مرکزی حکومت اپوزیشن اتحاد انڈیا کی کامیابی سے خوفزدہ
اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، وزیر اعظم نردیندی مودی مکمل طور پر ناکام
حیدرآباد میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس، پارٹی قائدین کا خطاب
حیدرآباد:۔16؍ستمبر
(زین نیوز)
کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کا اجلاس ہفتہ 16 ستمبر کو حیدرآباد میں شروع ہوا۔ گزشتہ ماہ نئی CWC کی تشکیل کے بعد یہ پہلی میٹنگ ہے۔
اس میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت مہنگائی، بے روزگاری، منی پور تشدد اور عدم مساوات کو روکنے کے مسائل پر پوری طرح ناکام ہو رہی ہے۔
ملکارجن کھرگے نے یہ بھی کہا کہ جس طرح انڈین نیشنل انکلوسیو الائنس (انڈیا) کو کامیابی مل رہی ہے، اسی طرح بی جے پی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مصروف ہے۔ ہم پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی مذمت کرتے ہیں۔
کانگریس صدر نے کہا کہ حالیہ پرتشدد واقعات نے ہندوستان کی جدید، ترقی پسند اور سیکولر امیج کو دھچکا پہنچایا ہے۔ بی جے پی آگ پر تیل ڈال رہی ہے۔ اس دو روزہ میٹنگ کے دوران پانچ ریاستوں میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے کئی مرحلوں میں بات چیت کی جائے گی۔
اس میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، کانگریس ایم پی راہول گاندھی، پرینکا گاندھی، راجستھان کے سی ایم اشوک گہلوت، چھتیس گڑھ کے سی ایم بھوپیش بگھیل سمیت کئی لیڈروں نے شرکت کی۔
سی ڈبلیو سی میٹنگ سے پہلے سونیا گاندھی نے ٹویٹر پر لکھا – کانگریس ہمیشہ تلنگانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ریاست کو ترقی کے ایک نئے دور میں لے جایا جائے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی تلنگانہ اور ملک کی ترقی میں ایک نیا باب لکھنے کے لیے تیار ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہاکہ کانگریس نے ہمارے عظیم ملک میں جمہوریت، سماجی انصاف، ترقی اور مساوات کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ملک کی سالمیت کی جنگ لڑتے رہیں گے۔
کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال – یہ پہلی بار ہے کہ سی ڈبلیو سی کی میٹنگ کئی سالوں کے بعد دہلی سے باہر ہو رہی ہے۔ جیسے ہی تلنگانہ ریاست بنی لوگ جانتے ہیں کہ بھارت راشٹریہ سمیتی (BRS) کیسے اقتدار میں آئی۔
تلنگانہ حکومت ملک کی سب سے کرپٹ ریاست ہے۔ یہاں کے لوگ حکومت سے تنگ آچکے ہیں۔ ہم تلنگانہ کے عوام کو 6 ضمانتیں دیں گے۔ توقع ہے کہ یہاں کے انتخابات میں کانگریس کو اکثریت ملے گی۔
کانگریس ایم پی آنند شرمانے کہاکہ کانگریس کا ہندوستانی سیاست میں بڑا کردار ہے۔ ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہمارے لیے ملک کے موجودہ مسائل پر بات کرنے اور اگلی جنگ کے لیے تیار ہونے کا موقع ہے۔
ہماچل پردیش کے چیف منسٹر سکھون سنگھ سکھونے کہاکہ کانگریس نے تلنگانہ کو ریاست کا درجہ دیا ہے۔ یہاں CWC کی نئی میٹنگ کا مطلب ہے کہ یہ ریاست ہمارے لیے اہم ہے۔
کانگریس لیڈر سلمان خورشیدنے کہاکہ تلنگانہ ہماری پرانی سرزمین ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ اس زمین سے طاقت حاصل کی ہے۔ آج ہم اس سرزمین پر لوٹ آئے ہیں۔ ہم وہاں دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی امید کرتے ہیں۔
تلنگانہ میں بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان پوسٹر وار
تلنگانہ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کو لے کر حکمراں بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان پوسٹر وار دیکھنے میں آئی۔ حیدرآباد میں سی ایم کے چندر شیکھر راؤ کی تصویر کے ساتھ ‘بک مائی سی ایم’ اور ’30 فیصد کمیشن کے نعروں والے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔
کئی مقامات پر کانگریس کے خلاف پوسٹر اور بینر بھی لگائے گئے ہیں۔ ایک پوسٹر میں لکھا ہے – 2004 سے 2014 تک اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس نے درج فہرست ذات کی درجہ بندی کے نام پر دلتوں کو بیوقوف بنایا تھا۔ کانگریس ایک بار پھر ضمانت کے نام پر ایسا کرنا چاہتی ہے۔
