Parbahani=1

مہاراشٹر میں امبیڈکر کی یادگار کی توڑ پھوڑ کے بعد تشدد

تازہ خبر قومی
مہاراشٹر میں امبیڈکر کی یادگار کی توڑ پھوڑ کے بعد تشدد
پربھنی میں ہجوم نے دکانیں اور گاڑیاں جلا دی
پربھنی:۔11؍ڈسمبر
(زین نیوز ڈیسک)
مہاراشٹر کے پربھنی میں بدھ کے روز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یادگار کی توڑ پھوڑ  کی مذمت کے لیے بلایا گیا بند پرتشدد ہو گیا۔لوگوں نےچہارشنبہ کو آئین کی نقل کو توڑنے کے خلاف پربھنی بند کی کال دی تھی۔ اس دوران ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
۔، خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق توڑ پھوڑ کے خلاف احتجاج کے لیے دیے گئےبند کے دوران تشدد پھوٹ پڑا اور لوگوں نے توڑ پھوڑ اور آتش زنی شروع کردی۔ کئی رہائشی عمارتوں پر بھی پتھراؤ کیا گیا۔
پربھنی کے کئی علاقوں میں دکانوں اور گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور آگ لگا دی گئی۔عہدیداروں نے بتایا کہ احتجاج آتشزدگی، پتھراؤ اور ریلوے اسٹیشن پر رکاوٹوں میں بدل گیا۔
بھیڑ پر قابو پانے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے۔ کچھ علاقوں میں لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔ پربھنی میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ پربھنی سے متصل ہنگولی میں بھی تشدد ہوا ہے۔

ہنگامہ آرائی منگل کو اس وقت شروع ہوئی جب ایک نامعلوم شخص نے پربھنی ریلوے اسٹیشن کے باہر امبیڈکر کے مجسمے کے ہاتھ میں رکھے ہوئے آئین کی نقل کو نقصان پہنچایا۔
یہ خبر تیزی سے پھیل گئی، جس سے تقریباً 200 افراد جائے وقوعہ کے قریب جمع ہو گئے اور احتجاج کے دوران نعرے بازی کی گئی۔ کشیدگی بڑھنے کے بعد مظاہرین نے شام 6 بجے ریلوے اسٹیشن کی طرف مارچ کیا، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر نندی گرام ایکسپریس کے لوکوموٹیو پائلٹ کو ٹرین سے گھسیٹ لیا اور اس پر حملہ کیا۔
اس کے بعد مظاہرین نے 30 منٹ تک ریلوے ٹریک کو بلاک کر دیا، جس سے ٹرین سروس متاثر ہوئی۔ گورنمنٹ ریلوے پولیس (GRP) اور مقامی حکام نے مداخلت کرتے ہوئے پٹریوں کو صاف کیا اور ٹرین کو شام 6.52 بجے تک روانہ ہونے دیا۔ مظاہرین آئین کی نقالی کے یادگار کی توڑ پھوڑ کرنے والے  ذمہ دار شخص کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔