وینیزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو 2025 کا نوبل امن انعام

تازہ خبر عالمی
وینیزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو 2025 کا نوبل امن انعام
 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امیدیں خاک میں مل گئیں
اوسلو؍ نئ دہلی:۔ 10 اکتوبر
  (انٹر نیشنل ڈیسک )
ناروے کی نوبل کمیٹی نے جمعہ کو وینیزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو 2025 کا نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا۔ کمیٹی نے انعام کی وجہ کے طور پر ماچاڈو کی وینیزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ اور آمریت سے پرامن عبوری منتقلی کے لیے طویل اور بے باک جدوجہد کو قرار دیا۔
الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق قائم کیا گیا ایک بین الاقوامی امن انعام ا اعلان 10 اکتوبر 2025 کو نارویجن نوبل کمیٹی نے اوسلو ، ناروے میں کیا ہے۔ یہ ماریا کورینا ماچاڈو کو وینزویلا کے لوگوں کے جمہوری حقوق کے فروغ کے لیے ان کی انتھک محنت اور آمریت سے جمہوریت کی منصفانہ اور پرامن منتقلی کے حصول کے لیے ان کی جدوجہد کے لیے دیا گیا۔ یہ انعام 10 دسمبر 2025 کو اوسلو، ناروے میں ایک تقریب میں دیا جائے گا
 کمیٹی نے اپنے اعلان میں کہا کہ ماچاڈو اس وقت لاطینی امریکا میں شہری حوصلے کی سب سے غیرمعمولی مثالوں میں سے ایک ہیں اور وہ ایک ایسی اپوزیشن کی متحد کرنے والی شخصیت رہی ہیں جو کبھی گہری تقسیم کا شکار تھی۔ایک ایسی اپوزیشن جو آزادانہ انتخابات اور نمائندہ حکومت کے مطالبے میں مشترکہ بنیاد تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی۔
 کمیٹی نے اس فیصلے کو اس دور میں جمہوریت کے دفاع کی علامت قرار دیا جب دنیا کے کئی حصوں میں آمریت بڑھ رہی ہے۔ ماچاڈو طویل عرصے سے وینیزویلا کی قومی سیاست میں سرگرم رہی ہیں۔ انہیں گزشتہ برسوں میں عدالتی پابندیوں اور سرکاری دباؤ کی وجہ سے انتخاب لڑنے سے روکا گیا تھا اور ان کی زندگی پر مستقل خطرات کے باوجود وہ اپنے ملک میں بظاہر پوشیدہ یا خفیہ حالت میں رہی ہیں۔
وینیزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو
 ان کے خلاف ڈسکوالفائی اور اپوزیشن قیادت کے خلاف سخت رویے کے باوجود وہ جمہوری اصلاحات کی جدوجہد میں سرگرم رہیں۔ اس سال کے نوبل امن انعام کے اعلان سے قبل میڈیا اور مبصرین کی توجہ کچھ اعلیٰ پروفائل ناموں پر مرتکز رہی  جن میں سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے خود کو اس اعزاز کے لائق بتانے کی بارہا کی گئی عوامی تقاریر بھی شامل تھیں۔
 تاہم نوبل کمیٹی نے اس سال ماچاڈو کے نام کا انتخاب کیا، جسے بعض حلقوں میں ٹرمپ کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سال نوبل امن انعام کے لیے کل 338 نامزدگیاں موصول ہوئی تھیں جن میں سے 244 افراد اور 94 تنظیمیں شامل تھیں  اس ضمن میں یہ انتخاب خاصا بین الاقوامی اور سیاسی توجہ کا باعث رہا۔
ماچاڈو نے سول سوسائٹی اور جمہوری تحریکوں میں طویل عرصہ کام کیا ہے؛ وہ تنظیم Súmate کی بانیوں میں شامل ہیں اور گزشتہ برسوں میں یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے دیے جانے والے سکھارو (Sakharov) انعام جیسی بین الاقوامی شناختیں بھی حاصل کر چکی ہیں یہاں تک کہ ان کی اور وینیزویلا اپوزیشن کی کوششوں کو یورپی سطح پر بھی اعزاز ملا ہے۔
 نوبل کمیٹی نے ان کی قربانی اور رہنمائی کو پورے ملک کی جدوجہد کا اظہار قرار دیا۔ نوبل امن انعام کے اعلان کے بعد بین الاقوامی ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے؛ متعدد ممالک اور انسانی حقوق کے گروپوں نے ماچاڈو کے انتخاب کو خوش آئند قرار دیا ہے، جب کہ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر بحث بھی جاری ہے۔
 نوبل انعام کی رسمی تقسیم تقریب دس دسمبر کو اوسلو میں منعقد کی جائے گی، جہاں جیتنے والے کو میڈل، ڈپلومہ اور نقد رقمی انعام دیا جاتا ہے