میڈیکل پی جی طالبہ کو ہراساں کرنے کی توثیق‘ سنیئر گرفتار‘کمشنر پولیس ورنگل

تازہ خبر
میڈیکل پی جی طالبہ کو ہراساں کرنے کی توثیق‘ سنیئر گرفتار‘کمشنر پولیس ورنگل
 سیف کی حمایت میں جونیئر ڈاکٹرس و پی جی طلبہ کاڈیوٹی سے بائیکاٹ کے ذریعہ احتجاج
حیدرآباد:۔24؍فروری 
(زین نیوزبیورو)
 کمشنر پولیس ورنگل  رنگناتھ نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ میڈیکل سنیئر سیف نے میڈیکل پی جی  طالبہ ڈاکٹر پریتی کوجذبات سے کھیلتے ہوئے اسے ہراساں کیاہے جو  ایک  حساس لڑکی ہے۔آج ورنگل میں میڈیا کانفرنس میں انکشاف کیا کہ سیف کی ہراسانی کو پریتی   برداشت نہیں کر سکی ۔
  سیف نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ پریتی کے ساتھ تعاون نہ کریں۔ رنگناتھ نے تصدیق کی کہ سیف نے جان بوجھ کر پریتی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔انہوں نے وضاحت کی کہ سیف کا دعویٰ ہے کہ وہ پریتی کو سکھانے کے لیے تھوڑی سے سختی کی ہے، لیکن شروع سے ہی پریتی سیف سے پریشان تھی۔
سیف نے واٹس ایپ گروپ میں پریتی کو نشانہ بنایا اور ہراساں کیا۔کمشنر پولیس ورنگل   نے بتایا کہ دونوں کے درمیان دو تین واقعات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے واٹس ایپ گروپس میں پریتی کے بارے میں توہین آمیز پوسٹس بھی کیا۔ پریتی نے سیف سے گزارش کی کہ وہ گروپ میں پوسٹ کرکے ان کی تذلیل نہ کریں۔
پریتی نے سیف کو بتایا کہ وہ ذلیل ہوئی ہیں اور اگر کچھ ہے تو پریتی نے اسکے علم میں  میں لانے کو کہا۔  رنگناتھ نے کہا کہ سیف نے اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر پریتی کو واٹس ایپ پر ہراساں کیا۔
 20 ؍فروری کو یہ بات سامنے آئی کہ پریتی نے اپنے والد کو سیف کی ہراسانی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ کالج انتظامیہ نے 21 ؍فروری کوپریتی اور سیف سے پوچھ گچھ کی۔ پریتی نے منگل کو خودکشی کی کوشش کی۔
سیف کو جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی سیاست ملوث نہیں ہے۔ ڈاکٹر پریتی کی خودکشی کی کوشش کا معاملہ تلگو ریاستوں میں سنسنی پیدا کر رہا ہے سیف نامی طالب علم کی ہراسانی کی وجہ سے اس کے اقدام خودکشی کرنے کی خبریں شروع ہی سے زیر گشت تھیں۔ اس دوران سیف کو پولیس نے حراست میں لے لیا جس کے پاس سے پولیس کو ثبوت ملے کہ سیف نے پریتی سے چھیڑ چھاڑ کی ہے پولیس نے سیف کا فون چیک کیاتوچیٹ میں نئی چیزیں ملیں۔
 سیفی کے خلاف ریگنگ اور ہراساں کرنے سمیت  انسداد درج فہرست طبقات وقبائل کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔فی الحال پریتی کی صحت نازک ہے۔ وہ   نمس میں ایکمو پر زیر علاج ہے۔ نیورولوجی، جنرل فزیشن اور کارڈیالوجسٹ پر مشتمل پانچ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
 نمس کے ذرائع نے ایک بیان میں کہا کہ جب ڈاکٹر پریتی کے بہت سے اعضاء  کام نہیں کر رہے تھے اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ پریتی کی خودکشی کی کوشش کے معاملے میں پولیس کی لاپرواہی کا مظاہر کیا ہے ۔  پریتی کے والد نریندر نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے سیف کے خلاف اے سی پی بونالا کشن سے شکایت کی تھی۔
انہوں نے اے سی پی کو بھیجا گیا موبائل پیغام پریس کو جاری کیااور کہا کہ اے سی پی کو کتنی ہی بار فون کیا لیکن وہ نہیں اٹھائے تو اس نے اپنے موبائل پر میسج کے ذریعے شکایت کی۔  اس واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے تشکیل دی گئی تین
 رکنی کمیٹی نے جمعرات کو طلبہ سے پوچھ گچھ کی۔ کل کے ایم سی اور ایم جی ایم میں دن بھر تفتیش جاری رہی۔ ایک تین رکنی کمیٹی جس میں شعبہ کے سربراہان ڈاکٹر اپیندر (سرجری)، ڈاکٹر بھکشاپتی (میڈیسن) اور ڈاکٹر سرلا دیوی (گائناکالوجی) شامل تھے  نے طلباء   سے معلومات حاصل کی ہے۔انہوں نےیہ جاننے کی کوشش کی کہ پریتی کی خودکشی کی کوشش سے پہلے کیا ہوا تھا۔
 ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل ایجوکیشن(ڈی ایم ای)کی ہدایت کے مطابق کمیٹی نے فوری طور پر واقعے کی رپورٹ پیش کرنے کے لیے انکوائری کی۔ جونیئر ڈاکٹرس اور پی جی طلبہ نے سینئر پی جی طالب علم سیف کی حمایت میں ایم جی ایم میں احتجاج کیا جس کو پی جی طالبہ ڈاکٹر پریتی کی خودکشی کی کوشش کا ذمہ دارٹہرایاگیا۔
انہوں نے اس کی، حمایت میں آج  اپنی ڈیوٹی کا بائیکاٹ کیا اور پلے کارڈز کے ساتھ ایم جی ایم ہسپتال کے سامنے احتجاج کیا۔ پی جی اور جوڈاکٹر کا کہنا ہے کہ سیف پر لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے