نئی دہلی:14؍جولائی
(زین نیوز)
جج کی شکایت پر ہفتہ کی رات ایک آئی اے ایس عہدیدار کو گرفتار کرلیا گیاجو ایک خاتون کو دھمکانے اور جعلسازی کے دوالزامات میں ماخوز ہے۔ 51 سالہ سنتوش ورما پر الزام ہے کہ اس نے جعلی دستاویزات کو ریاستی کیڈر سے آئی اے ایس میں ترقی دینے کے لئے استعمال کیا۔
یہ پہلا موقع ہے جب کسی آئی اے ایس افسر کو مدھیہ پردیش میں اس طرح کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ایس پی آشوتوش باگری نے بتایا کہ بیوروکریٹ کے خلاف شکایت جوڈیشل مجسٹریٹ (فرسٹ کلاس) بجیندر سنگھ راوت نے کی تھی ، جواس کے خلاف مندرج مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے۔
ایس پی باگری نے بتایاکہ سنتوش ورما کے ساتھ ایم جی روڈ پولیس نے 12 گھنٹے طویل تفتیش کی جن کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات 420 ، 467،468 ، 471 اور 120-B کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔یہ دفعات دھوکہ دہی ، جعلسازی ، مجرمانہ سازش ، جعلی دستاویزات کی تیاری و استعمال کرنے کے الزامات سے تعلق رکھتے ہیں۔تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ سنتوش ورما نے آئی اے ایس کیڈر میں اپنی ترقی کے جو احکامات پیش کیے تھے اس تاریخ کوڈسٹرکٹ رخصت پر تھے ، "
فرضی آئی اے ایس سنتوش ورما کی محبت کی کہانیاں اب مدھیہ پردیش میں ہر زبان ذدعام ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اب تک اس نے اپنی نوکرانی سمیت چار خواتین کو جنسی ہوس کے جال میں بیوی کے نام پر پھانسنے میں توکامیاب رہا مگراس نے ان میں سے کسی کو بھی بیوی کا درجہ نہیں دیا۔یہ شاطرجنسی تسکین کے لۓ شادی کے نام خواتین کو اپنی نشانہ بناتا ۔بعد تسکین کے ان سے علحدگی اس کی فطرت بن گئ تھی۔
جنسی خواہشات کاوہ اس قدر دیوانہ تھا کہ اس نے اپنی نوکرانی کو تک نہیں بخشا
ایسے ہی اور ایک واقعہ میں اسےپولیس اسٹیشن لایاتو اس کےکالے کرتوں کا ایک اور بھانڈہ پھوٹا جس نے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا۔
دراصل یہ شخص جس نے خود کو آئی اے ایس ظاہر کرتا تھا وہ خودساختہ عہدیدار نکلا۔ فرضی دستاویزات بنا کر اس نے ترقی کی حاصل کی تھی جو اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے
یہ بدکردار شہر بدلتے ہی اپنی گرل فرینڈ کو تبدیل کرتا تھاکیوں کہ اس کا ماننا تھا کہ نئی پوسٹنگ کے ساتھ ‘نئی محبت’ کرنا چاہۓ۔ تفتیش میں انکشاف ہواکہ جب سنتوش ورما کو ریوا میں شماریاتی افسر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا ، اس نے اپنی نوکرانی پر نہ صرف ڈورے ڈالےبلکہ اس سےباضانطہ شادی بھی کرلی۔ مگر دن بعد نوکرانی اسے چھوڑ کر چلی گئ۔
اور سنتوش ورما کے اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ اسےکچھ نہ کرسکی۔چند دن بعد اس نے ایک اور لڑکی کو بھی اپنے جال میں پھانسا۔

بتایا جارہا ہے کہ جب سنتوش ورما ہردہ پہنچے تو وہ بھی وہاں کی ایک لڑکی کو اپنے جال میں پھانسا۔ کہا جاتا ہے کہ فرضی آئی اے ایس نے اس لڑکی کے لاکھوں روپےہڑپ لئے اور جنسی تعلقات بھی قائم کرلے لیکن شادی سے انکار کردیا
اس کے بعد متاثرہ لڑکی تھانے پہنچی اور سنتوش ورما کے خلاف شکایت درج کروائ جس کے بعد سنتوش ورما کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوا
یہ بات قابل ذکر ہے کہ سنتوش ورما جب دھار میں تعینات تھا تو اس نے اندور کی رہائشی ایک لڑکی کو اس کے محبت کے جال میں پھانس لیا۔ یہ لڑکی ایل آئی سی ایجنٹ تھی۔ چند دن بعد سنتوش نے اس سے شادی کرلی لیکن ساتھ رہنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد لڑکی مشتعل ہوگئی اور اندور کے لاسوڈیا پولیس اسٹیشن پہنچی۔ جب متاثرہ کی شکایت پر تفتیش شروع ہوئی تو سنتوش ورما کے فرضی آئی اے ایس بننے کی کہانی بھی منظرعام پر آگئی۔
جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔اب وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔اس نے خود کو بچانے کے لئے اس نے سی بی آئی اور ویاپم کے خصوصی جج وجندر سنگھ راوت کی جعلی دستخط بھی کی۔
کہ پولیس تفتیش میں سنتوش ورما اپنے اوپر لگے الزامات کی تحقیقات کررہی ہے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس کے خلاف ایک یا دو دن میں معطلی کی کارروائی کی جاسکتی ہے
