تبسم ادبی معمہ دیانتداری کا دوسرا نام
تبسم ادبی معمے”شمع” جیسی مقبولیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
حیدرآباد میں سلور جوبلی تقریب کا انعقاد، ملک بھر سے معمہ نوازوں کی شرکت
حیدرآباد: 2۔؍ستمبر
(عمران زین)
ماہنامہ تبسم کے زیر اہتمام تبسم ادبی معمہ کی سلور جوبلی تقریب مدینہ کنونشن نہرو آڈیٹوریم، نامپلی حیدرآباد میں شاندار پیمانے پر منعقد ہوئی۔ اس پر وقار تقریب کی صدارت جناب سید سجاد رضوی، فاضل کمپائلر تبسم ادبی معمہ، حیدرآباد نے کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی، خطیب تاریخی مکہ مسجد حیدرآباد اور ڈاکٹر دیوراج شرما (جموں و کشمیر) محترمہ قمر کلثوم مدیر ماہنامہ تبسم، محترمہ شاہدہ غوری انچارج ایڈیٹر، سید اسماعیل غوری انچارج تبسم ادبی معمہ، ، مرزا معراج احمد (مرزا نوحی، مظفر نگر)، محمد تقی علی، عبدالعلیم (ڈی ایف او) ، سید مخدوم محی الدین حیدرآباد، محمد سلیم محی الدین عادل آبادتھے۔

علاوہ ازیں سعید احمد (کولکاتا)، محمد مسلم (کولکاتا)، ڈاکٹر الف انصاری (کولکاتا)، محمود عالم (کولکاتا)، تسنیم احمد (مظفر نگر) ونش راج شرما کشمیر، عبدالمتین (مظفر نگر)، محمد وسیم (مظفر نگر)، محمد خلیل فقی (ہلدی پور، کرناٹک)، محمد ابراہیم (کرناٹک) محمد وزیر خان کاوش، علی صالح (حیدرآباد)، ڈاکٹر واجد علی، محمد عبدالرشید، محمد فاروق حسین اور محمد وقار علی سمیت کثیر تعداد میں معمہ نواز احباب شریک ہوئے۔
پروگرام کا آغاز ڈاکٹر مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں عمران زین نے خطبۂ استقبالیہ اور افتتاحی کلمات ادا کیے۔ مہمانوں کا استقبال محمد مقصود علی اور سیدہ نجمہ موسوی نے کیا، جبکہ محمد خلیل فقی مدرس (ہلدی پور، کرناٹک) نے منظوم کلام پیش کیا۔

مرزا معراج احمد (مرزا نوحی) مظفر نگر نے اپنا تحریر کردہ تہنیت نامہ پڑھ کر سنایا اور بعدازاں ڈاکٹر دی آر شرما کے ہاتھوں سید اسماعیل غوری کو پیش کیا گیا۔شائقین معمہ ادبی گروپ کے اڈمن جناب فرزند احمد مغربی بنگال کا پیغام سلور جوبلی تقریب میں پڑھ کر سنایا گیا۔
کولکاتا سے آئے ہوئے محمد مسلم نے بھی اپنا پیغام سنایا اور ادارہ تبسم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔چیف اڈمن شائقین معمہ ادبی گروپ عمران زین نے فاضل کمپائلر سید سجاد رضوی و مدیر تبسم قمر کلثوم صاحبہ‘ اور نگران تبسم ادبی معمے سید اسماعیل غوری کو سپاس نامہ پیش کیا
ڈاکٹر دی آر شرما (جموں و کشمیر) نے اپنے پیغام میں ادارہ تبسم کو انعامی رقم میں اضافہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ درست جواب دینے والے احباب کو محض دو غلطیوں کی بنیاد پر انعام سے محروم نہ کیا جائے۔

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اردو زبان کے قارئین کی کمی، حکومت کی تنگ نظری اور اردو کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب پر شدید تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں اردو کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے، نصاب سے ہٹایا جا رہا ہے اور سرکاری دفاتر میں برائے نام استعمال ہو رہی ہے، جس کے باعث نئی نسل اردو سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
مقررین نے مسلمانوں اور اہل اردو سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو عربی کے ساتھ اردو کی تعلیم بھی دیں تاکہ یہ زبان زندہ رہ سکے۔مقررین نے مزید کہا کہ اگر حکومت کی یہی روش برقرار رہی تو اردو زبان شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اردو کو صرف برائے نام نہیں بلکہ عملی زبان کا درجہ دیا جائے اور سرکاری دفاتر و تعلیمی اداروں میں اس کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مقررین نے فروغ اردو میں ماہنامہ تبسم کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا اور کہا کہ ادب، دیانت اور برق رفتاری کی بنیاد پر تبسم نے بہت جلد قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی۔

معمہ نوازوں نے اسے ایک معتبر ادارے کے طور پر تسلیم کیا ہے، یہاں تک کہ اس نے "شمع” جیسی مقبولیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کے مطابق تبسم ادبی معمہ صرف حصولِ زر کا ذریعہ نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کی مقبولیت اور اشاعت کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔
جناب محمد تقی علی نے اپنی تقریر میں حیدرآباد کے نایاب ہیرے کوہ نور کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ فاضل کمپائلر سید سجاد رضوی بھی معمہ کی دنیا میں تاج میں جڑا ہوا ایک نایاب کوہ نور ہیرا ہیں، اور سید اسماعیل غوری اس ہیرے جڑے تاج کی حیثیت رکھتے ہیں۔

نگران تبسم ادبی معمہ جناب سید اسماعیل غوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تبسم ادبی معمہ دیانتداری کا دوسرا نام ہے۔ دیانت داری، ایمانداری اور تیز رفتاری کی بدولت تبسم نے اپنے 25 سال مکمل کیے اور آج سلور جوبلی تقریب منائی جا رہی ہے۔
انہوں نے فاضل کمپائلر سید سجاد رضوی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ماہرانہ فن سے نہ صرف شمع معموں کے کمپائلر یونس دہلوی کو پیچھے چھوڑا بلکہ جدت طرازی سے نمایاں مقبولیت حاصل کی۔

اسی موقع پر انہوں نے شائقین معمہ ادبی گروپ کی خدمات کی بھی بھرپور سرہانہ کی اور کہا کہ ادارہ تبسم ادبی معمہ کو شائقین معمہ ادبی گروپ سے فائدہ پہنچ رہا ہے اور ان کی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
فاضل کمپائلر جناب سید سجاد رضوی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تبسم ادبی معمہ کی کامیابی کا سہرا دراصل ان پروانوں کے سر ہے جو مسلسل محبت اور شوق کے ساتھ اس کارواں کا حصہ رہے۔
انہوں نے معمہ کی پچیس سالہ شاندار کارکردگی پر جناب اسماعیل غوری صاحب کو مبارکباد پیش کی اور تمام وابستگانِ معمہ کو سلور جوبلی کی مسرت انگیز موقعے پر دلی مبارکباد دیتے ہوئے صمیمِ قلب سے اظہارِ تشکر کیا۔

اس تقریب میں حیدرآباد کے علاوہ جموں و کشمیر، اتر پردیش، مغربی بنگال، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے معمہ نواز احباب شریک ہوئے۔ ادارہ تبسم کی جانب سے مہمانوں کو تہنیت پیش کرتے ہوئے میمنٹوز پیش کیے گئے۔
جلسے کی کارروائی عمران زین (جگتیال) اور محمد تقی علی (حیدرآباد) نے خوش اسلوبی سے چلائی۔ اس موقع پر معمہ نواز احباب کی شال پوشی بھی کی گئی۔

تقریب میں معمہ نمبر 284، 285 اور 286 میں ہیٹ ٹرک کرنے والے جناب ڈاکٹر دی آر شرما (جموں و کشمیر)، محمد سلیم محی الدین (عادل آباد)، محمد عمران زین (جگتیال) اور اس سے قبل کے معموں میں ہیٹر کرنے والے سعید احمد (کولکاتا) کو سید اسماعیل غوری کے ہاتھوں معمہ نوازوں کی موجودگی میں چیکس پیش کیے گئے۔پروگرام کا اختتام محترمہ سعیدہ وحیدہ کے کلماتِ تشکر پر ہوا۔