آصف آباد:۔7؍ڈسمبر
(زین نیوز )
ان دنوں اسکولوں میں پڑھنے والی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہےاکثر و بیشتر واقعا ت میں استاد کی جانب سے لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات درج ہوتے ہیں ۔ یہ واقعہ کچھ ایسا ہے کہ حیرت میں ڈالنے والا ہے
تفصیلا ت کے مطابق تلنگانہ ریاست کے کمرم بھیم آصف آباد ضلع چنتل مانی پلی منڈل کے بابا پور۔گنگاپور گاؤں میں ایک سرکاری اسکول میں کام کرنے والی ایک خاتون ٹیچر کو طالبات کو گمراہ کرنے اور فرائض میں غفلت برتنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں منگل کی شام ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر اشوک نے ایک حکم جاری کیا۔
حکمنامہ کے مطابق، باباپور۔گنگاپور گاؤں کے ایک ہائی اسکول کی اسکول اسسٹنٹ پی سویتا ، طلباء کی تصاویر اور ویڈیوز لیتی ہے اور انہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کرتی ہے۔ طلباء سے شراب کے بارے میں تبادلہ خیال بھی کرتی اور مبینہ طور پر اس نے طلباء کو فون پر اجنبیوں سے بات کرنے پر مجبور کیا
ٹیچرکی حرکتوں کا پردہ فاش اس وقت ہوا جب اسکول کے طلباء نے اپنے والدین کو خاتون ٹیچر حرکتوں کی اطلاع دی۔جس کے بعد والدین اور طلبہ تنظیموں نے اسکول کے سامنے دھرنا دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیچر کو معطل کیا جائے۔
اولیائے طلباء کا یہ معاملہ ضلعی محکمہ تعلیمات کے افسران کےعلم میں آنے کے بعد افسران نے ٹیچر کے رویے کی تحقیقات کا آغاز کیا۔ اسکول کی طالبات سے بات کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان پر لگائے گئے الزامات درست ہیں
ضلعی حکام نے فرائض میں غفلت برتنے اور اسکول میں منفی رویہ اختیار کرنے کے پیش نظر معطل کر دیا گیا ۔واضح رہے کہ وہ مبینہ طور پر وہ طالبات کی تصاویر اور ویڈیوز لے رہی تھی اور نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کر رہی تھی