خاتون نےرکن اسمبلی کو سرعام تھپڑ مار دیا
مشتعل عوام نے پوچھا کہ آپ 5 سال بعد کیا لینے آئے ہیں؟
چندی گڑھ:۔12؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
جننائک جنتا پارٹی (جے جے پی) کے ایم ایل اے ایشور سنگھ کو ہریانہ کے کیتھل میں ایک خاتون نے سرعام تھپڑ مار دیا۔ لوگوں نے ایم ایل اے کو بھی مارا۔ جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی
تفصیلات کے مطابق گھگر ندی میں تیزی ہے جس کی وجہ سے سیلاب کا پانی ہریانہ کے بھاٹیہ گاؤں میں داخل ہو گیا ہے۔ مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگ بے گھر ہو گئے۔
دریں اثناء جننائک جنتا پارٹی کے ایم ایل اے ایشور سنگھ سیلاب کے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بھاٹیہ گاؤں پہنچے اور متاثرہ گاؤں والوں کا حال معلوم کیا۔
لیکن انھیں گاؤں والوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ گاؤں کے لوگ ایم ایل اے سے کافی ناراض تھے۔ سیلاب سے متاثرہ خاتون کو ایم ایل اے کی بات پسند نہیں آئی اور اس نے ایشور سنگھ کو زوردار تھپڑ مار دیا۔
ایم ایل اے ایشور سنگھ چیکا علاقے کے گاؤں بھاٹیہ پہنچے تھے تاکہ گھگھر ندی کا بند ٹوٹنے کے بعد گاؤں میں سیلابی پانی سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیں۔ گاؤں والوں نے ایم ایل اے سے پوچھا کہ آپ 5 سال بعد کیا لینے آئے ہیں؟ واضح رہے کہ جے جے پی ہریانہ کی حکومت میں بی جے پی کی شراکت دار ہے۔
گزشتہ دنوں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد چیکا کے علاقے میں دریائے گھگر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ 40 دیہات میں سیلاب کا خطرہ ہے اور کئی دیہات میں پانی بھی بھر گیا ہے۔
#WATCH | Haryana: In a viral video, a flood victim can be seen slapping JJP (Jannayak Janta Party) MLA Ishwar Singh in Guhla as he visited the flood affected areas
"Why have you come now?", asks the flood victim pic.twitter.com/NVQmdjYFb0
— ANI (@ANI) July 12, 2023
بدھ کی شام پنجاب کی سرحد کے ساتھ بھاٹیہ گاؤں میں گھگر ندی کا بند ٹوٹ گیا اور پانی گاؤں اور کھیتوں میں بھر گیا۔ جب ایم ایل اے ایشور سنگھ صورتحال کا جائزہ لینے پہنچے تو انہیں پر مشتعل، مکینوں اورگاؤں والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
دیر تک ایم ایل اے ایشور سنگھ کی مخالفت جاری رہی۔ گاؤں والوں کی بڑی بھیڑ یہاں جمع ہو گئی۔ سیکوریٹی عہدیداروں نے ایم ایل اے کو ہجوم سے بچایا۔
ایم ایل اے ایشور سنگھ نے کہا کہ علاقے کے کئی گاؤں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس صورتحال میں گاؤں والوں کا غصہ فطری ہے۔ گاؤں میں قدرتی آفت میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
پنجاب اور ہریانہ میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اب تک 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جس میں ہریانہ میں سات اموات ہوئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع فرید کوٹ میں تین افراد کی ہلاکت کے ساتھ ہی پنجاب میں بارش سے متعلقہ واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔