سپریم کورٹ نے اپوزیشن اتحاد کے نام’’انڈیا ‘‘کے خلاف درخواست خارج کر دیا۔
کہا ہم نہیں سنیں گے۔ الیکشن کمیشن کے پاس جائیں۔
نئی دہلی:۔11؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
سپریم کورٹ نے جمعہ کو 26 سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو اپنے اپوزیشن اتحاد کے نام کے طور پر لفظ "انڈیا” (انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس) کے استعمال سے روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ ایسا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جانا چاہیے۔ ہم اس پر براہ راست نہیں سن سکتے۔
جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ بنچ نے عرضی گزار سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ آپ اس میں کیا دلچسپی رکھتے ہیں؟ الیکشن رولز کی خلاف ورزی ہوئی تو الیکشن کمیشن کے پاس جائیں۔ آپ پبلسٹی چاہتے ہیں۔
پارٹیاں خود کو زیادہ قوم پرست کے طور پر پیش کرنے کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں: پٹیشنر
یہ درخواست روہت کھیریوال نامی وکیل نے دائر کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا-
کسی سیاسی پارٹی یا اتحاد کو خود کو ہندوستان کہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ آج سیاسی جماعتیں خود کو زیادہ قوم پرست ظاہر کرنے کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
عدالت نے پوچھا کہ کیا عدالت اس ہنگامہ آرائی کو کنٹرول کر سکتی ہے؟ اس پر سیاسی اخلاقیات پر سوال اٹھاتے ہوئے درخواست گزار نے عدالت سے نوٹس لینے کی استدعا کی۔
جواب میں عدالت نے کہا کہ ہم یہاں سیاسی جماعتوں کی اخلاقیات نہیں سن سکتے۔ یہ افسوسناک ہے کہ لوگ عدالت کا وقت ضائع کرتے ہیں۔
اس کے بعد درخواست گزار نے عدالت سے کیس واپس لینے کی ہدایت کی استدعا کی۔ بنچ نے اپیل منظور کر لی جس کے بعد سپریم کورٹ نے درخواست کو واپس لیتے ہوئے خارج کر دیا۔
اپوزیشن جماعتوں کی دوسری میٹنگ 17 اور 18 جولائی 2023 کو بنگلورو میں ہوئی۔ جس میں 26 جماعتوں نے شرکت کی۔
اس میٹنگ میں اس اتحاد کا نام انڈیا رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 17 جولائی کو ہونے والی ایک غیر رسمی میٹنگ میں اس اتحاد کا نام انڈیا رکھنے کی تجویز پیش کی گئی۔
اس پر تمام اپوزیشن لیڈروں سے تجاویز مانگی گئیں۔ نتیش کمار شروع میں اس نام سے متفق نہیں تھے لیکن سب کی رضامندی کے بعد انہوں نے بھی انڈیا کا نام قبول کر لیا۔