تانڈور میں دسویں جماعت کے پہلا تلگو پرچہ کا افشا
ٹیچر بندیا گرفتار ، موبائل فون ضبط، 4خدمات سے معطل‘عہدیدار مصروف تحقیقات
حیدرآباد:۔3؍اپریل
(زین نیوزبیورو)
دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات جس کا آج سے آغاز ہوا تانڈور ٹاون ضلع وقارآبادمیں اندورن 7منٹ تلگو زبان اول پرچہ کا افشاء ہوگیا۔ اس واقعہ پر ڈائرکٹر دیوی سینا نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اوربتایا کہ کلکٹر ـضلع وقار آباد نارائین ریڈی نے اس معاملہ پر چا ر عہدیداروں کو خدمات سے معطل کردیا۔
ان میں چیف سپرنٹنڈنٹ شیوکمار‘ڈپارٹمنٹ آفیسر کے گوپال‘ ممتحن ایس بندپا اور سمپا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بندپا اور سمپا کے خلاف فوجدای مقدمہ درج رجسٹر کیا گیا ہے اور دیگر خاطیوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔

یہ تلگو زبان اول کا پرچہ دیکھے ہی دیکھتے واٹس ایپ پر گشت کرنے لگا مقامی عہدیداروں اور طلبہ میں سنسنی پیدا کردی ہے۔اطلاعات کے مطابق 9:30بجے صبح جونہی امتحانات کا آغاز ہوا9:37بجے صبح پرچہ سوال واٹس ایپ پر گردش کرنے لگا۔
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ تانڈور کے ایک قدیم سرکاری اسکول میں قائم امتحانی مرکز سے یہ پرچہ سوال کا افشا ہوا ہے۔؟ تاہم ڈی ای او وقار آباد ضلع رینوکا دیوی نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا تھا کہ ضلع میں پرچہ لیک ہوا ہے۔
تاہم امتحان کے اختتام کے بعد دوپہر12:30بجے جب واٹس ایپ پر وائرل لیک شدہ پرچہ سوال اور امتحانی مرکز سے باہر آنے والے طلبہ کے پاس موجود گی پرچہ کا تقابل کیا گیا تو یہ ایک ہی تھے۔اس اطلاع کے فوری بعد ڈی ای اوضلع وقارآباد رینوکا دیوی نے کلکٹر ضلع وقارآباد نارائن ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے اس پورے واقعہ کی رپورٹ دی۔اور ضلع ایس پی سے بھی اس کی شکایت کی ۔
دوسری جانب اس واقعہ کے بعد طلبہ اور ان کے سرپرستوں میں بھی سنسنی کی لہر دوڑ گئی ۔انٹلی جنس عہدیدار،تحصیلدار تانڈور چنا اپلا نائیڈو،سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور راجندرریڈی اورمحکمہ تعلیمات کے اعلی عہدیدار تحقیقات کیلئے شاہی پور میں موجود گورنمنٹ نمبر۔I ہائی اسکول کے امتحانی مرکز پہنچ گئے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہاں سے بندپا نامی ٹیچرنے9:37بجے صبح اپنے موبائل فون سے تلگو کے اس پرچہ سوال کی تصویر لے کر ایک واٹس ایپ گروپ میں پوسٹ کیاتھا۔تحصیلدار چنپلا نائیڈو اور پولیس نے بندپا ٹیچر سے اسکول میں ہی تین گھنٹوں تک تفتیش کی اور ان کا موبائل فون اپنی تحویل میں لے لیا۔
اس دران پتہ چلاکہ اسی کے موبائل فون کے واٹس ایپ سے پرچہ پوسٹ کیا گیا ہے۔پولیس اورعہدیدار اس زاویہ سے بھی مزید پوچھ تاچھ اور تحقیقات کیں کہ کیا بندپا ٹیچر نے پرچہ سوال امتحان کے آغاز کے بعد طلبہ میں تقسیم کرنے کے بعد ہی واٹس ایپ پر اس کو لیک کیا تھا یا پھر امتحان کے آغاز سے قبل ہی یہ حرکت کی ہے۔
پولیس نے خاطی ٹیچر کو گرفتار کرلیا۔اسی دران منڈل ایجوکیشن آفیسر(ایم ای او)تانڈور وینکٹیانے واضح کیا کہ اس ٹیچر نے پرچہ کو صرف تانڈور میں ہی افشا کیا ہے۔ امتحانی مراکز میں موبائل فونس ممانعت کے باوجودبندیا ٹیچر نے اپنا سیل فون انچارج کے حوالے نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس امتحانی مرکز پر260طلبہ کو امتحان میں شریک ہونا تھا لیکن ہی شریک امتحان رہے۔جو دو طلبہ غیرحاضر تھے ان کے پرچہ سوالات کو لے کر بندیا ٹیچر نے واٹس ایپ پر پوسٹ کردیا۔جس کے بعد یہ وائرل ہوگیا۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اس ٹیچر پر اس سے قبل پوکسو ایکٹ کے تحت ایک کیس درج ہے۔۔
اب دوبارہ یہ ٹیچرپرچہ سوال کو لیک کرتے ہوئے سرخیوں میں ہے۔ دریں اثناء اس اطلاع پر نامپلی میں یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کے صدر شیوسینا ریڈی اور بالموری وینکٹ کی قیادت میں ایس ایس سی بورڈ کا محاصرہ کیا گیا۔
https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/586644343441839
انہوں نے دفتر کے سامنے درخت ٹی آر ایس (بی آر ایس ) کا پتلہ لٹکا کر احتجاج کیا اورمطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کو برطرف کیا جائے۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔