بھوپال کے سی ایم رائز اسکول میں نماز پڑھنے پر د و اساتذہ کے خلاف کارروائی ۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

تازہ خبر قومی
 بھوپال کے سی ایم رائز اسکول میں نماز پڑھنے پر دو اساتذہ کے خلاف کارروائی
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
بھوپال:۔یکم؍مارچ
(زین نیوز ڈیسک)
مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں سی ایم رائز اسکول کے دو اساتذہ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ دراصل معاملہ اسکول میں نماز پڑھنے سے متعلق ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دو مسلم اساتذہ نے سی ایم رائز سکول کی ایک کلاس میں نماز پڑھی ہے۔
 ایسا کرنے کے لیے دونوں خواتین اساتذہ نے کلاس کے تمام بچوں کو کلاس سے باہربھیج دیا تھا۔ سی ایم رائز اسکول میں نماز پڑھنے کا معاملہ بھوپال کے جہانگیر آباد میں واقع مدھیہ پردیش کے پہلے ماڈل سی ایم رائز رشیدیہ اسکول سے متعلق ہے۔ جہاں سے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے
 جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 28 فروری کو دو مسلم اساتذہ بچوں کو کلاس سے باہر لے گئے اور نماز پڑھائی۔ اور یہ ہر روز ہوتا ہے۔ اسکول کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہر جمعہ کو بھی بچے سکول میں نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن کوئی کچھ نہیں کہتا۔ کچھ اساتذہ کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش کے پہلے سی ایم رائز اسکول کو مدرسہ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
جب پرنسپل کے ڈی سریواستو سے اس معاملے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا – مجھے اس کی خبر نہیں ہے۔ نہ ہی میں نے کبھی ایسی کوئی سرگرمی دیکھی ہے۔ اساتذہ کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ ظاہر ہے کہ ڈیوٹی کے دوران تعلیمی اداروں میں مذہبی سرگرمیاں ممنوع ہیں۔
 اساتذہ نے بچوں کو کلاس روم سے باہر لے جا کر نماز پڑھائی ہے جس سے ان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس معاملے میں نیشنل چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن کی چیئرمین پرینکا کاننگو نے دونوں اساتذہ کو نوٹس بھیجنے کا کہا ہے۔