ڈاکٹر اے ، پی ، جے عبدالکلام فائونڈیشن کے زیر اہتمام اردو اکیڈمی کے اعزاز میں اعزازیہ
دیوبند،:۔7؍ نومبر
(رضوان سلمانی)
اہلیان دیوبند اور ڈاکٹر اے ، پی ، جے عبدالکلام فائونڈیشن کے زیر اہتمام اترپردیش اردو اکیڈمی کے چیئرمین چودھری کیف الوریٰ کی دیوبند آمد پر گزشتہ شب ایک استقبالیہ پروگرام مقام دفتر محلہ شاہ ولایت میں کیا گیا۔
جس میں دیوبند کے شعرائ، ادباء اور مختلف مدارس و اسکول کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ عمائدین شہر نے شرکت کی۔
اس دوران چیئرمین کے ہاتھوں ڈاکٹر اے،پی،جے عبدالکلام فائونڈیشن کے دو شعبوں تنزیل القرآن لرننگ انسٹی ٹیوٹ اور کلام اسکیل ڈولپمنٹ سینٹر کا افتتاح عمل میں آیا۔
اس موقع پر چیئرمین چودھری کیف الوریٰ نے کہا کہ ملک میں بسنے والی اکثریت اور اقلیتوں کے درمیان جو فاصلہ ہے اسے کم ہونا چاہئے تاکہ پیش آمدہ مسائل کا حل بہ آسانی نکل سکے۔
چیرمین موصوف نے کہا کہ اردو اکیڈمی میں اردو زبان کی خدمت کرنے والے علمائ،ا دبائ، شعراء کے لئے بہت ساری تجاویز ہیں۔ اگر آپ ان تجاویز سے استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کاساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش کی موجودہ حکومت
اردو کے نشرو اشاعت کے لئے بھرپور کوششیں کررہی ہیں ،ہمارا بھی مقصد اردو کی حفاظت کرنا ہے تاکہ یہاں پر پیدا ہوئی زبان کا وقار برقرار رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت سبھی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لئے خیرخواہ ہے۔
دینی مدارس ہوں یا مساجد کسی کو اس حکومت سے کوئی پریشانی ہو تو بتائیں میں بذات خود وزیر اعلیٰ سے بات کرکے اس مسئلہ کو حل کرائوں گا۔ انہو ں نے کہا کہ ہم سب جب تک حکومت وقت کے قریب نہیں ہوں گے اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

انہو ں نے کہا کہ اس سال آئی اے ایس کی مفت تیاریوں پر خاص توجہ دی جارہی ہے ۔ اس سال لڑکے اور لڑکیو ںکی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے لڑکوں کی تعداد 72 سے 90اورلڑکیوں کی تعداد 8سے بڑھاکر 16کردی گئی ہے۔
اکیڈمی کے ڈائریکٹر اور اسٹاف کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب سبھی بہتر ٹریننگ حاصل کررہے ہیں ، یہ مکمل نظام مفت ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ اس کے علاوہ ریاست کے شعراء ، ادیب، بیمار، اور معذور ادیبوں کے لئے خاص اسکیم چلائی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے محبان اردو اپنے دائرے کو بڑھاتے ہوئے اکیڈمی سے رابطہ قائم کریں اور فائدہ حاصل کریں،حکومت اوراکیڈمی کا یہی مقصد ہے ۔
اس موقع پر علماء دیوبند کی اردو خدمات کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضیل احمد ناصری استاذ جامعہ امام محمد انور شاہ نے کہا کہ اس ملک میں شروع سے ہی اردو کی نشرو اشاعت میں مدارس کا اہم کردار رہا ہے اور آج بھی ملک میں اردو کو زندہ رکھنے میں مدارس کا اہم کردار ہے۔
مولانا عبداللہ ابن القمر الحسینی ڈائریکٹر اے،پی،جے عبدالکلام فائونڈیشن نے چودھری کیف الوریٰ کے خانوادہ اور گورکھناتھ مندر کے ذمہ داران کا قدیم رابطہ کا ذکر کرتے ہوئے بہت سی مساجد کے مسائل حل کرنے کا انکشاف کیا۔
مولانا ابن القمر نے کہا کہ یہ رابطے تقریباً ایک صدی پر محیط ہیں۔ آج کے اس تعصب زدہ دور میں رابطہ کو نبھانا چودھری خانوادہ سے زیادہ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ جی کا کمال ہے جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
مولانا ابن القمر نے کہا کہ اس خانوادہ کا یہ مضبوط رشتہ موجودہ وقت میں اکثریت اور اقلیتوں کے لئے برج کا کام کرے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ چودھری کیف الوریٰ اپنے دیرینہ اور مضبوط تعلق کو مسلمانوں کے لئے بھرپور استعمال کریں گے۔
مولانا ابن القمر نے کہا کہ موجودہ حکومت سازی کے بعد پہلی مرتبہ مضبوط اور قابل اعتماد ذریعہ سامنے آیا ہے۔ انشاء اللہ فاصلے کم ہوں گے، مسائل حل ہوں گے۔
اس دورانچیرمین دونوں شعبوں کی تفصیلات سننے کے بعد چیرمین موصوف نے کہا کہ ڈاکٹر اے،پی،جے عبدالکلام کا خواب جسے پی ایم مودی جو اکثر کہتے ہیں کہ ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں لیپ ٹاپ کا خواب جلد ہی شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے۔
پروگرام کی صدارت کررہے مولانا عبداللطیف قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ شاعروں اور ادیبوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بولنے اور لکھنے پر خاص توجہ دیں ۔ اردو کی باگ ڈور اب انہیں کے ہاتھ میں ہے۔
پروگرام کی نظامت سید وجاہت شاہ نے کی۔ آخر میں مولانا عبداللہ ابن القمر نے اے،پی،جے عبدالکلام فائونڈیشن کی طرف سے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر مولاناعبداللطیف قاسمی، مولانا سکندر قاسمی، قاری محمد عامر عثمانی، نجم عثمانی، ڈاکٹر ایس اے عزیز، پروفیسر شارق، ڈاکٹر عثمان رمزی، شاہ فیصل مسعودی، خورشید احمد صدیقی، ڈاکٹر دانش، مولانا عبدالعلیم قاسمی، مولانا عبادہ قاسمی، ڈاکٹر اشفاق احمد عمر، تنویر اجمل، چاند دیوبندی وغیرہ موجود رہے۔