بنگال: چوری کے الزام میں دو قبائلی خواتین کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا

تازہ خبر قومی
بنگال: چوری کے الزام میں دو قبائلی خواتین کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔بی جے پی کا الزام
  خواتین کے تحفظ پر اٹھائے سوال۔۔ امیت مالویہ ویڈیو شیئر کی
کولکتہ:۔22؍جولائی
(زین نیوزڈیسک)
بی جے پی نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں کچھ دن پہلے دو قبائلی خواتین کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ پولیس "خاموش تماشائی” بنی ہوئی ہے
 ایک ٹویٹر پوسٹ میں بی جے پی کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ امیت مالویہ جو ریاست کے پارٹی کے شریک انچارج بھی ہیںنے کہا کہ یہ واقعہ 19 جولائی کو مالدہ میں پیش آیا، جس میں ایک "جنونی ہجوم اس کے خون کے لیے آمادہ ہو رہا تھا”۔
مغربی بنگال کے مالدہ میں دو خواتین کو برہنہ کرکے بے دردی سے پیٹا گیا۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ ہجوم نے خواتین کو مارا پیٹا۔ اس دوران ان کے کپڑے پھٹ گئے۔
 یہ خوفناک واقعہ مغربی بنگال کے مالدہ ضلع کے پاکواہاٹ علاقے میں پیش آیا۔ یہاں ہر منگل کو ہفتہ وار بازار لگتا ہے۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ منی پور واقعہ کے بعددیگر ریاستوں میں بھی میں خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے واقعات مسلسل منظر عام پر آرہے ہیں۔
بی جے پی کے مرکزی شریک انچارج امیت مالویہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ مغربی بنگال میں دہشت گردی بدستور تباہی مچا رہی ہے۔ مالدہ کے بامنگولا تھانے کے علاقے پاکوا ہاٹ میں دو قبائلی خواتین کو برہنہ، تشدد اور بے رحمی سے پیٹا گیا۔

 جب کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ ممتا بنرجی کو ‘دل شکستہ ہونا چاہیے تھا اور وہ صرف گالی گلوچ کرنے کے بجائے ایکشن لے سکتی تھیں، کیونکہ وہ بنگال کی وزیر داخلہ بھی ہیں۔
دونوں خواتین کو چوری کے شبہ میں مارا پیٹا گیا۔واقعہ کے وقت علاقہ میں کافی ہجوم تھا۔ اس دوران لوگوں نے بازار میں دو خواتین کو چوری کے شبہ میں پکڑا اور ان کی پٹائی کی۔ اطلاعات کے مطابق حملہ کرنے والی دونوں خواتین مانی چک کی رہائشی تھیں۔
تاہم ابھی تک پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں ہوئی ہے۔ ادھر یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ پولیس موقع پر کیوں نہیں آئی اور اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔