اگرسی ایم یوگی کو شکست نہ ہوئی تو میں کبھی ہندوستان واپس نہیں آؤں گا

تازہ خبر قومی

فلمی نقاد اور اداکار KRK کایوگی آدتیہ ناتھ کو براہ راست چیلنج
لکھنؤ : 19؍فروری
(اے ایم این ایس)
اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں سیاسی ماحول گرما ہوا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے پر تلخ بیانات دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بالی ووڈ نے بھی یوپی انتخابات میں قدم رکھا ہے۔

بتادیں کہ تیسرے مرحلے کے انتخابات سے قبل فلمی نقاد اور اداکار کمال رشید خان یعنی کے آر کے کا ایک ٹویٹ زیر بحث ہے۔ دراصل، کے آر کے نے یوگی آدتیہ ناتھ کو براہ راست چیلنج کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر یوگی کو شکست نہیں دی گئی تو وہ کبھی ہندوستان واپس نہیں آئیں گے۔

کمال رشید خان یعنی کے آر کے نے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ آج میں عہد کرتا ہوں کہ اگر 10 مارچ 2022 کو یوگی کو شکست نہیں دی گئی تو میں کبھی ہندوستان واپس نہیں آؤں گا۔ جئے بجرنگا بلے۔ KRK کے اس ٹویٹر پر لوگ شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک صارف نے KRK کی 16 مارچ 2014 کی پوسٹ شیئر کی، جس میں KRK پاکستانی کرکٹر شعیب اختر کے ساتھ نظر آرہا ہے۔ تب KRK نے لکھا تھا کہ اگر مودی جی جیت گئے تو میں ہمیشہ کے لیے ہندوستان چھوڑ رہا ہوں۔

 

 

اور ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کمال خان نے لکھا کہ
سروے کا نتیجہ- 49% لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں۔@yadavakhilesh ویسٹرن یوپی میں 2 راؤنڈ کی طرح ووٹنگ کا تیسرا راؤنڈ بھی جیتے گئیں

صارف نے لکھا کہ آپ 2015 میں مودی کی جیت پر ہی بھارت سے نکلے ہیں۔

وہیں انیل کمار کلوار نامی ٹویٹر صارف نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ کو شملہ کا ٹھنڈک بھی پسند نہیں ہے۔ 2024 میں بابا جی آئیں گے اور مودی جی۔ اس دوران اشوک مشرا نے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ ‘معذرت آپ دوبارہ ہندوستان نہیں آسکتے، ہمیں افسوس ہے۔’ اسی دوران اکھلیش نامی صارف نے کہا، ‘منور رانا اور آپ، اپنی بات پر قائم رہیں! کیونکہ 11 مارچ کو بہت سے لوگوں کے 12 بجنے والے ہیں۔

واضح رہے کہ 20 فروری کو اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں 16 اضلاع کے 59 اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اگلے مرحلے میں یوپی کے تین حصوں اودھ، مغربی یوپی اور بندیل کھنڈ میں انتخابات ہیں