ضلعی سرویس کے سربراہپریم شرما گرفتار۔12 ملزمان کو عدالتی تحویل میں
نئی دہلی :18؍اپریل
(زین نیوز)
دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں ہفتہ کو جلوس کے دوران ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس نے آج بڑی کارروائی کی ہے۔ جہانگیرپوری تشدد کیس میں پولیس نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے ارکان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔ وی ایچ پی اور بجرنگ دل پر بغیر اجازت جلوس نکالنے کا الزام ہے۔
ڈی سی پی نارتھ ویسٹ اوشا رنگنی نے کہا کہ وشو ہندو پرشیہد کے ایک لیڈر کو دائیں بازو کی ہندوتوا تنظیم اور بجرنگ دل کے خلاف جہانگیر پور کے علاقے میں بغیر پولیس اجازت کے مبینہ طور پر ہنومان جینتی جلوس نکالنے کے الزام میں مقدمہ درج کرتے ہوئےFIR نمبر 441/22 مورخہ 17/04/22 کے تحت 188 آئی پی سی کے تحت مقدمہ در ج کیا گیا ہےاور وشو ہندو پریشد کے ضلعی سرویس کے سربراہ پریم شرما کو گرفتار کر لیا گیا ہے
ہنومان جینتی فسادات کے اہم ملزم انصار اور اسلم سمیت 14 لوگوں کو دہلی کی روہنی کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے اسلم اور انصار کے ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کر دی۔ اس کے ساتھ ہی دیگر 12 ملزمان کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے
دہلی پولیس نے جہانگیرپوری تشدد میں ایک اور گرفتاری کی ہے۔ ملزم نے جلوس پر پھینکنے کے لیے شیشے کی بوتلیں فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس معاملے میں کل 24 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے پیر کو کہا کہ جہانگیر پوری تشدد کے سلسلے میں اب تک دونوں برادریوں کے 24افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے ان دعوؤں کی تردید کی کہ ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران ایک مسجد میں زعفرانی پرچم لہرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ استھانہ نے پریس کانفرنس کے دوران زور دیا کہ پرتشدد جھڑپوں میں ملوث افراد کو طبقہ، مسلک یا مذہب کی بنیاد پر بخشا نہیں جائے گا۔
Delhi violence: Case filed against VHP, Bajrang Dal members for taking out procession without permission. India Today's @kamaljitsandhu reports live from Jahangirpuri
Watch #6PMPrime LIVE now | @PoojaShali #Delhi #DelhiViolence pic.twitter.com/zHsL1dNExI
— IndiaToday (@IndiaToday) April 18, 2022
جب پولیس کمشنر راکیش استھانہ سے پوچھا گیا کہ کیا جھنڈا لہرانے کی کوششوں کے بعد جھڑپ شروع ہوئی تھی، تو انہوں نے کہا، ’’نہیں، جلوس کے دوران مسجد میں بھگوا پرچم لہرانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
کئی سیاست دانوں اور سوشل میڈیا صارفین نے الزام لگایا تھا کہ کچھ لوگوں نے جہانگیر پوری کی ایک مقامی مسجد میں جھنڈا لہرانے کی کوشش کی جس کے بعد پتھراؤ اور تشدد کیا گیا۔ استھانہ نے کہا کہ ہفتہ کی جھڑپوں کی تحقیقات کرائم برانچ کو سونپ دی گئی ہے اور اس سلسلے میں 14 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ فرانزک ٹیموں نے بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
