کانپور میں ’’آئی لو محمدﷺ‘‘بورڈ پر تنازعہ، 25 سے زائد افراد پر مقدمہ درج
🔹 بورڈ اور خیمہ ہٹا کر امن بحال، ڈی سی پی ویسٹ دنیش ترپاٹھی کا دعویٰ
کانپور – :۔19؍ستمبر
(انٹر نیٹ ڈیسک)
کانپور، اتر پردیش میں عید میلاد النبی کے موقع پر مسلم کمیونٹی کے افراد نے بینرز لگائے کہ "میں ’’آئی لو محمد‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں جس سے کچھ بنیاد پرست مشتعل ہوگئے، اور ان کے کہنے پر، اتر پردیش پولیس نے بینرز لگانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔جس کے بعد مسلم کمیونٹی اور مذہبی رہنماؤں نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
یہ معاملہ مزید زور پکڑ رہا ہے۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے قومی صدر اور ورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کشوچوی نے کہا کہ اگر محبت کا اظہار کرنا گناہ ہے تو ہم لاکھ بار کریں گے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق، 9 ستمبر کو سید نگر علاقے میں عوامی سڑک پر ایک گیٹ کے قریب بورڈاور شامیانہ نصب کیا گیا، جہاں سے ہر سال رام نومی کا جلوس گزرتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جان بوجھ کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش تھی۔
پولیس کے مطابق مسلم برادری کے افراد نے گزشتہ ہفتہ رام نومی شوبھایاترا کے گزرنے والے دروازے کے قریب عوامی سڑک پر بورڈ نصب کیے اور خیمہ گاڑا، جس پر ہندوتوا تنظیموں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے نئی روایت اور جان بوجھ کر اشتعال انگیزی قرار دیا۔
ڈی سی پی ویسٹ دنیش تریپاٹھی نے کہاکہ راوت پور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو ڈیرے لگانے والوں نے احتجاج بھی کیا۔ بعد ازاں دونوں گروپوں کی رضامندی سے خیمہ اور ’’آئی لو محمد‘‘ کا بینر واپس روایتی مقام پر لگا دیا گیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ "I Love Mohammad” تحریر یا بینر کے لیے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی، بلکہ یہ بینر روایتی مقام سے ہٹ کر نئی جگہ پر لگائے جانے اور جلوس کے دوران دوسرے گروپ کے بینر کو پھاڑنے کے لیے درج کیا گیا تھا۔درخواست ہے کہ اس حوالے سے کوئی کنفیوژن نہ پھیلائی جائے۔
انھوں نے کہاکہ ہم نے بارہا انہیں سمجھایا کہ عوامی سڑکوں پر کوئی نئی روایت قائم نہیں کی جا سکتی۔ ان کے اقدامات سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہوا۔ کوئی بھی شخص بخشا نہیں جائے گا۔پولیس کے مطابق ابتدا میں علماء کرام کو ثالثی کے لیے بلایا گیا لیکن کوششیں کامیاب نہ ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے بورڈ اور خیمہ ہٹا کر امن بحال کیا۔سب انسپکٹر پنکج شرما کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے،
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں ان کی شمولیت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ایس ایچ او راوت پور کے کے مشرا نے میڈیا کو بتایاکہ تحقیقات سے واضح ہوا ہے کہ ملزمان نے جان بوجھ کر سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ امن کو خراب کرنے کی منصوبہ بند سازش تھی۔ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایف آئی آر سب انسپکٹر پنکج شرما کی شکایت پر راوت پور پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی، جس میں شرافَت حسین، بابو علی، محمد سراج، رحمان، اکرام احمد، اقبال، بنٹی، کنّو کباڈی، سَحنور عالم اور دو گاڑی ڈرائیوروں سمیت 25 سے زائد افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے یہ بینرز نصب کیے۔اس واقعہ پر آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے صدر اور ورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کشفچوی نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اگر محبت کا اظہار گناہ ہے تو ہم یہ گناہ لاکھ بار کریں گے۔ قانون ہمیں کس چیز کی سزا دے رہا ہے؟ یہ عمل مکمل طور پر آئینی حق کے تحت ہے۔
انہوں نے پولیس پر انتہاپسند عناصر کے اشارے پر کارروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ سید محمد اشرف کشفچوی نے خبردار کیاکہ ایسا لگتا ہے کہ جہاں بھی فرقہ وارانہ ماحول بنتا ہے، پولیس یا تو خاموش تماشائی بن جاتی ہے یا نفرت پھیلانے والوں کا ساتھ دیتی ہے۔ یہ ملک اور سماج کے لیے تباہ کن ہے اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
اسی دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اسد الدین اویسی نے بھی اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈمحض عقیدت کے اظہار کا ذریعہ تھے۔ انہوں نے ایک معروف شعر اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھاکہ محبت رسول ﷺ کو جرم کہا گیا تو ہم ہر سزا قبول کرنے کو تیار ہیں۔
پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ عوامی سڑکوں پر ’’نئی روایت‘‘ قائم نہیں کی جاسکتی اور یہ اقدام جلوس گزرنے کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا تھا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس دنیش تریپاٹھی نے کہاکہ یہ فرقہ وارانہ امن کے لیے خطرہ تھا، اس میں ملوث کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق، مقدمہ درج ہونے سے پہلے بعض ہندو تنظیموں کے کارکنان نے ایک بینر کو نقصان پہنچایا تھا، تاہم پولیس نے صرف مسلمانوں پر مقدمہ قائم کیا۔ اس پر سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی سوال اٹھائے ہیں کہ کیا مذہبی آزادی صرف ایک طبقے کے لیے محدود ہے؟
مبصرین کے مطابق اتر پردیش میں اکثر مذہبی تہواروں کے دوران فرقہ وارانہ تناؤ پیدا ہوجاتا ہے، اور اس طرح کے واقعات اقلیتی برادری میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
مسلم تنظیموں نے وزیر اعلیٰ سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ:’’اگر حضور ﷺ سے محبت کا اظہار جرم ہے تو ہم یہ جرم زندگی بھر کرتے رہیں گے۔یہ معاملہ اب پورے ملک میں مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر نئی بحث کو جنم دے چکا ہے