کھرگون میں بدامنی اور تشدد کو لے کر بی جے پی کو بنایانشانہ
میں یف آئی آر سے نہیں ڈرتا۔ڈگ وجے سنگھ
نئی دہلی: 15؍اپریل
(اے ایم این ایس)
کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق سی ایم ڈگ وجے سنگھ نے بی جے پی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کھرگون میں بدامنی اور تشدد کو لے کر سوشل سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ بی جے پی جانتی ہے کہ پتھر پھینکے بغیر کرسی نہیں ملتی۔ اس لیے کبھی جذبات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی زندگی کو ہتھیار کے طور پر۔ فرقہ وارانہ جنون بی جے پی کا سب سے خطرناک سیاسی ہتھیار ہے۔
اپنے ٹویٹر ہینڈل پر انہوں نے کہا کہ جس ضلع میں فسادات ہوں گے اس کے لیے ضلع کلکٹر اور ایس پی پوری طرح ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ یہ پیغام دیں تو کبھی فساد نہیں ہو سکتا۔ ڈگ وجے سنگھ نے یہ بھی کہا کہ میرے 10 سال کے دور میں ایک بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔
https://twitter.com/digvijaya_28/status/1514748453322391556
غور طلب بات یہ ہے کہ ڈگ وجئے سنگھ نے کھرگون میں بدامنی اور تشدد کو لے کر سوشل سائٹ ٹوئٹر کے ذریعےآج پھر سخت تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے فرقہ وارانہ جنون کو بی جے پی کا سب سے خطرناک ہتھیار بتایا ہے۔ اس سے قبل ڈگ وجے سنگھ نے ٹوئٹر پر ایک متنازعہ پوسٹر پوسٹ کیا تھا، جس کے بارے میں بی جے پی نے ان پر کئی الزامات لگائے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو بند کرنے کی بات ہوئی۔
जिस ज़िले में दंगा होगा उसकी पूरी जवाबदेही ज़िला कलेक्टर व एसपी की होगी, यदि यह संदेश मुख्यमंत्री दे दें तो कभी दंगा नहीं हो सकता।
मेरे १० वर्षों के कार्यकाल में एक भी सांप्रदायिक दंगा नहीं हुआ।
2/n@INCMP @OfficeOfKNath— digvijaya singh (@digvijaya_28) April 14, 2022
کھرگون تشدد کیس میں غلط فوٹو پوسٹ کرنے پر ڈگ وجے سنگھ کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے سی ایم شیوراج سنگھ چوہان نے خود انہیں تشدد بھڑکانے والا شخص کہا ہے۔ تاہم اس سب کے بعد بھی دگ وجے سنگھ کا رویہ نرم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ وہ ایف آئی آر سے نہیں ڈرتے۔
ڈگ وجے سنگھ نے ایک سینئر صحافی لجاشنکر ہردینیا جی بھوپال کے سینئر صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ ہمیشہ فرقہ وارانہ نظریے کے خلاف رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پنڈت دوارکا پرساد مشرا کہا کرتے تھے کہ ریاست میں کوئی فساد نہیں ہو سکتا جب تک وزیر اعلیٰ نہ چاہیں۔
