سوگوار ماحول میں مولانا نسیم اختر شاہ قیصر قبرستان انور یہ میں سپرد خاک

تازہ خبر قومی
مرحوم کے انتقال کو نامور علماء کرام نے علم وادب کے ایک عہد کے خاتمہ سے تعبیر کیا
دیوبند،12؍ ستمبر
(رضوان سلمانی)
ممتاز و مشہور قلمکار ،نامور ادیب اوردارالعلوم وقف دیوبند کے سینئر استاذ حدیث مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کو دیر شب غمگین ماحول میں ہزاروں سوگواروں نے مزار انوری میں سپرد خاک کردیا،ان کی نماز جنازہ رات گیارہ بجے ان کے صاحبزادے مفتی عبید انورشاہ نے جامعہ امام محمد انور شاہ میں ادا کرائی، نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں علمائ،طلبہ،شہر کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ قرب وجوار کے اضلاع سے بڑی تعداد میں علماء ،دانشوروان اور ادباء نے شرکت کی۔
مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کے انتقال پر نامور علماء کرام و دانشوران نے گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو علم و ادب کا بڑا خسارہ قرار دیتے ہوئے ایک عہدہ کے خاتمہ کے تعبیر کیا۔
مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی انتہائی افسوس کااظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے عظیم علمی گھرانے سے تعلق رکھنے والے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے، لکھنے پڑھنے کا فن انہیں  وراثت میں ملا تھا،پوری زندگی درس و تدریس میں گزاری ہے، ان کاانتقال علم و ادب کا بڑا نقصان ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کی جملہ خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
 جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کی رہائش گاہ پر پہنچ کر تعزیت مسنونہ پیش کی اور اپنے خاندانی تعلق کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ استاذ الاساتذہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے نبیرہ اور مولانا ازہر شاہ قیصر کے صاحبزادے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کو بھی اللہ تعالیٰ نے قلم و قرطاس پر مضبوط پکڑ بخشی تھی، کم عمری میں درجنوں کتابیں ان کی منظر آئیں ہیں، اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرماکر درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے۔
 دارالعلوم دیوبند کے سابق صدر القراء اور رابطہ عالمی اسلامی کے رکن مولانا قاری ابوالحسن اعظمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر ؒ استاذ دارالعلوم وقف دیوبند جوارِ رحمت میں پہنچ گئے، مگر دل ہے کہ کسی طرح یقین کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ بیس گھنٹے پہلے کچھ وقت ان کے پاس گزار کر آیا تھا، بڑے ہشاش بشاش تھے، فرمایا کہ میں ستّر فی صد صحیح ہوچکا ہوں، خود کو مطمئن محسوس کر رہا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک متعدد موضوعات پر گفتگو رہی، مگر آہ! فآہ!! ثم آہ!!! میرے لئے وہ خضرِ راہ تھے، میں نے اپنی متعدد تحریروں میں یہ لکھا تھا۔ ایک عرصہ سے ہفتہ میں اتوار کے روز مغرب سے عشاء تک بھائی عمر الٰہی کے ساتھ پابندی کے ساتھ میرے پاس وقت گزارنے کا معمول تھا۔
 پھر جب سے تکلیف میں رہے، چلنے پھرنے سے معذوری ہوئی تو میں خود حاضر ہوتا تھا۔لیکن کیا پتہ تھا کہ ہمیں چھوڑ کر تنہا جنت کو سدھار جائیں گے۔مولانا نسیم اختر شاہ صاحبؒ جن نادر خصوصیات کے حامل تھے اور جو نہایت اہم ممیّزات آپ کے وجود میں جمع تھیں، حقیقت یہ ہے کہ اب دور دور تک ایسا کوئی جامع الصفات والکمالات شخص نظر نہیں آرہا ہے۔
میں نے تاحال مختصر اور مفصل ایک سو سینتیس (137)کتابیں لکھی ہیں لیکن کسی کتاب کا انتساب ، جیسا کہ ایک طریقہ ہے کبھی کسی کی ذات کے ساتھ نہیں کیا، لیکن اپنی تحریر’’وہ لوگ جنہیں میں نے دیکھا‘‘ کو مولانا کی ذاتِ گرامی کے ساتھ منسوب کیا۔ بلاشبہ وہ مجھ جیسے نہ جانے کتنوں کے لئے خضرِ راہ تھے، وہ اپنی ذات میں اک انجمن تھے، ایک اسکول تھے، ایک مدرسہ تھے۔ کتنوں کو قلم پکڑنا اور کتنوں کو لکھنا سکھایااور بے شمار خوش قسمت لوگوں کو مضمون نگارہی نہیں بلکہ مصنف بنا دیا۔
 آپ کی مجلس میں علمی، ادبی اور اس کے متعلقات پر دنیا جہاں کی جتنی سیر حاصل، نہایت معلومات افزا اور نئے نئے گوشوں پر گفتگو ہوتی تھی کہیں اور سے نہیں ملتی تھیں۔ میں کیا عرض کروں، مجھے حیران چھوڑ کر رخصت ہوگئے۔معروف عالم دین اور مسلم پرسنل لاء بورڈ رکے رکن مولانا ندیم الواجدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ مولانا نسیم اختر شاہ قیصرکی وفات سے دیوبند کے علمی اور دینی حلقوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہواہے، ہم دوں نے بڑا وقت ساتھ گزارا ہے، بہت سے پروگرام ساتھ کئے ہیں،
آج میں خود کو اس بھری بزم میں تنہا محسوس کررہاہوں،ان کی وفات نے میرے دل و دماغ کی دنیا تہ و بالا کردی ہے، سمجھ میں نہیںآرہاہے ان کے بارے میں کیا لکھوں ،کیا کہوں، اللہ تعالی نے انہیں بڑی خوبیوں سے اور بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا، وہ ایک بہترین ادیب ،زبردست خطیب اورقابل استاذ تھے، اس طرح صلاحتیں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں، پھر تواضع ،انکساری، سادگی،خوش مزاجی ،ملنساری اور بہترین اخلاق ،یہ وہ اوصاف تھے جو ان کے اندر اس طرح رچ بس گئے تھے کہ ان کے اوصاف کے بغیر ہم مولانا نسیم اختر شاہ کا تصور نہیں کرسکتے تھے، ان کے دم سے دیوبند کی کئی مجلسیں آباد تھیں، دارالکتاب احقر کے پاس ان کی آمدو رفت کثرت سے رہی،ان کی باتیں ،ان کے قہقہہ جو کل تک ہماری محفلوں میں گونجتے تھے، اب قصہ ٔ یار بن گئے ہیں،
ہمارے دلوں کی دنیا سونی کرکے وہ تہہ خاک جاکر سو گئے ہیں،اللہ تعالیٰ انہیں وہاںکی راحتیں عطا فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند کے شیخ الحدیث و مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کشمیری نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ صاحب کی وفات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ مجھ سے چند ماہ بڑے تھے اور بچپن سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں تھے۔
 ان کے مشورے ہمارے بہت کام آتے۔ مولانا کشمیری نے کہا کہ مولانا نسیم صاحب اپنے والد کی طرح انشا پردازی اور مضمون نگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان کی تحریریں نگاہوں کو پکڑ لیتی تھیں۔ متعدد کتابیں انہوں نے یادگار چھوڑی ہیں۔ مولانا کشمیری نے کہا کہ مولانا نسیم صاحب بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ کثیر الاحباب اور کثیر المجالس تھے۔ ان کا حلقۂ احباب کافی پھیلا ہوا تھا۔ ان کی وفات سے دل بے حد غمگین ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
عاشق ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا کی وفات حسرت آیات کی المناک خبر سن کر بڑا دکھ ہوا۔ وہ مشہور و معروف قلمکار اور نامور مصنف تھے،مختلف موضوعات پر ان کی تصانیف موجود ہیں جنھوں نے علمی و ادبی حلقوں میں خوب داد و تحسین حاصل کی ہے، دارالعلوم وقف دیوبند نے علم وعمل اور فضل وکمال، کے حامل افراد کا جو قافلہ تیار کیا تھا،مولانا بھی اس قافلے کے ہم سفر تھے اور انہوں نے ایک لمبے عرصے تک مسلسل اس کے لیے خدمات سرانجام دی ہیں۔
 اس لیے میں دارالعلوم وقف دیوبند کو اس کے ایک مایہ ناز سپوت کی وفات پر تعزیت کا حقدار سمجھتا ہوں اور مولانا کے پورے خاندان ، دارالعلوم وقف دیوبند کے منتظمین ، اساتذہ اور طلبہ خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت وغفران ورضوان میں جگہ عطا فرمائے اور امت میں ایسے افراد زہاد پیدا فرمائے جو دین کی خدمت کا فریضہ اسی طرح ادا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اہل وعیال اور متعلقین کرام پر ہمیشہ اپنے فضل وکرم کا سایہ رکھے۔
مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور نے بڑے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا رحمہ اللہ علیہ کی وفات علمی دنیا اور دارالعلوم وقف دیوبند کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا اور آپ گوناگوں صفا ت کے مالک تھے۔مولانا سے ناچیز کو دیرینہ تعلقات اور ایک قلبی ربط حاصل رہا، ہر حاضری اور ملاقات کے موقع پر مولانا جس شفقت سے برتاؤ فرماتے تھے، اس کا دل پر گہرا نقش ہے، مولانا واقعی علم وتحقیق، تحریر وبیان، حق گوئی وبے باکی اور عزم وہمت میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے، علم وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ایک اونچے مقام پر فائز تھے،بلاشبہ یہ غم بہت صبر آزما ہے۔
 اللہ تعالیٰ مولانا کی کامل مغفرت فرما کر درجات عالیہ سے نوازے اور آپ حضرات اور ہم سب پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔مولانا کی وفات پر جامعہ رحمت گھگھرولی میں تعزیتی نشست ہوئی جس میں مولانا مرحوم کے لیے ایصال ثواب اور دعاے مغفرت اور پس ماندگان ومتعلقین کے لیے صبر کی دعا کی گئی۔ جامعہ امام محمد انور کے نائب ناظم تعلیمات و استاذِ حدیث مولانا سید فضیل احمد ناصری نے کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ صاحب کی اچانک وفات نے پورے وجود کو لرزا کر رکھ دیا۔ وہ ایک عظیم انسان اور زبردست شخصیت تھے۔
 مولانا ناصری نے کہا کہ میں نے مولانا کو قریب سے دیکھا۔ وہ لوگوں کے کام آنے کو اپنا نصب العین سمجھتے۔ ان کی کشادہ دستی بھی ایک مثال ہے۔ وہ لکھنے پڑھنے اور تقریر و خطابت میں مطاع سمجھے جاتے تھے۔ ان کے جانے سے ہم نے اپنا ایک مخلص کھو دیا ہے۔ ان کی یاد برابر آتی رہے گی۔ جامعہ کے استاذِ حدیث مولانا ابوطلحہ اعظمی نے کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ صاحب جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنی خاندانی نسبت اور نجابت کے باوجود سادگی و تواضع کے آئینہ دار تھے۔
 ان کی مجلسوں سے میں نے بڑا فائدہ اٹھایا۔خانوادۂ انوری کے چشم وچراغ ، ادیب وانشاپرداز اور دارالعلوم دیوبند وقف کے قدیم استاذ مولاناسیدنسیم اخترشاہ قیصر کی وفات حسرت آیات کی خبر ملتے ہی یہاں جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں غم کی لہردوڑگئی جہاں ایصال ثواب کرکے مرحوم کے لئے دعاء مغفرت کی گئی ہے ، دریں اثنا جامعہ کے شیخ الحدیث اور ناظم مولانامفتی خالدسیف اللہ نقشبندی نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے  کہا کہ مولانانسیم اختر شاہ قیصر قلندرانہ صفات کے حامل ایک مرنجامرنج انسان تھے وہ دین وادب کے مبلغ اور قلم وکتاب کے دھنی تھے۔
انھیں تقریروتحریر پر یکساں عبور حاصل تھا خداوندقدوس انھیں اپنا جوار نصیب فرمائے۔جامعہ اشرف العلوم رشیدی کے مدرس حدیث اور ماہ نامہ صدائے حق گنگوہ کے مدیر مفتی محمدساجدکْھجناوری نے مرحوم کی شخصیت وخدمات کے ذیل میں کہا کہ وہ نہایت خوش طبع خوش فکر اور خوش گفتار انسان تھے ، ان میں کمال کی سادگی اور غایت درجہ تواضع کے باوجود خودداری اور عزت نفس کا جوہرموجودتھا۔سینئر صحافی اشرف عثمانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر میرے بچپن کے دوست اور رشتہ دار تھے انہوں نے کم سنی سے کاغذ قلم سنبھال لیا تھا ۔وہ نہایت پختہ کار قلمکار اور استاذ حدیث تھے ۔
مولانا نسیم اختر کی تحریروں میں برجستگی کے ساتھ بر محل الفاظ کاانتخاب اور اثر پذیری بلا کی تھی۔ہم جیسے نہ جانے ان کے کتنے ہم عصروں نے ان کی نقل وحرص میں اردو لکھنے کی کوشش کی ۔نسیم اختر کا اچانک اس دار فانی سے چلا جانا نہ صرف میرے لئے بلکہ پوری علم ادب کی دنیا کے لئے ناقابل تلافی نقصان اور باعث رنج وعلم ہے ۔یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ مولانا سید نسیم اختر شاہ کا انتقال پر ملال کی اچانک ملنے والی اطلاع سے جو صدمہ پہنچا اسکو ظاہر کرنا میرے بس سے باہر ھے۔
علمی دینی مذہبی وقلمی حلقوں میں ان کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جائے گا لیکن ان سب سے ہٹ کر ان کی وفات میرے لئے ایک ذاتی صدمہ ھے وہ میرے ہم عمر بھی تھے ہمعصر بھی اور ایک دو سال ہم درس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ میں جب بھی دیوبند جاتا تو نسیم اختر سے ملاقات ضرور ہوتی کیونکہ وہ روزانہ شام کو دیوبند نیوز کے دفتر آتے جو میرے گھر سے متصل تھا رضوان سلمانی عارف عثمانی اطہر عثمانی مولوی راشد کبھی کبھی فہیم اختر صدیقی عمر الہی اور دیوبند کے دوسرے بہت سے ادبی وصحافتی اور مجلسی ذوق کے حامل افراد اس محفل کا حصہ ہوتے۔
 شاہ صاحب سے ملک وملت کے سنجیدہ مسائل پر گفتگو بھی ہوتی’ خوش گپیاں بھی ہوتیں’ فلک شگاف قہقہے بھی ہوتے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے انکی سیآت کو حسنات سے تبدیل فرماکر ان کو اجر عظیم اور جزائے جزیل عطا فرمائے۔ انکی دینی’ فکری’ ملی، شخصی ومذہبی تحریر وں کو قبولیت سے نواز کر انکے لئے ذخیرہ آخرت بنائے پسماندگان کو صبر جمیل اور ملت اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین۔
عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی ،جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید ،ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعید اور مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی،ا سپرنگ ڈیل پبلک اسکول کے چیئرمین سعد صدیقی نے مولانا نسیم اختر شاہ کے انتقال کو ایک بڑا علمی و ادبی خسارہ قرار دیا اور کہاکہ مولانا نسیم اختر دیوبند کی علمی اور ادبی محفلوں کی رونق تھیں، یقینی طور پر ان کے انتقال سے علم و ادیب کے میدان میں گہرا نقصان پہنچاہے۔ کل ہند رابطہ مساجد کے جنرل سکریٹری مولانا عبداللہ ابن القمر،نسیم انصار ایڈوکیٹ،عیدگاہ وقف کمیٹی کے سکریٹری مولوی انس صدیقی ،ڈاکٹر شمیم دیوبندی ،حافظ عمر الٰہی سمیت کی شہر سرکردہ شخصیات اور نامور علماء کرام نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و الم کااظہار کیا۔