Hijab Protest tripura

تریپورہ: حجاب پہننے والی لڑکیوں کو اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

تازہ خبر قومی
تریپورہ: حجاب پہننے والی لڑکیوں کو اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا
 مخالفت کرنے پر وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نےمسلم طالب علم پرحملہ کردیا
اگرتلا:۔5؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
 تریپورہ کے ایک پرائیویٹ اسکول میں جمعہ (4 اگست) کو حجاب پہن کر آنے والی طالبہ کو داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس کی ایک ساتھی طالب علم نے مخالفت کی تو کچھ لوگوں نے اسکول کے باہر اس کی پٹائی کی۔ اس دوران اسکول کے ٹیچر اور دیگر لوگ کھڑے ہو کر دیکھتے رہے لیکن کوئی بھی طالب علم کو بچانے نہیں آیا۔
واقعہ پر مقامی افراد مشتعل ہوگئے اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کردیں۔ حملہ آور مبینہ طور پر باہر کے تھے جن کا اسکول سے کوئی تعلق نہیں تھا۔حکام کے مطابق صورتحال اب قابو میں ہے۔ اس واقعہ کے بعد سپاہیجالا ضلع کے بشل گڑھ سب ڈویژن میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
 اے آئی جی جیوتیشمان داس کا کہنا ہے کہ ایک طالب علم نے پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔ اس کے بعد جب وہ اسکول سے باہر آرہے تھے تو وشو ہندو پریشد کے کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کردیا۔ داس نے کہا کہ اس معاملے کو مذہبی تشدد سے نہ جوڑیں، پولیس اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
 کورویمورا ہائیر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل پریتوش نندی نے واقعہ کے بعد میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام طلباء کو سکول یونیفارم میں آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہیڈ ماسٹر نے زبانی طور پر بچوں کو اسکول میں حجاب نہ پہننے کی ہدایت کی کیونکہ متعلقہ سرکاری محکمہ کی طرف سے اس طرح کے اصول پر کوئی واضح ہدایات نہیں ہیں۔ کچھ لڑکیوں نے مذہبی عقائد کی وجہ سے اس کی مخالفت کی۔
مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر اسکول کے میدانوں میں پابندی لگانے کی درخواست سابق طلباء کے ایک گروپ کی طرف سے ہیڈ ماسڑ کو دی گئی ہے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دائیں بازو کی ایک تنظیم سے وابستہ ہیں۔
حکومت کے زیر اہتمام کارائمورا کلاس 12 ویں اسکول کے ہیڈ ماسٹر پریتوش نندی کا استقبال سابق طلباء کے ایک گروپ نے کیا جو سبھی وشو ہندو پریشد سے جڑے ہوئے تھے۔
اس کے بعد جمعرات کو کچھ لڑکے زعفرانی کُرتا پہنے اسکول پہنچےجب انہیں روکا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم یونیفارم میں تبھی آئیں گے جب سب اس اصول پر عمل کریں گے۔ نندی نے بتایا کہ اس معاملے میں انہوں نے وشو ہندو پریشد کے کچھ لوگوں سے بھی بات کی ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں ہے۔ کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات دی جا رہی ہیں۔ فی الحال مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور جن اکاؤنٹس سے جعلی ٹویٹس کی جا رہی ہیں۔ اس کی تفتیش جاری ہے۔
یہ علاقہ، جس میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے، ایک مخلوط آبادی ہے جس میں مختلف کمیونٹیز کے افراد شامل ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر حالات پر قابو پانے کی کوشش میں کلاسز کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ریاست کے حکام نے کہا کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کا حل تلاش کرنے اور علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔