راجستھان : موٹر سائیکل کی ٹکر کے بعدمسلم نوجوان کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا
دو گروپوں کے درمیان لڑائی کے بعد فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا۔بھاری نفری تعینات
جے پور : ۔30؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
راجستھان کے جے پور میں دو گروپوں کے درمیان لڑائی کے بعد فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا۔کل دیر رات جے پور کے سبھاش چوک علاقے میں ایک نوجوان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالے جانے کے بعد شہر میں کشیدگی ہے۔ رات گئے سے ہی پورے علاقے میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی کو ماحول خراب کرنے کا موقع نہ ملے۔
انتظامیہ نے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جس شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا گیا وہ جے پور کے پھوٹا کھرا رام گنج علاقے کا رہنے والا تھا۔ اس کی شناخت اقبال (18 سال) کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع کے حوالے سے جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق رات تقریباً 10.45 بجے اقبال سنگھ پورہ کھوڑ سے موٹر سائیکل پر گھر جا رہا تھا۔ اسی دوران گنگا پول کے بازار میں راہل کی بائک ایک اور بائک سے ٹکرا گئی۔
موٹر سائیکل کی ٹکر کے معاملے پر دونوں نوجوانوں کے درمیان کشیدگی اور بدسلوکی ہوئی۔ نوجوانوں نے مل کر اقبال کو بری طرح زدوکوب کر کے زخمی کر دیا۔
जयपुर में मॉब लिंचिंग का शिकार हुआ इकबाल, देर रात हुई हत्या गंगापोल, राहुल जी के बाजार में बाइक टच होने के कारण इकबाल की डंडों से पीट-पीटकर हत्या कर दी गई।@RajPoliceHelp @ShamsTabrezQ @ashokgehlot51 pic.twitter.com/99bKgmbnl8
— Nazim Hasan (@NazimHasanRJ) September 30, 2023
لڑائی کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ اقبال کو تشویشناک حالت میں ایس ایم ایس ہسپتال کے ٹراما میں داخل کرایا گیا۔ وہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔
ہجوم نے سڑک بلاک کر دی۔اقبال کی موت کے بعد ان کے اطراف کے لوگ ہسپتال میں جمع ہونا شروع ہوگئے اور کشیدگی بڑھنے لگی جس کے بعد انتظامیہ نے سیکوریٹی مزید سخت کردی۔ اقبال کو مارنے والے تین مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس نے سبھاش چوک پر جمع بھیڑ کو کافی سمجھانے کے بعد ہی ان پر قابو پایا جا سکا۔ ہجوم نے سڑک بلاک کر دی تھی اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
اب نعش کا پوسٹ مارٹم ہونا ہے جس کے بعد آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ تب تک انتظامیہ نے ماحول کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پولس فورس تعینات کر دی ہے۔ حراست میں لیے گئے ملزمان سے پوچھ گچھ کے ساتھ ساتھ ملوث افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔