سماجی جہد کار تیستا سیتلواد کی ضمانت کی درخواست مسترد

تازہ خبر قومی

سماجی جہد کار تیستا سیتلواد کی ضمانت کی درخواست مسترد
گجرات ہائی کورٹ نے فوری خودسپردگی کا حکم دیا

احمد آباد:۔یکم؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)

گجرات ہائی کورٹ نے ہفتہ کو سماجی جہد کارتیستا سیتلواڑ کی باقاعدہ ضمانتکی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے اسے فوری طور پر خودسپردگی کا حکم دیا گیاہے۔ تیستا سیتلواڑ پر 2002 کے گجرات فسادات سے متعلق کیسوں میں بے قصور لوگوں کو پھنسانے کے لیے ثبوت گھڑنے کا الزام ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ چونکہ درخواست گزار سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی عبوری ضمانت پر باہر ہے۔جسٹس نیرزار دیسائی کی عدالت نے تیستا سیتلواڑ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور انہیں فوری طور پر خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی کیونکہ وہ عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد پہلے ہی جیل سے باہر ہیں۔

سیتلواڑ کو گزشتہ سال 25 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے سات دن کے پولیس ریمانڈ میں رکھا گیا اور 2 جولائی کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔

اس کے بعد انہوں نے گجرات ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ جب درخواست پر سماعت میں تاخیر ہوئی تو وہ سپریم کورٹ پہنچیں، جہاں انہیں ستمبر 2022 میں عبوری ضمانت مل گئی۔

سپریم کورٹ نے 24 جون 2022 کو گجرات فسادات کے معاملے میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو کلین چٹ دینے والی ایس آئی ٹی رپورٹ کے خلاف درخواست کو خارج کر دیا۔ یہ درخواست ذکیہ جعفری نے دائر کی تھی۔ ذکیہ جعفری کے شوہر احسان جعفری ان فسادات میں مارے گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ذکیہ جعفری کی درخواست میں کوئی میرٹ نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ کیس میں شریک درخواست گزار تیستا نے ذکیہ جعفری کے جذبات سے کھیلا۔ عدالت نے تیستا کے کردار کی تحقیقات کا کہا تھاجس کے بعد تیستاسیتلواڑ کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا۔

گجرات فسادات کے معاملے میں احمد آباد کرائم برانچ نے تیستا سیتلواڑ، سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ اور ڈی جی پی آر بی سری کمار کے خلاف فرضی دستاویزات بنا کر سازش کا مقدمہ درج کیا تھا۔ سنجیو بھٹ پہلے ہی جیل میں تھے، جب کہ تیستا اور سری کمار کو گزشتہ سال ایک ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

تیستا سیتلواڑ، سری کمار اور بھٹ پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے ثبوت گھڑنے اور بے قصور لوگوں کو سزائے موت دینے والے جرم کے لیے سازش کر کے قانون کے عمل کا غلط استعمال کیا۔

گجرات میں 2002 میں فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا۔
27 فروری 2002 کو گجرات کے گودھرا اسٹیشن پر سابرمتی ایکسپریس ٹرین کے S-6 ڈبے کو آگ لگا دی گئی۔ آگ لگنے سے 59 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ سب کار سیوک تھے، جو ایودھیا سے واپس آرہے تھے۔

 گودھرا واقعہ کے بعد پورے گجرات میں فسادات پھوٹ پڑے۔ ان فسادات میں 1,044 لوگ مارے گئے تھے۔ اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔

گودھرا قتل عام کے اگلے دن یعنی 28 فروری کو احمد آباد کی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک بے قابو ہجوم کے ہاتھوں 69 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مرنے والوں میں کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری بھی شامل ہیں جو اسی سوسائٹی میں رہتے تھے۔ ان فسادات کی وجہ سے ریاست کے حالات اتنے بگڑ گئے تھے کہ تیسرے دن فوج کو اتارنا پڑا