راج بھون۔ پرگتی بھون کے درمیان پھر سے فاصلوں کاامکان
بلز کی عدم منظوری پر گورنر کے خلاف حکومت سپریم کورٹ سے رجوع
حیدرآباد:۔2؍مارچ
(زین نیوزبیورو)
تلنگانہ میں راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان فاصلے اس وقت ختم ہوتے ہوئے دیکھائی دئے جبکہ گورنر تمیلی سائی سوندرراجن نے قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے آغاز پر کونسل اور اسمبلی کے دونوں ایوانوں سے خطاب کیا۔
بغیر کسی الزام یا تنقید کے ان کی تقریر مرکزی حکومت کا ذکر کئے بغیر جاری رہی۔ سب کا خیال تھا کہ گورنر اور حکومت کے درمیان اختلافات ختم ہو جائیں گے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان فاصلہ کم ہو گیا ہے۔ اب حکومت تلنگانہ نے گورنر کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
چیف سکریٹری شانتی کماری نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کی جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ 10بل گورنر تمیلی سائی سوندراراجن کے پاس زیر التوا ہیں اور وہ بلوں کو منظور نہیں کر رہی ہیں۔
تلنگانہ حکومت نے اس عرضی میں گورنر کو مدعی کے طور پر پیش کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں کل(جمعہ)کو درخواست کی سماعت ہونے کا امکان ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمبلی اور قانون ساز کونسل سے منظور شدہ 10 اہم بل گورنر کے پاس ہیں۔
یہ بل گزشتہ سال ستمبر میں اسمبلی اور کونسل میں منظور کر کے گورنر کو منظوری کیلئے بھیجے گئے تھے۔ حکمران جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ4ماہ گزرنے کے باوجود گورنر نے بلوں کی منظوری نہیں دی۔ راج بھون کو بھیجے گئے بلوں میں عہدوں پر تقرری سے متعلق بل بھی شامل ہے ۔
اگر ان کو نافذ کرنا ہے تو گورنر کی منظوری درکار ہے۔ قبل ازیں زیر التوا بلوں کی منظوری کے بارے میں پوچھے جانے پر،گورنر نے کہا تھا کہ منظوری کا فیصلہ مکمل طور پر ان کے دائرہ اختیار میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور گورنر ان کے پاس وسیع اختیارات ہیں اور وہ بلوں کا جائزہ لے کر جلد فیصلہ کریں گی۔ گورنر نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ ان بلوں کا مطالعہ کر رہی ہیں۔
پبلک سیکٹر‘ یونیورسٹیوں میں تقرریوں سے متعلق جوائنٹ بورڈ بل‘ میونسپل ایکٹ میں ترمیم‘ اعظم آباد انڈسٹریل ڈیولپمنٹ ایکٹ اور یونیورسٹی بل گورنر کے پاس زیر التوا ہیں۔
اعظم آباد انڈسٹریل ایریا ایکٹ ترمیمی بل ان میں سے ایک ہے جو خاص طور پر راج بھون میں زیر التوا ہیں۔ یہ مرکزی حکومت کے قانون میں شامل ہے۔ اس لئے اس بل کے تعلق سے صدر کی منظوری لازمی ہے۔
بقیہ بلوں کو قانون بننے کیلئے گورنر سے منظوری لینی ہوگی۔ مہینوں تک بلز راج بھون میں پڑے ہوئے ہیں۔ جس پر حکومت نے مسئلہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
گورنر کے پاس زیر التوا بلز میں ملگ فارسٹ کالج اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو فارسٹ یونیورسٹی میں اپ گریڈ کرنا‘تلنگانہ یونیورسٹیز جوائنٹ ریکروٹمنٹ بورڈ‘جی ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم‘اعظم آباد انڈسٹریل ایریا ترمیمی ایکٹ‘موٹر وہیکل ٹیکسیشن ترمیم‘پبلک
ایمپلائمنٹ ایکٹ میں ترمیم‘پرائیویٹ یونیورسٹی ترمیمی اورمیونسپل ایکٹ میں ترمیمی بل قابل ذکر ہیں۔اس نئی درخواست سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں گے۔
