جامعہ عائشہ للبنات میں مولاناسید بدرالہدی قاسمی کا اظہار خیال
دیوبند:۔ 20؍ نومبر
(رضوان سلمانی) قصبہ کاندھلہ کے محلہ خیل میں واقع جامعہ عائشہ للبنات میں طوبی فلک ہاشمی کے زیر نگرانی میں ششماہی امتحان منعقد ہوا، جس میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے والی طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔
اسی مناسبت سے منعقد تقریب کو خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے روح رواں بزرگ عالم دین و خلیفہ مجاز مولانا سید بدر الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ صنف نازک کی تعلیم سے قوم مجموعی حیثیت سے ہنوز پوری طرح بیدار نہیں ہوئی ہے، ہاں! کروٹ ضرور لی ہے جو مستقبل کے لیے خوش آئند ہے۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم نسواں کا نعرہ تو برسوں سے لگایا جارہا ہے مگر حقیقی معنوں میں طالبات کے لیے معیاری اداروں کا فقدان ہے۔
البتہ ایسے اداروں کی فراوانی ہوتی جارہی ہے، جہاں بچیوں کے ناموں کی حفاظت کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ خاص طور پر مخلوط تعلیمی نظام کسی بھی طرح مفید نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں اس کام کے لیے خود ہی آگے آنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ مسلم بچوں کی تعلیم کے لیے ہر قصبہ میں دینی اور عصری دونوں طرح کے اداروں کے قیام کی ضرورت ہے مولانا سلطان تھانوی نے کیا کہ تعلیم نسواں وقت کی اہم ضروری ہے
جس سے خاندان کے اندر شعور پیدا ہوتا ہے۔ جامعہ کے نائب مہتم مولاناسید مظہر الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ ایک بچی تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو پورے ایک خاندان کے لیے وہ شمع بن جاتا ہے اور خاندان علم کے نور سے روشن ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قوم کو احساس ہونے لگا ہے، یہ بڑی بات ہے۔
محترمہ طوبیٰ فلک ہاشمی نے کہا کہ بہت سی بچیاں بہت ہی زیادہ ذہین ہوتی ہیں۔ سماج کومل کر ان کی تعلیم کا بندو بست کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ روایتی تعلیم اور مفت تعلیم کا دور جاتارہا ہے۔اب تو تعلیم بھی تجارت بنتی جارہی ہے۔ اس لیے سروے کر کے استعداد والی بچیوں کی حیثیت کے موافق مددکرنی چاہیے۔
اس موقع پر حنا، سمیہ خاتون، منتشاء خاتون، مصباح خاتون نے طالبات کا قرآن کریم، عربی درجات اور پرائمری کا امتحان لیا۔ قاری مدثر نے ابتدائی طالبات کا امتحان لیا ۔ مولانا سلطان نے مزید کہا کہ درحقیقت تعلیم ہی وہ زیور ہے جس سے عورت اپنے مقام سے آگاہ ہوکر اپنا اور معاشرے کا مقدر سنوار سکتی ہے۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ کچھ بزرگ تعلیم نسواں کے متعلق بڑی غلط فہمی رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف لڑکوں ہی کو دینا ضروری ہے۔ تعلیم صرف روزگار کے لئے چاہئے۔ اس میدان میں صرف مردوں کو آنا چاہئے۔ عورتیں صرف باورچی خانے کے لئیپیدا ہوئی ہیں اور ان کی زندگی باورچی خانے سے شروع ہوکر دستر خوان پر ختم ہوجاتی ہے۔
اس طرح کی باتیں ہرگز درست نہیں۔ عورتیں بھی انسان ہیں۔ علم کی روشنی انسان کو جینا سکھاتی ہے۔ تاریخ اسلام میں بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں۔ خواتین کی ہمت و جرأت اور تدبر و فراست سے بڑے بڑے انقلابات ظہور پزیر ہوئے۔ مثلاً حضرت موسیٰؑ کی والدہ اور زوجہ فرعون حضرت آسیہ کی مثال قرآن میں موجود ہے۔
حضرت آسیہ نے حضرت موسیٰؑ کو فرعون کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھ کر اپنی آغوش میں پروان چڑھایا۔ زوجہ رسول مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت خدیجہؓ نے آپؐسے شادی کے بعد اپنی تمام دولت خدمت اسلام کے لئے وقف کردی۔ ایسے ہی بنت رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہؓ نے اپنی آغوش میں حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ جیسے سپوت پروان چڑھائے۔
حضرت امام حسنؓ نے دو گروہوں میں صلح کروا کر ملت کو خون خرابے سے بچایا اور حضرت امام حسینؓ نے جان قربان کرکے اسلام کی حفاظت کی۔ عالم اسلام کی جلیل القدر شخصیت حضرت عبدالقادر جیلانی کی ماں ہی تھیں کہ جن کی تربیت کا اثر تھا کہ بچپن میں آپ کے دست مبارک پر ڈاکوئوں نے توبہ کی۔
کسی دانا کا قول ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ بچہ جو کچھ اس درس گاہ سے سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ بچے کی بہترین تربیت کے لئے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ مفکرین کی رائے میں ’’مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے، جبکہ عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے‘‘۔ فرانس کے مشہور بادشاہ نپولین کا قول ہے۔
’’آپ مجھے اچھی مائیں دیں، میں آپ کو بہترین قوم دوں گا۔‘‘ علامہ اقبال کے فارسی شعر کا مفہوم ہے: ’’قوموں کو کیا پیش آچکا ہے؟ کیا پیش آسکتا ہے؟ اور کیا پیش آنے والا ہے یہ سب ماو?ں کی جبینوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔‘‘شرکاء میں سید معاذ ہاشمی،ماسٹر رضوان، بھائی کاشف، صبیحہ، تشریبہ، زینت وغیرہ موجود رہے۔