مولاناجعفر پاشاہ صاحب کے ساتھ نارواسلوک پرجمعیۃ علماء نظام آباد کا حکومت کو انتباہ۔۔
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد تلنگانہ
9505057866
اپنےافراد کی قربانیوں سے پہچانی جانے والی ریاست تلنگانہ جوآپسی میل ملاپ بین مذاہبی تعلقات امن وامان بھای چارہ اور دوستی کے نام سے شہرت یافتہ ایک عظیم ریاست ہے جہاں مسلمانوں نے مختلف قربانیاں دے کر اس ریاست کے حصول کو کامیابیوں سے ہمکنارکیا اور اس کی ترقی کے لےء ہمیشہ کوشاں ودعاء گو رہے مذہبی شخصیات نے ہرموقع پر اس ریاست کی ترقی وتعمیر میں آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور آج بھی ان کا یہی طرززندگی ہے کہ اس ریاست میں کوی بھی مذہبی رنگ غالب نہ آنے پاے اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب پر کسی کی بری نظرنہ پڑے اورہرمحکمہ میں نمائندگیاں برابرجاری رہے

لیکن افسوس گذشتہ دوسال سے حکومت تلنگانہ ایک مخصوص رنگ میں رنگتی ہوی نظر آرہی ہے کبھی ہندومسلم کے نام پر ایک دوسرے کو دست وگریباں کیا جارہا ہے کبھی شہروں اور علاقوں کے ناموں کی تبدیلی کی بات کی جارہی ہے توکہیں مسلم نمائندگیوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے تو کہیں اردوزبان کے حوالہ سے سوتیلاسلوک اور برتاؤ ہورہا ہے تو کہیں مسلمانوں کی مذہبی شخصیات کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنایا جارہا ہے تو کہیں دواخانوں اور آفسوں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں تو کہیں اسکولوں میں فرقہ پرستی پروان چڑھتی دکھای دے رہی ہے تو کہیں مساجد اور وقف کی زمینات کے حوالہ سے معنی خیز خاموشی نظر آرہی ہے تو کہیں مذہبی شخصیات کے ساتھ ذلت آمیز اور ہتک آمیز سلوک کیا جارہا ہے تو کہیں انہیں بے بس ومجبور بناکر مختلف قسم کے ٹیکسوں اور چالانات کے بھرنے کاپابند بنایاجارہا ہے
موجودہ وبای بیماری کورونا وائریس سے تحفظ کے لےء نافذکردہ لاک ڈاؤن کے دوران ان کے ساتھ عمدا سختیاں برتی جارہی ہیں توکہیں نشانہ بناکر ان کی گاڑیوں اور دوکانات کومہر بند کیاجارہا ہے

بہرکیف ہرطرف کہیں نہ کہیں ایک تماشہ بناکر مسلمانوں کے دلوں کو ٹھیس پہونچانے والی حرکات کی جارہی ہیں جس کا سلسلہ اب تیز ہوتا ہوا معاملہ یہاں تک پہونچ چکا ہے کہ ریاست تلنگانہ کی قدآور اور معززومعتبر شخصیت جناب جعفر پاشاہ صاحب کے ساتھ حیدرآباد پولیس نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کا بہانہ بناکر گاڑی سے اتاردیا اور عام لوگوں کی طرح سڑک پر کھڑا ہونے کو کہا جس سے تلنگانہ کے مسلمانوں کے جذبات کویقینا ٹھیس پہونچی ہم ذمہ داران جمعیۃ علماءحکومت تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کی حرکت کرنے والے پولیس افسران واہلکاروں کو فوری برطرف ومعطل کریں اور مولنا جعفر پاشاہ صاحب سے حکومت تلنگانہ معافی مانگے بصورت دیگر ہم مسلمانان تلنگانہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج درج کرائیں گے اور انتباہ دیتے ہیں کہ اگر ریاست تلنگانہ کہ سالمیت وترقی چاہتے ہیں تو ان مذہبی شخصیات اور عام مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے سے بازآجائیں
یقینا اس قسم کے واقعات آے دن دیکھنے پڑھنے اور سننے کو مل رہے ہیں جس سے حکومت تلنگانہ خوداپنی ہی عوام کی نظروں میں مشکوک بنتی دکھای دے رہی ہے حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اپنا احتساب کریں اور اس قسم کے واقعات کو شہ دینے کے بجاے فرینڈلی ہونے کا عملی ثبوت دیں جس سے ہماری نہ صرف ریاست تلنگانہ بلکہ پورا ملک محفوظ ومامون رہے گا آپسی دوستی اور بھای چارہ سے ہی ملک ترقی کرے گا
ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگر حکومت تلنگانہ نے اپنے اس رویہ میں تبدیلی نہیں لاتی ہے تو پھر آئندہ انتخابات میں کامیابی کاملنا یقینی نہیں ہوسکے گا
چونکہ
حکومت نام ہے ہرطبقہ کے افراد کے ساتھ اچھاسلوک کرکے ان کے دلوں کو جیتنے کا صرف پارلیمنٹ یا کابینہ سے فیصلے کرنے کو انتظام وانصرام کا نام تو دیا جاے گا لیکن اس کو حکومت نہیں بلکہ تانا شاہی کہا جاے گا جو زیادہ دنوں تک نہیں چل پاے گی
ارباب اقتدار کو چاہیے کہ وہ اپنی نیت اور نیتی درست رکھے سب کا ساتھ سب کا وکاس والی پالیسی پر عمل پیرارہیں تو حکومت برقراررہ سکتی ہے
حالیہ دنوں میں نرمل بھینسہ نارائن کھیڑ جگتیال آرمور نظام آباد حیدرآباد بچکندہ بانسواڑہ کئ ایک اضلاع اورمنڈلوں میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی والے واقعات رونما ہوچکے ہیں جس سے حکومت تلنگانہ کی شبیہ بگڑتی ہوی اور اس کی صاف ستھری تہذیب مکدر ہوتی نظرآرہی ہے
حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر شعبہ کو بطور خاص محکمہ پولیس کو غیرجانبدار بناے اوراس دوہرے کردارسے دوررکھنے کی کوشش کرے
ہم مانتے ہیں کہ لاک ڈاؤن ہے گائیڈلائن کو فالو کرنا ضروری اورہرشہری کا فرض ہے لیکن یہ بھی تو سوچنے کی بات ہے کہ ریاست کا ایک بڑاذمہ دار عالم بناکسی اہم ضرورت کے کیوں باہر نکلا ہوگا؟ اور اس کے ساتھ کیا ذمہ داریاں لگی ہوی ہیں ؟علاوہ ازیں کیا پولیس کا کام یہی ہیکہ وہ مسلم وغیرمسلم کو الگ الگ نظروں سے دیکھ کر دونوں فریق کو الگ الگ احکامات لاگو کریں
یہ بھی پڑھیں : کمشنر بلدیہ کافیس بک اکاؤنٹ ہیک
خود مولنا کے کہنے کے مطابق مسلمانوں کو باضابطہ ایک راستہ سے بھجایاجارہاہے جس راستہ پرچالان کاٹے جارہے ہیں اور دیگر لوگوں کو دوسری راہ دکھای جارہی جہاں کوی گرفت نہیں
ان واقعات کو دیکھنے سے بس یہی سمجھاجاسکتا ہے کہ تلنگانہ حکومت اور اس کے مختلف ادارے فرقہ پرستی کی راہ پر گامزن ہیں
اس لئے ہم جمعیۃ علماء کے سب ہی ذمہ داران مولاناسید سمیع اللہ مولانا اسماعیل عارفی عبدالقیوم شاکر القاسمی محمد عنایت علی افروز وسیم احمد خان نصیرالدین محمد افضل الدین مفتی عبدالمبین مولاناارشدعلی اور علماء نظام آباد اپنی سخت ناراضگی کا اظہارکرتے ہوے اعلی عہدیداران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خاطی پولیس افسران کو یا تو فوری معطل کیا جاے یا معافی مانگی جاے انصاف نہ ملنے پر ہم سڑکوں پر آکے احتجاج منظم کریں گے
