بے زبان جانوروں کی محبت میں تلنگانہ کی 21 سالہ مسلم لڑکی بن گئی خطروں کی کھلاڑی۔

تازہ خبر تلنگانہ

محبوب آباد: یکم جولائی 

( زین نیوز )۔

محمد سوما کی بہادری اور جانوروں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوے سال 2020 میں عالمی یوم خواتین کے ضمن میں منعقدہ تقریب میں گورنر تلنگانہ تمیلی سائی سندرا راجن نے ایوارڈ عطا کیا۔ انٹرمیڈیٹ کامیاب محمد سوما کے والد محمد سبحانی پیشہ سے جرنلسٹ ہیں اور وہ اپنی لڑکی کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

تلنگانہ کے ضلع محبوب آباد میں واقع ایک کنویں میں ایک لومڑر گرگئی۔ جس کے ساتھ ہی مقامی افراد کنویں کے پاس پہنچے اور لومڑی کو پانی میں ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور سونچ رہے تھے کہ اس لومڑی کو کس طرح بچایا جائے دوسرے الفاظ میں وہ اس جانور کو بچانے کی ہمت نہیں کرسکے اس دوران میں ایک نوجوان لڑکی کنویں کے پاس پہنچی اورکمر میں رسی باندھ کرمقامی افراد کی مدد سے 40 فٹ گہرے کنویں میں اتری گئی اور لومڑی کو نکالتے ہوئے احتیاط سے کنویں سے باہر نکل آئی۔ اس دوران پانی میں ڈوبنے کی وجہہ سے لومڑی کی موت واقع ہوگئی تھی جس پر اس نوجوان لڑکی نے افسوس کا اظہار کیا ۔

بے زبان جانوروں کو بچانے والے 21 سالہ نوجوان لڑکی کا نام محمد سوما ہے ۔ 11سال کی عمر میں اس لڑکی نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے جانوروں کا علاج کرنے اور جانوروں کی جان بچانے کے کام کرتے آرہی ہے۔

محمد سوما نے بتایا کہ اس نے نہ صرف لومڑی کی جان بچانے کےلئے گہرے گنویں میں اتری تھی اسی طرح اس نے 120 سے زیادہ جانوروں کی جان بچانے کی کوششیں کئیں اور زخمی جانوروں اور پرندوں کا علاج بھی کیا ہے۔ کسی جانور یا پرندہ خطرہ میں ہونے کی اطلاع ملنے پر دن یا رات کی پرواہ کئے بغیر مقام پر جاکر جانوروں کو بچانے کے کام کرتی آرہی ہیں۔ محمد زوما نے بتایا کہ وہ اس کام کے لئے اپنے والد محمد سبحانی سے متاثر ہیں وہ پیشہ سے ایک جرنلسٹ ہیں اور ماحولیات کےتحفظ کے لئے بھی کام کیا کرتے ہیں۔

محمد سوما نے بتایا کہ وہ پانچویں جماعت میں تھی اس وقت ایک جنگلی جانور کو بچایا تھا اس نے کہا کہ امدادی کاموں میں ان کے والد محمد سبحانی بھی ساتھ آکر اس کی مدد کرتے ہیں اور والدہ سمینہ ہمت افزائی کرتی ہیں۔
محمد سوما نے بتایا کہ جانوروں کو بچانے کا کام کبھی بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے لیکن وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹی ۔ سوما نے بتایا کہ اس نے کچھ سال قبل ایک اژدھا کو پکڑکر محکمہ جنگلات کے حوالے کیا تھا۔
سوما نے گھر پر جانوروں رکھ کران کا علاج کرنے کے لئے ایک شیڈ بھی بنایاہے اس نے سال 2018 میں ماں سے دور ہونے والے 6 بلی کے بچوں کو بچاتے ہوئے گھر میں ان کا علاج کیا اور بڑے ہونے کے بعد ان کو چھوڑدیا ۔ ٹول فری اینیمل موبائل میڈیکل ایمبولینس نمبر (1962) کے ذریعہ کسی پریشان جانور کے بارے میں فون آنے پر زوما اسلحہ کے طور پر ایک رسی ، ایک بندوق والا بیگ ، اور دستانے لے کر فورا اس جانور کی مدد کےلئے پہنچ جاتی ہیں۔
مقامی لوگ جانوروں کے ساتھ اس کی محبت دیکھ کر حیران ہیں اسطرح کے راحت کاری کاموں کی وجہہ سے زوما اپنے گاوں میں کافی مشہور ہے۔

بشکریہ ( تلنگانہ نیوزپوائنٹ ڈاٹ کام )

https://www.telangananewspoint.com