دیوبند، 25؍ فروری
(رضوان سلمانی)
دارالعلوم وقف دیوبند کے اکاؤنٹنٹ سلیم عثمانی کا گذشتہ دیر شام اچانک انتقال ہوجانے سے دارالعلوم وقف انتظامیہ اور عزیر واقارب اساتذہ وملازمین صدمہ کی کیفت میں چلے گئے ۔سلیم عثمانی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شام کے وقت وہ اپنے گھر پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انہیں سینہ کے درد کی شکایت ہوئی۔اہل خانہ انہیں فوراً ڈاکٹر کے یہاں لیکرگئے لیکن ڈاکٹر نے انہیں مردہ قرار دیدیا۔
اس اچانک حادثہ سے اہل خانہ شدید صدمہ کی کیفت میں مبتلا ہوگئے۔ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی دارالعلوم وقف دیو بند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی،شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ،مولانا شکیب قاسمی،مولانا نسیم اختر شاہ قیصر،مولانا دلشاد قاسمی،ولی وقاص،مولانا اسلام قاسمی،مولانا سکندر،قاری آفتاب،مولانا گلفام،سہیل اور اکرام کے علاوہ ادارہ کے اساتذہ وملازمین نے محلہ خانقاہ میں واقع ویلکم کالونی میں ان کی رہائش گاہ پہنچ کر اس حادثہ وفات پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے جملہ پسماندگان سے اظہار تعز یت کیا۔
مولانا سفیان قاسمی نے کہا کہ سلیم عثمانی ادارہ کے سچے اور وفادار کارکن تھے ،انہوں نے ہمیشہ اپنے فرائض کی انجام دہی شاندار طریقہ سے انجام دی ۔ادارہ ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھے گا۔مولانا دلشاد قاسمی نے بتایاکہ سلیم عثمانی کی عمر تقریباً63؍سال تھی۔وہ ادارہ کے پرانے خادم اور ساتھی تھے اچانک میجر ہارٹ اٹیک ہارٹ اٹیک کے سبب ان کی موت واقع ہوئی۔
ادارہ کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ اور مولانا شکیب قاسمی نے بھی سلیم عثمانی کی اچانک موت پر اپنے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نہایت خوش اخلاق،ملنسار اور ادارہ کے سرگرم کا رکن تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے،درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبح جمیل دے آمین۔صبح 10:30بجے مرحوم کی نماز جنازہ دارالعلوم کے احاطہ مولسری میں قاری محمد فوزان نے ادا کرائی۔بعد ازاں سیکڑوں سوگواروں کی موجود گی میں تدفین قاسمی قبرستان میں عمل میں آئی۔
