تاریخ جمعیۃ علماء نظام آباد

تازہ خبر تلنگانہ

مولاناسید سمیع اللہ ضلعی صدرمولاناارشدعلی قاسمی ضلع سکریٹری عنایت علی افروز خازن منتخب
از قلم عبدالقیوم شاکر القاسمی

جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
ملک وملت کے تحفظ اسلام اور شعائراسلام نیز مسلمانوں کے مآثر ومعابد کے تحفظ ملک میں مسلمانوں کے مذہبی تمدنی تعلیمی اور اقتصادی حقوق کی تحصیل وتحفظ مسلمانوں کی مذہبی تعلیمی اور معاشرتی اصلاح اور مسلمانوں کی سوشل زندگی کے ترقی واستحکام اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انڈین یونین کے مختلف فرقوں اور مذاہب کے مابین آپسی میل جول پیداکرنا اور اس رشتہ کو مضبوط کرنا حالات زمانہ کے مقتضیات کے مطابق علوم عربیہ واسلامیہ کا احیاء اور نظام تعلیم وتربیت کا اجراء کرنا نیز تعلیم اسلام کی نشرواشاعت کرنا اور اسلامی اوقاف کی تنظیم وحفاظت کی خاطر پورے خلوص کیساتھ بے لوث کام کرنے والی جماعت جمعیۃ علماء ہند ہے جو اپنے عظیم مقاصد کے پیش نظر ملک میں عزم واستقامت کا سنگ میل بن کر مسلمانوں کے لےء راہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوے تن من دھن کی بازی لگاکر ملک کی سالمیت اور دستور وآئین کے تحفظ کے لےء گذشتہ سو سال سے کامیاب کوششیں کرتی آرہی ہیں

الحمدللہ بڑے فخر کے ساتھ یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ اس جماعت کے بانیین واکابرین کے خلوص کی برکت سے آج ایک کروڑھ سے زائد لوگ اس جماعت کے باضابطہ ممبر ہیں ان شاء اللہ امسال یہ تعدادمزیدہوجاے گی اور پورے ملک میں اس کی ذیلی شاخیں بھی منظم انداز میں پھیلی ہوی ہیں اور دیگر تنظیموں کے مقابلہ میں بڑھ چڑھ کر کام کرنے میں اپنی حصہ داری اداکرتی ہیںہمیں اس تاریخی حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہونا چاہیے کہ شہر نظام آباد کو یہ اعزاز بلکہ فخر حاصل ہیکہ جمعیۃ علماء کا سب سے پہلے قیام بھی اسی شہر سے وابستہ ہے

1948 میں ریاست حیدرآباد کا انڈین یونین میں انضمام کے بعد سے 1952 تک کا چار سالہ عرصہ میں مسلمانان دکن کی حالت انتہای نازک ہوگئی تھی ایک قسم کی افراتفری کاماحول بن چکا تھا مسلمان طرح طرح کے مسائل میں گھرے ہوے تھے ایسے کٹھن اور صبر آزما حالات میں حضرت مولاناعبدالسبحان صاحب حضرت مولاناحمید احمد صاحب حضرت مولا نا ضمیر الدین صاحب محترم ابراہیم صاحب جناب ایم اے فہیم صاحب حافظ معظم علی صاحب مولاناعطاء الرحمان جامی قاسمی صاحب جناب ڈاکٹر عبدالقدوس زعیمی صاحب رحمہم اللہ نے اپنے سروں پہ کفن باندھ کر پوری جرآت وجوانمردی کے ساتھ ملت اسلامیہ کو استحکام بخشا انہیں تسلی دی ڈھارس بنای ضلع کلکٹروں اور قائدین ودیگر محکمہ جات کے اعلی افسران سے رابطہ کیا اور حالات کو قابو میں کرنے ہر مجبور کیاانہی جاں گسل وجاں سوز حالات میں جمعیۃ علماء کا قیام عمل میں آیا اورایک مضبوط پلاٹ فارم کی بنیاد ڈالا

الحمد للہ انہی اسلاف وبزرگان دین کی فکروں سے جمعیۃ علماء آج تک اپنے مشن میں پوری کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور ان شاء اللہ تادم حیات بڑھتی ہی رہے گی ان اکابرین ہی کے نہج پر کام کرتے ہوے شفیق الملت استاذ الاساتذہ حضرت مولانا سید ولی اللہ قاسمی صاحب علیہ الرحمۃ نے بھی اپنی زندگی کے 35 سال اسی کاز اور کام کو آگے بڑھانے میں لگاکر اللہ کوپیارے ہوگےء سچ تو یہ ہیکہ آپ نے اپنی ذمہ داری سمجھ کرنہ صرف شہر بلکہ پورے ضلع بھر اور قریہ قریہ جاکر جمعیۃ علماء کا تعارف کرایا جمعیۃ کےکام کو سمجھایا اور اس کوپروان چڑھایا ہے آج انہی کی فکروں اور انتھک کاوشوں کا نتیجہ اور ثمرہ ہیکہ ہم اور آپ اس تنظیم اور جماعت سے آشنا اورواقف ہیں اس تنظیم کی حفاظت اور اس کے وقار کو باقی رکھنے کے لےء آپ نے اپنے اراکین کو اور خود کو بھی انتہای محتاط بنایا تھا کسی سیاسی لیڈر یا کسی بھی پارٹی کی کھل کر تائید کرنے یا کاسہ لیسی کی روش اختیار کرنے سے گریزہی کرتے رہے تاکہ اس پرچم کی عزت اور علماء کا وقار باقی وبرقرار رہے

الحمد للہ ان کی اسی فکر کو سامنے رکھ کر موجودہ خدام جمعیۃ علماء اس جماعت کی خدمت میں لگے ہوے ہیں مولانامرحوم سن 2005 سے تاحیات مکمل 15/اس کی صدارت نشینی فرمای اتنے طویل عرصہ میں آپ نے اس مقدس ومعتبر جماعت کے نام پر کسی عالم دین یا حافظ قرآن اور نہ ہی کسی عام انسان کا استحصال فرمایا نہ ہی اس نام اور عہدہ کو کبھی اپنے مفاد اور ذاتی اغراض کے لئے استعمال کرکے داغ داربنایا یہی وجہ ہیکہ لوگ جمعیۃ کو آپ کے نام سے جانتے تھے نہ کہ جمعیۃ کے نام سے آپ کو مولا نا اس دارفانی سے جانے کے بعد بھی الحمد للہ اس کے مخلص کارکنان کام میں لگے رہے اور ہنوز لگے ہوے ہیں

اللہ پاک آگے اس کے ذمہ داران وکارکنان کو مزید اخلاص واستقامت کے ساتھ خدمت خلق میں رہنا آسان اور مقدر فرماے ہر قسم کے شروروفتن سے اس جماعت اور اس کے کارکنان کی بھرپور حفاظت فرماے تاریخ گردش کرتے ہوے یہاں تک پہونچی کہ جمعیۃ علماء کے استحکام اور مستقبل کے عزائم کو روبہ عمل لانے کے لےء ضرورت تھی ایک نوجوان قیادت کی جو اس جماعت میں بھی مولاناسید ولی اللہ قاسمی علیہ الرحمۃ کی جانشینی حاصل کرے اور کاز جمعیۃ کو سمجھ کر پورے خلوص کے ساتھ کام کو آگے بڑھاے چنانچہ حالات کی نزاکت اور معیاد کی تکمیل کی وجہ سے آج بتاریخ 4/جولای 2021 مطابق 22/ذیقعدہ 1442 بروز اتوار بمقام ادارہ مظہر العلوم میں جمعیۃ علماء کی انتخابی نشست کا انعقاد عمل میں آیا اور باتفاق آراء جانشین شفیق الملت مولانا سید سمیع اللہ العالی ناظم ادارہ ہذا امام وخطیب ۔کہ مسجد نظام آباد کو بحیثیت صدر منتخب کرلیا گیا

واضح رہیکہ اس اجلاس کی صدارت جناب حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا نے فرمای نیز اس اجلاس میں نائب صدور جناب مولانااسماعیل عارفی مفتی رفیق ذاکر قاسمی مولاناعبدالحمید السائح قاسمی مولانامرزاخالد بیگ قاسمی جناب یحیی ظفر مالک بجلی بیڑی جناب نصیرالدین لکچرارکو منتخب کیا گیا اسی طرح مولاناارشد علی قاسمی امام وخطیب مسجد حمیدیہ کو ضلع سکریٹری اور جناب عنایت علی افروز مالک دلی ٹی کمپنی کو خازن کے عہدہ پر فائز کیا گیا جبکہ مولاناعبدالقیوم شاکر القاسمی جنرل سکریٹری کے عہدہ پر حسب سابق برقرار رہیں گے جناب وسیم احمد خان مالک نزاکت جویلرس کو جوائنٹ سکریٹری کے فرائض انجام دیں گے

نیز اس اجلاس میں جمعیۃ علماء کے جدید طریقہ انتخاب کی آن لائن کارروای کی تکمیل کی توثیق کرتے ہوے 20000 پرائمری ممبران 200ایکٹیو ممبران اور 37 اراکین منتظمہ کے نام رجسٹرڈ کے گےء ان شاءاللہ عنقریب اراکین عاملہ کی جنرل باڈی تشکیل دی جاے گی ساتھ ہی ساتھ ایک ایڈوائزر مشاورتی کمیٹی کا جسمیں جناب مولانااسماعیل عارفی جناب نصیرالدین لکچرارجناب افضل الدین شامل ہیں اس موقع پر مہمان جناب الحاج حافظ پیر خلیق احمد صابر نے جمعیۃ کی تاریخی اہمیت اور اس سے وابستگی کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوے بہترین انداز اورخوشگوار ماحول بناکرانتخابات کرواے اس اجلاس میں مقامی ذمہ داران اور مقامی ایکٹیو ممبران کے علاوہ منڈلوں کے صدور موجودتھے اللہ پاک ہم سب کو اخلاص واستقامت کے ساتھ خدمت دین وخدمت خلق کے لےء قبول فرماے آمین بجاہ سیدالمرسلین