اردو مدارس میں مضمون واری اساتذہ کی قلت اور اس کا حل

ادبستان تازہ خبر
 اردو مدارس میں مضمون واری اساتذہ کی قلت اور اس کا حل
 دہلی:۔11؍جون
 ( ایم۔ اے۔ حُسین )
مو جودہ دور میں صاحب علم افراد پر یہ ذمداری عائد ہوتی ہے کہ وہ خود اپنی قوم کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی کوشش کریں اوراس سمت میں نئی راہیں تلاش کریں اور ہموار بھی۔ اس ضمن میں میری کچھ تجاویز ہیں اگر موقع، محل اور مقام کے لحاظ سے قابل عمل ہیں تو عملی جامعہ پہنانے کی کوشش کی جائے اور اگر ناقابل عمل ہیں تو نئی سمتیں اور نۓ حل کی تلاش میں لگے رہیں
1۔مقامی صاحب ثروت افراد کے تعاون سے مضمون واری اساتذہ کا گھنٹوں کے لحاظ سے تقرر کریں۔
2۔ مقامی اساتذہ سے مالی تعاون کی اپیل کریں اور اسکا آغاز خود سے کریں
3۔ مقامی مضمون واری اساتذہ سے انکے مدارس کے اوقات کار کے بعد تدریس کیلیے وقت لیں
4ْ۔صاحب ثروت افراد سے  انکی سالانہ زکواۃ کی ایک مد کی رقم کا بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔ ( مشروط )
5۔مدرسے کے دوسرے اساتذہ کو بھی اس ذمداری میں اپنا حصہ ادا کر نا چاہیے ۔
6۔ مقامی کسی مدرسے میں اگر فارغ اساتذہ ہوں تو مہتمیمِ تعلیمات سے گزارش کی جا کر ڈیپیوٹ کیا جائے۔
7۔ اولیائے طلباء سے بھی گزارش کی جاۓ کہ وہ بھی اس کار خیر میں حصہ لیں ۔
8۔صحت مند وظیفہ یاب اساتذہ کی بھی خدمت لی جائے ۔
9. دسویں، انٹر اور ڈگری کامیاب طلباء بھی تدریس کی دلچسپی رکھتے ہیں اور قابل بھی ہو تے ہیں انکی خدمات معقول اعزازیہ کے عوض لی جاسکتی ہے جس سے انکی بھی کچھ حد تک مدد ہو جائے گی۔
 10۔ سماجی و تہذیبی تنظیموں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے اور انکی ترجیحات میں تعلیم کو لازماً شامل کروایا جائے ۔
11۔سماج کے صاحب ثروت افراد کو تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت وافادیت سے واقف کروایا جائے اور انفرادی یا اجتماعی تعلیمی اداروں کو قائم کرنے کی تلقین کی جاۓ تا کہ قوم اپنی تہذیب کی بقا کے ساتھ معیاری تعلیم بھی حاصل کر سکے۔
12۔فی زمانہ معیاری تعلیمی اداروں کا قیام اجتماعی مشن اور فرض کفایہ کا درجہ رکھتا ہے ۔
  نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
 ذرا نم ہو تو, یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی