مولانا نسیم اختر شاہ قیصر ؒکے سانحۂ وفات پردارالعلوم وقف دیوبند میں تعزیتی مجلس منعقد
دیوبند،12؍ستمبر
(رضوان سلمانی) دارالعلوم وقف دیوبند کے قدیم استاذ جناب مولانا نسیم اختر شاہ قیصرمعمولی علالت کے بعد انتقال کرگئے، ان کی وفات کی خبر سے دارالعلوم وقف دیوبندکی فضاء مغموم والمناک ہوگئی ، ذمہ داران ادارہ ، اساتذہ وطلبہ انتہائی رنجیدہ نظرآئے ، فوراً دارالحدیث اور اطیب المساجد تحتانی میں ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا ، بعد عشاء رات تقریبا گیارہ بجے مزار انوری میں ان کی تدفین عمل میں آئی ، صبح دارالحدیث فوقانی میں تعزیتی نشست وایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا
جس میں ادارہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی نے طلبہ کو صبر اور ایصال ثواب کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا سامنا ہر ذی روح کو کرنا ہے، اور جب اس کا وقت موعود آجاتا ہے تو اس میں ایک لمحہ کے لئے بھی تقدم وتأخر نہیں ہوتا،اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔
لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی وفات سے پوری فضاء سوگوار ہو جاتی ہے، ہر فرد مغموم نظر آتا ہے، ان ہی افراد میں سے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر بھی تھے، جن کی رحلت نے ہر ایک کو سوگوار کردیا ہے، وہ دارالعلوم وقف دیوبند کے ابتدائی زمانے سے ہی استاذ تھے،
دارالعلوم وقف دیوبند میں ان کی تدریس کا ایک طویل دورانیہ ہے، تدریس کے ساتھ انہوں نے مختلف مواقع پر مختلف ذمہ داریاں بھی نبھائیں ، ادارہ ان کی تمام خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے انہیں خراج عقیدت وخراج تحسین پیش کرتا ہے، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر اپنی سادگی، تواضع، عاجزی، کسر نفسی مزاج میں سلامتی وخودداری اور صالح جذبات کے غیر معمول عناصرکی بناء پر دوسروں سے ممتاز تھے، بلکہ ان کے مزاج کی سادگی ، وضع داری اکابرین کی محبت صالح سے مزین تھی ۔
بلکہ وہ ایک شگفتہ وسنجیدہ زندہ دل شخصیت اور ایک ایسا بیش بہا گوہرتھے جنہیں ہمیشہ یا دکیا جاتا رہے گا ۔وہ اپنے چھوٹوں کے لئے انتہائی مشفق اور ہمدردراہنما اور بڑوں کے انتہائی مؤدب،گویا،وہ ایک بذلہ سنج اور ہردلعزیز شخصیت کے مالک تھے ان کی پوری زندگی جہد مسلسل، عمل پیہم، صبر و ایثار اور علمی و علمی تحریک سے عبارت تھی،انہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ اپنے والد مرحوم مولانا سید ازہر شاہ قیصر صاحب ؒکی قلمی وادبی میراث کی بھی بخوبی حفاظت بلکہ اس کی آبیاری کی ، اور وہ ملک میں شستہ قلم کار کی حیثیت سے ممتاز ومتعارف ہوئے ،ہندوستان کے مختلف اخبارات ورسائل میں ان کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے اور پڑھے جاتے تھے، ساتھ ہی وہ متعدد کتب کے مصنف ومرتب بھی تھے گویا وہ ایک ممتاز ادیب، علم و فضل کے یگانہ روزگار تھے
، زبان میں شیرینی و شگفتگی کے ساتھ مضامین میں بندش منطقی انداز کی تھی، ان کی تحریریں ہر طبقہ میں پڑھی بھی جاتی تھیں اور مقبول بھی تھیں، حق تعالیٰ ان کی مغفرت کاملہ فرمائے اور اعلیٰ علیین میں مقام کریم عطا فرمائے۔مہتمم ادارہ مولانا محمدسفیان قاسمی کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔اس موقع پرذمہ داران ادارہ کے علاوہ جملہ اساتذہ ٔ کرام وکارکنان ادارہ بطور خاص موجود رہے ۔
