ماسک نہ پہننے پر ہاتھ اور پیر میں آہنی کیل ٹھونکنے کا الزام۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی تردید

تازہ خبر قومی

بریلی:27؍مئی
(زین نیوز)
یوپی کے بریلی سے دلخراش تصاویر سامنے آئی ہیں۔ جہاں ایک شخص نے براداری پولیس اسٹیشن کے علاقے میں پولیس چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

ضلع کے جوگی نوڈا علاقہ کے رہائشی 28 سالہ رنجیت نے صبح کے وقت ضلعی پولیس چیف کے دفتر پہنچ کرہنگامہ برپا کردیا۔ماسک نہ پہننے پر حراست میں لئے جانے کے بعد پولیس کی جانب سے اس کے ہاتھ بازو اور ٹانگ میں کیل ٹھونکنے کا مبینہ طور یہ الزام لگایا اور یہ بھی کہاکہ پولیس نے ا س کو بے دردی سے پیٹااور اس کے ہاتھوں اور پیروں میں آہنی کیل ٹھونک دئیے

اسی کے ساتھ ہیسینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) روہت سنگھ ساجوان نے کہا کہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رنجیت کا الزام جھوٹا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شخص ایک سازش کے تحت پولیس پر اس طرح کے الزامات لگا رہا ہے۔ ایس ایس پی نے کہا ہے کہ یہ شخص اپنے درج مقدمہ سے بچنے کے لئے یہ کام کر رہا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ مزدور عادی شرابی ہے۔ بارداری تھانہ انچارج (ایس ایچ او) سیتاشو شرما کے مطابق 24 مئی کو رنجیت کو کانسٹیبل ہریوم نے اس وقت روکا جب وہ شراب پی کر نشہ میں گھوم رہا تھااور انے ماسک کا استعمال نہیں کیاتھا۔

 

یہ بھی پڑھیں :  مطلوب مفرور ہندستانی ہیروں کے تاجر میہل چوکسی ڈومینیکا میں گرفتا  

جب کانسٹبل ہریوم نے دریافت کیا تو اس نے مبینہ طور پر اسے گالیاں دینا شروع کردیا۔ جب کانسٹیبل نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو رنجیت نے مبینہ طور پر ہریوم کو نشانہ بنایا۔

اسی دن 28 سالہ رنجیت کے خلاف براداری اسٹیشن میں دفعہ323 رضاکارانہ طور پر تکلیف پہنچانے 504امن کی خلاف ورزی کرنے‘ جان بوجھ کر توہین 506 جرمانہ دھمکی353 حملہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • آئی پی سی کے تحت سرکاری ملازم کو اپنی ذمہ داری نبھانے سے روکنے کے لئے مجرمانہ قوت کا استعما ل دفعہ332 اور 270 ایک جان لیوا بیماری یپنڈیمک ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے

گلے ہی دن پولیس نے رنجیت کو پکڑنے کے لئے اس کے گھر پر چھاپہ مارا لیکن وہ فرار ہوگیا۔ پولیس نے ان کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اپنے طرز عمل میں بہتری لانے کے بعد حراست میں لیا جائے گا۔