مختصر تعزیتی کلمات
ازقلم : ۔قاضی سید سلیمان القاسمی
مولاناعبدالجبار صاحب رحمہ اللہ کا اسم گرامی،، عبدالجبار ابن محمد امام الدین ہیے داداکانام محمد قاسم صاحب تھا ،،وطن مالوف،،ردرارم کوڑنگل، بعد میں منتقلی موضع غازی پور تعلقہ تانڈور ہوئی،،اور یہ ہی آپ کی جاے پیدائش بنا،
مذکورہ موضع میں ہی چار پانچ کلاس تیلگو میں تعلیم ہوئی،،مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا،،9سال کی عمر میں حفظ قرآن کریم غرض سے مادرعلمی ،،مدرسہ نورالعلوم تانڈور میں داخلہ لیکر 1991میں تکمیل قرآن مجید کی سعادت حاصل کیئے،،مابعد 1992میں بطور عالم کورس حیدرآباد کے معروف ادارہ،،، جامعہ اشرف العلوم ،،میں شعبہ اعدادیہ میں داخلہ لیکر درجہ چہارم شرح جامی تک تعلیم لیکر اس کے بعد،، جامعہ سبیل السلام،،بارکس حیدرآباد سے سن 1999میں عا لمیت وفضیلت کی سند فراغت حاصل کی ،مابعد والد مرحوم کے علاج ومعالجہ میں تین سال مصروف رہیے، سن 2002 میں،، ادارہ دارلعلوم حسینیہ تانڈور،،کی بنیاد اپنے دوستوں کے ساتھ ملکر رکھی،،تب سے آج تک تا دم حیات مدرسہ کی نظامت کے فرائض انجام دیئے، پورے دو دہائیوں تک خدمات انجام دے کر آخری شب بھی اسی فکر کو لیکر اس دار فانی سے دار بقاء کی جانب چل بسے۔۔۔۔۔
مکمل 20 سال تک مولانا مرحوم کا ستارہ بلند اقبال،سرزمین تانڈور پر جگمگاتا رہا،اپنی زندگی کے ان ہی ایام میں بعض اسلامی مدرسوں کی عصریت پسندی،وجدیدیت اور روایت پسندی وجدت کاری کشمکش سے پرے ہٹ کر ہو شمندانہ طور پر نمٹنے کے لیے خرد مندانہ انقلاب واقدام کے نقیب رہیے،،،مولانا مرحوم نے اپنے منفرد انداز میں دل نشیں،اور مؤثر طریقہ کار کے ذریعہ اس خصوص میں جتنا فائدہ عوام وخواص وطلبہ کو پہونچایا ہیے وہ بھی اپنی نظیر آپ ہیے،،
یہ بھی پڑھیں راجنـــــــا ســـــرسلہ ضلع میں بـــــلاک فنگس سے ہلچل
مولانا مرحوم سن 2008 میں مجلس علمیہ متحدہ آندھراپردیش ضلع مغربی رنگاریڈی کے مجلس شوری کے رکن رکیں تھے،،سن 2009 میں حضرت مولانا اسعد مدنی نوراللہ مرقدہ کی جمعیت سے جڑ کر تادم آخر وابستہ رہیے،،مولانا مرحوم،، حضرت مولانا عبد القوی صاحب طال عمرکم کے نور نظر بھی رہیے،ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد میں آپ کو ،،اعلی حضرت ،،کا خطاب دیاگیا تھا،، نیز جامعہ سبیل السلام بارکس میں حضرت مولانا رضوان القاسمی علیہ الرحمہ، اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ سے حدیث کی بڑی بڑی کتابیں پڑھ کر مقرب رہیے،،،
سن 2010 میں شہر تانڈور کی مقامی مرکزی کمیٹی مسلم ویلفیر اسوسی ایشن تانڈور ،،مجلس مشاورت کے تادم آخر رکن خاص تھے۔۔۔علالت کے 3 سال 3 ماہ تک مجلس مشاورت سے ربط میں رہیے،سن 2011 سے مسلسل تانڈور عید گاہ میں عیدین کی نماز کی امامت ،،اور سن 2003 سے 2018تک تانڈور کی مرکز مدینہ مسجد میں منصب امامت وخطابت پر بلا توقف فائز رہیے۔
مدرسہ دار العلوم حسینیہ تانڈور کی نظامت کے فرائض بھی انجام دیئے،آپ کے دور نظامت میں مذکورہ مدرسہ سے 130طلبہ اکرام نے قرآن کریم تکمیل کیے ہیں جس میں اکثر طلبہ قرآن وحدیث کی ترویج واشاعت میں لگے ہوے ہیں۔۔الحمد للہ۔۔
اللہ تعالی مولانا مر حوم کی مغفرت اور پساندگان کو صبر جمیل دے۔۔۔۔امین۔۔مولانا کے پساندگان میں تین لڑکیاں اور ایک لڑکا مع اہلیہ موجود ہیں۔
