بہت پچھتائیں گے اہل کرم جب ہم نہیں ہوں گے
کسے بخشیں گے دنیا بھر کے غم جب ہم نہیں ہوں گے
جگتیال : 13؍مارچ
(پریس نوٹ)
جناب مصطفی کمال صاحب متوطن جگتیال حال مقیم حیدرآباد کے اطلاع کے بموجب جناب خواجہ احتشام الدین صاحب عرف تحسین صاحب بعمر 69 سال، کل بتاریخ 8 شعبان المعظم 1443ھ م 12مارچ 2022ء ہفتہ کے روز بوقت عصر نماز کی تیاری کر رہے تھے کہ اجانک دل کا دورہ پڑھ کر انتقال کرگئے،۔ خود فرزند مرحوم حافظ اعجاز الدین متین نے اپنے ولی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے نماز جنازہ سمیت تجہیز و تدفین و تکفیین کے سارے امور مسنون طریقہ پر عمل میں لاے
،، مرحوم چند ماہ سے دل کے عارضہ سے متاثر تھے اور زیر علاج تھے، مرحوم احتشام الدین صاحب عرف تحسین صاحب بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔
لمبا قد مسنون وضع قطع سنت کے مطابق باوقار انداز مسکراتا چہرہ شیریں گفتگو کے مالک تھے آپ کو کبھی کسی نے غصہ کے لہجے میں دیکھا نہ ہوگا جھگڑا تکرار بحث و مباحثہ سے ہمیشہ دوری آپ مرحوم irrigation department ( شعبہ آبپاشی) کے ملازم رہ کر وظیفہ یاب ہو چکے تھے
جامع مسجد جگتیال کے پابند مصلی اور تبلیغی جماعت کے ذمہ دار ساتھی تھے ہمیشہ مشورہ کے تابع رہ کر جماعت کا کام کرنا آپ کا خاص وصف تھا اور دیگر ساتھیوں کو بھی مشورہ کے تابع رہنے کی تاکید کرتے تھے، شہرت سے دور رہتے تھے
بیان کرنا گویا جانتے ہی نہ تھے دیہاتوں میں کام کرنے کی فکر کرتے تھے اور خود سہ روزہ جماعت لیکر دیہاتوں کا دورہ کرتے تھے شہر کے جوڑوں میں نوجوانوں اور دیگر ساتھیوں کو جوڑنے کی فکر کرتے تھے خود بنفس نفیس مسجد میں رہ کر جوڑوں کو کامیاب کرنےکی دعا اور فکر کرتے تھے، شریعت یعنی قرآن و حدیث کے احکامات کی ہمیشہ پابندی کرتے تھے
ملازمت سے وظیفہ یابی کے بعد اپے اہلیہ سمیت حج مبرور کی دولت سے منور ہوکر بعد ازاں تبلیغی جماعت میں بیرون جماعت میں بھی وقت لگا چکے سیاسیات سے دور رہ کر بھی ملک سیاسی حالات سے واقف رہتے تھے اور لوگوں کا قیمتی مشورے دیتے تھے
مساجد کو آباد کرنے کی ہمیشہ فکر کرتے تھے مدارس و خانقاہی نظاموں کو فروغ دینے میں کوشاں رہتے تھے مسلکی اختلافات میں پڑھنے کو فضول سمجھتے تھے باوجود اس کے تبلیغی جماعت اور مسلک دیوبند کے پابند تھے اور علماء دیوبند سے گہرا تعلق علماء دیوبند کے شیدائی تھے ،
صلہ رحمی رشتہ داری کو قائم رکھنا کوئی آپ سے سیکھے پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور ہر ایک کے غم خوار اور سب کے سہارا بن کر اپنی زندگی کی قیمتی لمحات نیکیوں کو سمیٹ کر اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف طویل رخصت لیکر چل بسے آپ کی جدائی کو آپ مرحوم کے دوست احباب رشتہ دار کبھی بھلا نہ پائیں گے باجود اس کے باوجود اللہ تعالی کے اس فیصلہ کو صبر کے جذبات کے ساتھ راضی رہنا ہی ایک سچے مسلمان کی علامت ہے انہوں نے اپنی حیات کو قیمتی بناکر ہمارے لئے نقش پا چھوڑ کر گئے ہیں جوکہ ہمارے لئے مشعل راہ اور کامیاب زندگی کی زینہ ہے ،
آہ کن کن خوبیوں کو شمار کریں افسوس صد افسوس کے ساتھ جگتیال کے مسلمان ایک بہت بڑی خلاء کو ہمیشہ محسوس کریں گے خاص کر آپ کے وارثین ، مرحوم جناب خواجہ احتشام الدین صاحب عرف تحسین صاحب کے ورثاء میں ایک بیوہ اہلیہ ، دو لڑکے، 3 لڑکیاں ہیں ، بیٹے اکرام الدین مبین ، حافظ اعجاز الدین متین، داماد جناب ذاکر صاحب جعفر سامل کے مالک ، جناب منیب الرحمن، جناب مولانا محمد عصیم صاحب،، مرحوم کے دو بھائی جناب حافظ محسن صاحب سابق شاہی امام جامع مسجد جگتیال اور جناب شاہین صاحب اور دو برادر نسبتی جناب مصطفی کمال صاحب قابل ذکر ہیں ،
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے قبر کی پہلی منزل آسان فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے اور مصلیان جامع مسجد اور مسلمانان جگتیال اور دیگر سب سے گزارش ہے ہمیشہ اپنی دعاؤں میں جناب خواجہ احتشام الدین عرف تحسین صاحب کو ہمیشہ اپنی دعائوں میں یاد رکھنے وارثین نے پر خلوص اپیل و درخواست کی ہے،،،
بہت پچھتائیں گے اہل کرم جب ہم نہیں ہوں گے
کسے بخشیں گے دنیا بھر کے غم جب ہم نہیں ہوں گے
