Indian-nurse-nimisha-priyas

یمن کی عدالت نے سزائے موت کے خلاف ہندوستانی نرس کی اپیل مسترد کر دی

تازہ خبر عالمی
یمن کی عدالت نے سزائے موت کے خلاف ہندوستانی نرس کی اپیل مسترد کر دی
نئی دہلی:۔16؍نومبر
(زین نیوز ڈیسک)
یمن کی سپریم کورٹ نے 2017 میں یمنی شہری کے قتل کے الزام میں قید ایک ہندوستانی نرس نمشا پریا کی سزائے موت کے خلاف اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت کے وکیل نے جمعرات 16 نومبر کو دہلی ہائی کورٹ میںایک سماعت کے دوران اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
کیرالہ کے پلکاڈ کی رہنے والی نمیشہ پریا کو طلال عبدو مہدی کو قتل کرنےان کی نعش کے ٹکڑے کرنے اور باقیات کو یمن میں اس کی رہائش گاہ پر پانی کے ٹینک میں ٹھکانے لگانے کا قصوروار پایا گیا تھا۔
 نمشا پریا جو کہ 2015 سے یمن میں طلال کے ساتھ کلینک چلا رہی تھی نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسے دو سال تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس نے کہا کہ اس نے اس کا پاسپورٹ چھین لیا تھا اس طرح اس کی گھر واپسی ناممکن ہو گئی تھی، اور یہ کہ قتل غیر ارادی تھا۔
 اس نے وضاحت کی کہ وہ صرف ایک انجیکشن لگا کر اور اس کے پاسپورٹ تک رسائی حاصل کرکے اسے بے ہوش کرنے کا ارادہ رکھتی تھی جب وہ بے ہوش رہتا تھا۔ لیکن وہ گر کر مر گیا۔
دہلی ہائی کورٹ میں عدالتی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب نمشا کی والدہ پریماکماری نے یمن جانے کی اجازت مانگی۔
پریماکماری نے استدعا کی کہ اپنی بیٹی کو سزائے موت سے بچانے کا واحد طریقہ مقتول کے اہل خانہ کے ساتھ خون کی رقم کی پیشکش کر کے بات چیت کرنا ہے۔ تاہم سفری پابندی کی وجہ سے وہ اس مقصد کے لیے یمن جانے سے قاصر رہی ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے پریماکماری کی عرضی کے جواب میں حکومتی وکیل کو یہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی کہ ان حالات میں یمن کا سفر کرنے کا اختیار کس کو دیا جا سکتا ہے۔
ہم خیال افراد کے ایک گروپ کے ذریعہ تشکیل دی گئی ‘سیو نمشا پریا انٹرنیشنل ایکشن کونسل نے کیرالہ میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی پریما کماری کی مدد کے لیے فنڈز جمع کرنے کی پہل کی ہے۔
 تنظیم کا مقصد مقتول کے اہل خانہ کے ساتھ بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا اور نمشا پریا کو سزائے موت سے بچانے کے لیے قانونی راستے تلاش کرنا ہے۔
مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ نمشا کی سزا پر راحت دینے کا اختیار اب یمنی صدر کے پاس ہے، جس سے کیس میں پیچیدگی کی ایک اور پرت شامل ہو گئی ہے۔