضروری تادیبی کارروائی کے لیے رپورٹ آئی جی کو بھجوا دی گئی ہے