تلنگانہ کے جگتیال ضلع میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ
بیٹوں نے ضعیف ماں کوشمشان گھاٹ میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا
جگتیال:۔9؍ڈسمبر
(عمران زین)
تلنگانہ کے جگتیال ضلع میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ پیش آیا جہاں دو بیٹوں نے اپنی ضعیف ماں کو دوسری بار شمشان گھاٹ میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
یہ خبر انسانی قدروں اور خاندانی نظام کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں والدین اپنی زندگی کے آخری ایام میں اولاد کی بے حسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ جگتیال کے چِلکاواڑہ علاقہ کا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چِلکاواڑہ کی رہائشی راجوَّا نامی ضعیف خاتون کو ان کے بیٹے سری نواس نے یہ کہہ کر شمشان گھاٹ میں چھوڑ دیا کہ وہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کرکے واپس آئے گا۔
مگر کئی دن گزر جانے کے باوجود وہ واپس نہیں آیا۔تین دن پہلے کچھ لوگ اپنے عزیز کے آخری رسومات کے لیے شمشان پہنچے تو وہاں ایک کمرے سے ضعیفہ کی دبی دبی آوازیں سنائی دیں۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ خاتون بے بسی کے عالم میں موجود تھیں۔ جب پوچھا گیا تو راجوَّا نے بتایا کہ ان کا بیٹا انہیں یہاں چھوڑ گیا ہے اور وہ بھوک و خوف سے تڑپ رہی ہیں۔
ضعیف خاتون نے لوگوں سے بھیک مانگی کچھ کھانے کو دے دو، کوئی چادر ہو تو وہ بھی دے دو۔”یہ الفاظ وہاں موجود لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے خاتون کو ہسپتال لے جانے کی پیشکش کی، لیکن راجوَّا نے بیٹے کے لوٹنے کی امید میں انکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں راتوں کو بھوتوں کا خوف ستاتا ہے اور وہ نیند سے محروم ہیں۔پہلے بھی پیش آیا واقعہ:تقریباً 12 دن پہلے بھی راجوَّا کو شمشان میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس وقت مقامی حکام نے انہیں ہسپتال میں علاج فراہم کروا کر سکھی سینٹر منتقل کیا تھا۔ بعد میں ان کے بیٹوں کو کاؤنسلنگ کے بعد ماں کو گھر لے جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
تاہم افسوس کے ساتھ یہ واقعہ دوبارہ پیش آیا۔عوام کا مطالبہ:مقامی خواتین اور شہریوں نے ضعیف خاتون کی حالت دیکھ کر حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ضعیف والدین کی دیکھ بھال نہ کرنا ‘بزرگ والدین کا تحفظ قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے۔
وجیہ لکشمی، مقامی خاتون لیڈر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سماجی اقدار پر بدنما داغ ہیں۔ حکام کو فوری مداخلت کرکے متاثرہ خاتون کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے بیٹوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔