(حجاب معاملہ اور کورٹ)
رشحات قلم: عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
یہ ایک حقیقت ہیکہ خالق کائنات کی بنای ہوی اس وسیع وعریض زمین پر مختکف قومیں بستی اور آباد رہتی ہیں الگ الگ تہذیبوں اوردھرم کے ماننے والوں کی یہ آماجگاہ بنای گئ ہے اور یہاں وجود پانے والی ہر قوم اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ اپنے وجود کا ثبوت دیتی آرہی ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا
ہم سب کا یہ مشاہدہ اور آنکھوں دیکھا حال ہیکہ جس قوم نے اپنی شناخت اور پہچان کو ترک کردیا وہ صفحہ ہستی سے مٹادی گئ اور انسانیت کے ذہنوں سے محوکردی گیء اس کاکوی نام ونشان بھی باقی نہ رہا اور تاریخ عالم اس بات کی گواہ ہیکہ جو قوم اپنے مذہبی اقدار کی حفاظت کرتی ہے اپنی مذہبی شناخت کو پورے عزم واستقلال کے ساتھ باقی رکھتی ہے تو دنیا اس کو ماننے پر مجبور ہوتی اور اس پر کس قسم کی انگشت نمای سے گریز کرتی ہے
روے زمین پر نام اسی کا باقی رہتاہے جو اپنے آپ کو باقی رکھناچاہتے ہیں سکھ برادری کو دیکھ لیں جو اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں اور اپنی اسی پہچان وشناخت کے ساتھ تقریبات ودیگر پروگراموں میں شریک ہوتےہیں دنیا واہل دنیا نے بھی ان کو مان لیا اور پوری مذہبی آزادی کے ساتھ وہ رہتے اور بستے ہیں
ہندو دھرم کے ماننے والوں کو دیکھ لیں جو کسی قیمت پر اپنے مذہبی تشخص کو چھوڑنے کے کےء تیار نہیں ہوتے ہیں دنیا نے ان کو مان لیا اور وہ اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ رہتے ہیں کوی ان کو ان کی علامات وتشخص سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا
علاوہ ازیں آپ جس قوم کے متعلق بھی تحقیق کرلیں اگر انہوں نے اپنی پہچان کو بھلایا تو دنیا نے بھی ان کو فراموش کردیا
تصویر کا دوسرا رخ
ہم مسلمانوں کو اللہ تعالی نے عظیم وبیش بہا نعمتوں سے سرفراز کیا جن میں سب سے بڑی اور لازوال نعمت ایمان ہے نیز ایمان کے ساتھ اپنی ایمانی ومذہبی شناخت بھی انبیاء کرام کے توسط سے اللہ تعالی نے اپنے ایمان والے بندوں کو عنایت فرمای انہیں علامات وپہچان کے ساتھ چودہ سوسالوں میں باری تعالی نےپوری دنیااور خطہ خطہ میں اسلام کا تعارف بھی کرادیا اور ایک دستور حیات بناکر انبیاء ورسل کے ذریعہ اپنے بندوں کو عنایت فرمایا جو درحقیقت سب سے اعلی وافضل سب سے پاکیزہ دستورزندگی ہے جس کی صاف ستھری تعلیمات واحکامات کو اپنی زندگی میں نافذکرکے ہم اپنی پہچان اور شناخت کو باقی رکھ سکتے ہیں لیکن افسوس
کہ آج ہم نے اپنے نبی کی وہ تعلیمات اپنے اسلاف کی اس پہچان اور اپنے مذہبی تشخص کی کوی پرواہ نہ کی
ہم ظاہر کے مسلمان تو رہے لیکن حقیقت کے مسلمان نہ رہے
ہم نے نماز روزہ حج وعمرہ صدقہ وزکوۃ کو تو اسلام سمجھا لیکن اپنی عملی زندگی اپنی شناخت اور پیچان کو اسلام نہیں سمجھا
ہم نے اپنی تعلیمات واحکامات کو اپناتولیا لیکن ادخلوا فی السلم کافۃ کو نہیں سمجھا
جس کی وجہ سے آج دنیاے کفر وشرک اپنی دھاگ بٹھانے اپنا رعب ودبدبہ جمانے کی کوشش کررہی ہے ہمیں اپنی شناخت اور پہچان کو باقی رکھنا ہے توہم کسی کورٹ کچہری میں مقدمہ جیت کر نہیں اپنی عملی زندگی میں صفات اسلامی کو نافذ کرکے حفاظت کرسکتے ہیں
اسی بات کو اللہ پاک نے آیت قرآنی
وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین میں فرمایاکہ اگر تم کامل ومکمل مومن بن جاؤ اپنی ظاہری وباطنی زندگیوں کو عملا مسلمان بنالو اور اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام کو نافذکردو تو پھر دنیا وآخرت میں تم ہی سربلند رہوگے
آج ہماری ذلت ورسوای اور دنیاکے مختلف میدانوں میں جو پسپای ہورہی ہے اس کی ایک ہی وجہ ہیکہ ہم نے اسلامی تعلیمات واحکامات سے دوری اختیارکرلی ہے ہم یہ چاہتے ہی نہیں کہ اسلام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں
اگر واقعۃ ہم نے اسلامی احکامات کی پاسداری کی ہوتی تو ہمیں اپنی مذہبی شناخت اور اسلامی تشخص کو باقی رکھنے کےلےء ہای کورٹ یا سپریم کورٹ میں مقدمے چلانے کی ضرورت نہ پڑٹی
قصور ہمارا ہیکہ ہم نے اپنی شناخت باقی نہ رکھی جس سے اغیار کو یہ سمجھنے کا موقع مل گیا کہ داڑھی مسلمانوں کےلےء ضروری نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت داڑھی نہیں رکھتی ہے
حجاب بھی مسلم خواتین کے لےء ضروری نہیں ہے کیوں کہ اکثر مسلم لڑکیاں حجاب نہیں پہنتی ہیں
ممکن ہے خدانہ کرے کل ایسی نوبت آجاے اور دشمنان اسلام یہ کہ بیٹھیں کہ نماز بھی مسلمانوں کے لےء ضروری نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت نماز نہیں پڑھتی ہے
پھر قرآن مجید کا معاملہ سامنے آے گا اس وقت بھی دنیا والے کہ سکتے ہیں کہ یہ بھی نعوذ باللہ مسلمانوں کےلےء ضروری نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت قرآن نہیں پڑھتی ہے
اب ہم سوچیں کہ کمی اور خرابی کہاں ہے مجھے اس بات کو بتانے کی ضرورت نہیں ہر مسلمان اپنے بارہ میں فیصلہ کریں اور اپنی عملی زندگی کا جائزہ لیں
یقیناہماری بے عملی نے دشمنوں کوہم پر جرآت کا موقع فراہم کیا ہے
کاش کہ ہم اس بات کو سمجھ پاتے اور اپنی زندگیوں کو سدھارنےکی ممکن سعی کرتے حق بات یہی ہے دوستو کہ اغیار نے کچھ نہیں سمجھا جو کچھ سمجھا ہے وہ ہماری عملی زندگی کوندیکھ کر سمجھاہے ہم خود ان کو یہ سمجھارہے ہیں کہ اسلامی تعلیمات ہمارے لےء اتنے ضروری نہیں ہیں
الامان والحفیظ
جب آزادی تھی تو ہم نے عمل سے دوری اختیار کرلی تھی اور اب جبکہ پابندیاں لگ رہی ہیں تو ہم بلبلانے لگ رہے ہیں
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم میں سے ہر ایک فریضہ ہیکہ ہم اپنی اسلامی شناخت کی حفاظت اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے کریں کوٹ کچہری میں مقدمہ لڑکر نہیں
ایک مسلمان کی نجات وکامیابی اسلحہ یا شورشرابہ سے نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ کی بنیاد پر ہوتی ہے
خود باری تعالی نے ارشادفرمایا
ان تنصرواللہ ینصرکم
اگر تم اللہ کے دین مدد یعنی عمل کروگے تو وہ تمہاری مددکرے گا نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا
احفظ اللہ یحفظک
تم اسلامی احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کرکے اللہ کے دین کی حفاظت کرو یعنی عمل کروگے تو اللہ تعالی تمہاری حفاظت فرماے گا تمہیں دنیا وآخرت میں سربلندی عطاء کرے گا
مسئلہ خواہ طلاق کا ہو یا مساجد کی حفاظت کا ہومعاملہ حجاب وبرقعہ کا ہو یا داڑھی اور کرتا پاجامہ کا ہو
ہر شعبہ میں ہمیں اپنی تعلیمات
پر عمل پیرا ہوکر اس کی حفاظت کرنا پڑے گا ورنہ تو دنیا کے دستور کے مطابق دیگر اقوام عالم ہم پر ٹوٹ پڑیں گی اور ہماری مذہبی شناخت وپہچان کے ساتھ ساتھ صفحہ ہستی سے ہم کو بھی مٹادے گی پھر زمانہ میں کوئ مسلمان باقی نہ رہے گا
