Donald Trump

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا

تازہ خبر عالمی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا
وزیراعظم نریندرمودی نے یقین دہانی کرائی ہے
 ڈونالڈٹرمپ کہنا ہےکہ ’’مودی مجھ سے محبت کرتے ہیں‘‘
  امریکی صدر کی خوشنودی کے لیے قومی مفادات کو قربان کر دیا ۔راہول گاندھی کا رد عمل
 نئی دہلی؍واشنگٹن :۔16؍اکتوبر
(انٹرنیشنل ڈیسک)
 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہندوستان اب روس سے تیل نہیں خریدے گا۔جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’وزیراعظم مودی میرے دوست ہیں، ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ میں روس سے ہندوستان کی تیل کی خریداری سے خوش نہیں تھا، لیکن آج انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ روس سے تیل نہیں خریدیں گے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب ہمیں چین کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے اگست 2025 میں روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا ہے، جو پہلے سے موجود 25 فیصد باہمی ٹیرف کے علاوہ ہے، یوں کل ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ  کے اس بیان کے بعد کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ  فیصلہ کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہندوستان روسی تیل نہیں خریدے گا، اور مودی خاموش رہتے ہیں۔”راہول گاندھی نے مزید پانچ نکات میں وزیراعظم پر الزام لگایا کہ وہ امریکی صدر کے سامنے بے حد دباؤ میں ہیں۔

راہول گاندھی نے کہاکہ امریکی صدر کی خوشنودی کے لیے قومی مفادات کو قربان کر دیا گیا۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا دورہ امریکہ منسوخ کیا گیا۔مصر نے شرم الشیخ اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔وزیراعظم نے ’’آپریشن سندھ‘‘ پرڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات کی مخالفت نہیں کی۔ڈونالڈٹرمپ کہتے ہیں ’’مودی مجھ سے محبت کرتے ہیں‘‘ — اور وزیراعظم اس پر بھی خاموش رہتے ہیں۔
میڈیا کے سوالات کے جواب میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ حال ہی میں سرجیو گور، جو ہندوستان میں امریکہ کے نئے سفیر بننے جا رہے ہیں، نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کی۔ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کے مطابق "سرجیو نے مجھے بتایا کہ مودی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میں یہاں لفظ ’محبت‘ کی غلط تشریح نہیں کرنا چاہتا، بس اتنا کہوں گا کہ ہمارے تعلقات غیر معمولی ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ  نے مزید کہا کہ "میں کئی سالوں سے ہندوستان کی سیاست کو دیکھ رہا ہوں۔ حکومتیں بدلتی رہی ہیں، مگر میرے دوست مودی کافی عرصے سے برقرار ہیں۔
 انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ہندوستان روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا، اگرچہ اس میں کچھ وقت لگے گا۔ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ہندوستانی وزارت خارجہ (MEA) کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان توانائی کا ایک بڑا خریدار ہے اور ہماری پالیسی ہمیشہ عوامی مفاد کے تحفظ پر مبنی رہی ہے۔ ہماری درآمدی حکمت عملی اسی اصول کے تحت چلتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کی پالیسی کے دو بنیادی مقاصد ہیں — قیمتوں میں استحکام اور توانائی کی فراہمی کا تحفظ۔ ان مقاصد کے لیے ہم اپنی خریداری کے ذرائع کو متنوع بناتے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون میں اضافہ ایک مسلسل عمل ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔دوسری جانب، ہندوستان میں روس کے سفیر ڈینس علیپوف نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس ہندوستان کے ساتھ تیل کے شعبے میں تعاون جاری رکھے گا۔
ہمارا تعاون دوطرفہ تعلقات پر مبنی ہے اور امریکہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔علیپوف نے مزید کہا کہ ’’روس سے سستا تیل خریدنا ہندوستان کی معیشت اور عوام دونوں کے لیے فائدہ مند ہے، اور یہ تعاون مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔‘‘سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان نے ہندوستان کی سفارتی پوزیشن کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں اسے روس، امریکہ اور اندرونی سیاسی دباؤ — تینوں محاذوں پر توازن برقرار رکھنا ہوگا۔