تمل ناڈو بی جے پی کے صدر انامالائی پر مذہبی دشمنی کو فروغ دینے کے الزام میں مقدمہ درج
نئی دہلی:۔11؍جنوری
( زین نیوز ڈیسک)
تمل ناڈو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر انامالائی کے خلاف عیسائی نوجوانوں کے ساتھ جھگڑے کے بعد مذہبی دشمنی کو فروغ دینے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انامالائی پر الزام ہے کہ اس نے دو گروہوں کے درمیان مذہبی دشمنی کو بڑھایا ہے۔
دھرم پوری پولیس نے اناملائی کے خلاف دو گروپوں کے درمیان مذہبی دشمنی کو بڑھاوا دینے کے الزام میں دھرم پوری ضلع کے بومیڈی پولیس اسٹیشن میں دفعہ 153 (A)، 504، 505 (2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے
جمعرات، 11 جنوری کو رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تمل ناڈو کے دھرما پوری میں تمل ناڈو بی جے پی کے سربراہ کے انامالائی کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔ بی جے پی لیڈر انامالائی پر دونوں گروپوں کے درمیان مذہبی دشمنی کو فروغ دینے کا الزام ہے۔
8 جنوری کو کے اناملائی نے اپنے حامیوں کے ساتھ ریاست میں ایک ریلی نکالی۔ دریں اثناء وہ بومیڈی کے سینٹ لارڈس چرچ میں مدر مریم کے مجسمے پر پھول چڑھانے آئے تھے۔ لیکن وہاں موجود نوجوانوں نے اس کے چرچ میں داخلے پر اعتراض کیا تھا۔ ان نوجوانوں نے کہا کہ منی پور میں عیسائی برادری کے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔
حالانکہ اس دوران اناملائی نے نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن ہنگامہ ہوا اور جھگڑا بڑھ گیا۔ انامالائی نے عیسائی نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا چرچ ان کے نام پر ہے اور اگر وہ 10,000 لوگوں کو جمع کر کے احتجاج کریں گے تو وہ کیا کریں گے۔
کے انامالائی اور نوجوان کے درمیان بات چیت کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں ایک عیسائی نوجوان انامالائی سے کہہ رہا ہے، منی پور میں ہم جیسے عیسائی لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔
اس پورے معاملے پر پی پالی پٹی کے رہنے والے کارتک نامی 28 سالہ شخص نے بی جے پی صدر کے خلاف شکایت کی تھی۔ شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے اناملائی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر مشتعل نوجوانوں کو ہٹایا، جبکہ ریاستی بی جے پی صدر کو چرچ میں داخل ہونے اور مورتی پر پھول چڑھانے کی سہولت فراہم کی۔